چینی نیا سال
چینی نیا سال دنیا کے قدیم ترین اور رنگا رنگ تہواروں میں شمار ہوتا ہے، جسے چین سمیت کئی ایشیائی ممالک میں بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار قمری کیلنڈر کے مطابق منایا جاتا ہے، اسی لیے اس کی تاریخ ہر سال بدلتی رہتی ہے۔ عام طور پر یہ جنوری کے آخر یا فروری کے آغاز میں آتا ہے اور تقریباً پندرہ دن تک جاری رہتا ہے۔
چینی نیا سال کو ”سپرنگ فیسٹیول“ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ موسمِ بہار کی آمد اور نئی زندگی کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس موقع پر لوگ اپنے گھروں کی صفائی کرتے ہیں، پرانی اور ٹوٹی ہوئی چیزوں کو ہٹا دیتے ہیں تاکہ نئے سال میں خوش بختی اور خوشحالی داخل ہو سکے۔ گھروں کو سرخ رنگ کی سجاوٹ، لالٹینوں اور خوش بختی کی تحریروں سے آراستہ کیا جاتا ہے، کیونکہ سرخ رنگ کو خوش قسمتی اور برائی سے حفاظت کی علامت مانا جاتا ہے۔
چینی نیا سال کا ایک اہم پہلو خاندانی ملاپ ہے۔ اس تہوار پر خاندان کے افراد دور دراز سے اکٹھے ہوتے ہیں اور خصوصی عشائیہ کیا جاتا ہے، جسے ”ری یونین ڈنر“ کہا جاتا ہے۔ اس کھانے میں مچھلی، ڈمپلنگز اور چاول کے پکوان خاص طور پر شامل ہوتے ہیں، کیونکہ یہ خوشحالی، دولت اور ترقی کی علامت ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں کو بڑوں کی طرف سے سرخ لفافے دیے جاتے ہیں جن میں رقم ہوتی ہے، جسے ”ہونگ باؤ“ کہا جاتا ہے اور یہ نیک تمناؤں کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔
تہوار کے دوران شاندار تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں ڈریگن ڈانس اور لائن ڈانس خاص طور پر مقبول ہیں۔ یہ رقص ڈھول اور موسیقی کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں اور ان کا مقصد برے اثرات کو دور کرنا اور خوش قسمتی کو دعوت دینا ہوتا ہے۔ آتش بازی بھی چینی نیا سال کی نمایاں روایت ہے، جسے خوشی کے اظہار اور بدروحوں کو بھگانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
چینی نیا سال کا اختتام ”لینٹرن فیسٹیول“ پر ہوتا ہے، جب رنگ برنگی لالٹینیں روشن کی جاتی ہیں اور آسمان خوشیوں کی روشنی سے جگمگا اٹھتا ہے۔ یہ تہوار صرف ایک نئے سال کا آغاز نہیں بلکہ امید، اتحاد، خوشحالی اور مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔ چینی نیا سال ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ روایات سے جڑے رہتے ہوئے نئے آغاز کو خوش دلی سے قبول کرنا ہی زندگی کی اصل خوبصورتی ہے۔