مجسمہ مسیح نجات دہندہ

مجسمہ مسیح نجات دہندہ
مجسمہ مسیح نجات دہندہ

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں واقع مجسمہ مسیح نجات دہندہ دنیا کے مشہور ترین مجسموں میں شمار ہوتا ہے۔ بلند پہاڑ پر دونوں بازو پھیلائے کھڑا یہ مجسمہِ مسیح دور سے ہی دیکھنے والوں کی توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ اس کی عظیم جسامت، خوب صورت محلِ وقوع اور مذہبی علامت اسے ایک غیر معمولی تاریخی اور ثقافتی مقام بناتی ہے۔ یہ مجسمہ جدید دنیا کے سات عجائبات میں شامل ہے اور برازیل کی شناخت کی نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں برازیل میں مسیحی مذہبی شناخت اور قومی ثقافت کے حوالے سے مختلف خیالات سامنے آ رہے تھے۔ بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں ریو ڈی جنیرو کے پہاڑ پر یسوع مسیح کا ایک بڑا مجسمہ تعمیر کرنے کی تجویز کو فروغ ملا۔ اس منصوبے کا مقصد مسیحی عقیدے کی علامت کے ساتھ شہر کے لیے ایک نمایاں یادگار قائم کرنا تھا۔اس منصوبے کو 1920ء کی دہائی میں عملی شکل دی گئی۔ برازیل کے انجینئر ہائٹر دا سلوا کوسٹا نے اس کی بنیادی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ فرانسیسی مجسمہ ساز پال لانڈووسکی نے مجسمے کی تیاری میں حصہ لیا۔ اس منصوبے میں برازیل اور فرانس کے ماہرین نے مل کر کام کیا، جو بین الاقوامی فنی تعاون کی مثال ہے۔
مجسمہ کورکوواڈو پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے، جو سطحِ سمندر سے تقریباً 710 میٹر بلند ہے۔ اس کی اونچائی تقریباً 30 میٹر ہے، جبکہ اس کے نیچے قائم چبوترے اور بنیاد کی اونچائی الگ شمار کی جاتی ہے۔ دونوں بازوؤں کے درمیان فاصلہ تقریباً 28 میٹر ہے۔اس کی تعمیر میں مضبوط اندرونی ڈھانچے کے ساتھ مسلح کنکریٹ اور صابن کے پتھر کی چھوٹی تختیاں استعمال کی گئیں۔ صابن کا پتھر اپنی نسبتاً نرم ساخت اور تراشنے میں آسانی کی وجہ سے موزوں سمجھا گیا۔ ان چھوٹی تختیوں کو سطح پر لگانے کے عمل میں محنت کشوں نے بڑی باریک بینی سے کام کیا۔مجسمے کی تیاری آسان نہیں تھی۔ اس کے پرزوں اور مواد کو پہاڑ کی چوٹی تک پہنچانا اور وہاں کام کرنا ایک بڑا انجینئرنگ چیلنج تھا۔ بلندی، موسم اور تعمیراتی ضروریات نے اس منصوبے کو مزید مشکل بنا دیا، لیکن بالآخر اسے مکمل کر لیا گیا۔
 اس مجسمہ کا افتتاح 12 اکتوبر 1931ء کو ہوا۔ اس کے پھیلائے ہوئے بازو یسوع مسیح کی محبت، رحمت، قبولیت اور انسانیت کے لیے خیر خواہی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ یسوع مسیح کی تعلیمات محبت، معافی، خدمت اور امن پر زور دیتی ہیں۔ اسی تناظر میں یہ مجسمہ بہت سے لوگوں کے لیے روحانی وابستگی کا مرکز ہے۔یہاں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ مجسمہ کی مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کی ثقافتی اور سیاحتی حیثیت بھی ہے۔ مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اسے دیکھنے آتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس مقام پر شہر کے نظارے، فوٹوگرافی اور تاریخی معلومات کے لیے بھی پہنچتے ہیں۔
مجسمہ کے مقام سے ریو ڈی جنیرو کے وسیع علاقے کا خوب صورت نظارہ دکھائی دیتا ہے۔ شہر کی عمارتیں، خلیج، ساحل اور آس پاس کے پہاڑ اس منظر کو یادگار بناتے ہیں۔ اس کا بلند مقام اسے شہر کے کئی حصوں سے نمایاں کرتا ہے، خصوصاً جب موسم صاف ہو۔یہ مقام سیاحت کے لیے اس قدر اہم ہے کہ ہر سال بڑی تعداد میں مقامی اور غیر ملکی سیاح یہاں پہنچتے ہیں۔ پہاڑ تک پہنچنے کے لیے سڑک اور دیگر سیاحتی سہولتیں موجود ہیں۔ تاہم، موسم کی خرابی یا زیادہ رش کے باعث رسائی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ہوا، بارش، نمی، بجلی اور دیگر قدرتی عوامل مجسمے کی سطح کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے اس کی باقاعدہ مرمت اور صفائی ضروری ہے۔ بجلی گرنے سے بعض اوقات اسے نقصان بھی پہنچا ہے، جس کے بعد مرمتی کام کیا گیا۔ مجسمے کی بیرونی تہہ اور اندرونی ساخت کی دیکھ بھال کے لیے ماہرین مسلسل اقدامات کرتے ہیں۔
2007ء میں جدید دنیا کے سات عجائبات کی فہرست میں شامل ہونے سے اس کی عالمی شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔ یہ اعزاز عوامی ووٹنگ پر مبنی ایک عالمی انتخاب کا حصہ تھا، جبکہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہونا الگ عمل ہے۔مجسمہ مسیح نجات دہندہ فنِ تعمیر، انجینئرنگ، مذہبی عقیدے اور ثقافتی شناخت کا ایک منفرد امتزاج ہے۔ اس کے پھیلے ہوئے بازو انسانیت کو محبت، امن اور امید کا پیغام دیتے ہیں۔ یہ یادگار اس بات کی مثال ہے کہ کوئی تعمیر صرف پتھر اور کنکریٹ سے نہیں بنتی، بلکہ اس کے ساتھ وابستہ خیالات اور انسانی جذبات بھی اسے معنویت عطا کرتے ہیں۔ آج یہ مجسمہ برازیل کی پہچان ہونے کے ساتھ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک متاثر کن مقام ہے۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup