لندن کا سب سے چھوٹا مجسمہ
لندن دنیا کے اُن شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں تاریخ ہر گلی، ہر دیوار اور ہر پتھر میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ شاہی محلات، عظیم الشان پل، بلند و بالا یادگاریں اور عالمی شہرت یافتہ عجائب گھر اس شہر کی پہچان ہیں۔ مگر ان تمام عظیم نشانیوں کے بیچ، لندن کی ایک تنگ اور نسبتاً خاموش گلی میں ایک ایسا ننھا سا مجسمہ بھی نصب ہے جو اپنے قد سے کہیں زیادہ بڑا پیغام رکھتا ہے۔ یہ لندن کا سب سے چھوٹا مجسمہ ہے، جس میں دو چوہوں کو پنیر کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک دلچسپ اور معصوم منظر معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی کہانی نہایت دردناک اور سبق آموز ہے۔
یہ واقعہ ہمیں انیسویں صدی کے وسط، یعنی 1860 کی دہائی میں لے جاتا ہے، جب صنعتی انقلاب کے زیرِ اثر لندن تیزی سے پھیل رہا تھا۔ فلپوٹ لین میں ایک بڑی عمارت کی تعمیر جاری تھی۔ اس زمانے میں تعمیراتی کام نہایت خطرناک ہوا کرتا تھا، حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے، اور مزدور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر روزگار کماتے تھے۔ انہی مزدوروں میں دو ایسے افراد بھی شامل تھے جو دن بھر کی مشقت کے بعد ایک دوسرے کے سہارے کام کرتے تھے۔
ایک دن دوپہر کے وقت، جب مزدور مختصر وقفے میں اپنا کھانا کھا رہے تھے، ان میں سے ایک مزدور نے دیکھا کہ اس کا پنیر والا سینڈوچ غائب ہے۔ دن بھر کی تھکن، بھوک اور ذہنی دباؤ نے اس کے حواس پر پردہ ڈال دیا۔ اس نے بغیر کسی تحقیق یا تصدیق کے یہ فرض کر لیا کہ اس کا ساتھی ہی سینڈوچ لے گیا ہے۔ ایک معمولی سا شبہ، جو بآسانی بات چیت سے حل ہو سکتا تھا، بدگمانی میں بدل گیا۔
باتوں باتوں میں تلخ جملے ادا ہونے لگے، آوازیں بلند ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔ دونوں مزدور غصے اور انا کے اسیر ہو چکے تھے۔ انہیں اس بات کا احساس ہی نہ رہا کہ وہ ایک بلند تعمیراتی تختے پر کھڑے ہیں، جہاں ایک لمحے کی لغزش بھی موت کا سبب بن سکتی ہے۔ ہاتھا پائی کے دوران توازن بگڑا، اور پھر وہ لمحہ آیا جس نے سب کچھ بدل دیا۔ دونوں مزدور تختے سے پھسل کر نیچے جا گرے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
جب دوسرے مزدور جائے حادثہ پر پہنچے تو فضا میں سناٹا چھا گیا۔ اچانک ایک کونے میں نظر پڑی تو دو چوہے بے خوف ہو کر کچھ کھا رہے تھے۔ قریب جا کر دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ اسی پنیر کے سینڈوچ کو کھا رہے تھے، جو اس تمام جھگڑے کی بنیاد بنا تھا۔ حقیقت عیاں ہو چکی تھی، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایک معمولی سی غلط فہمی، ایک بے جا الزام، دو قیمتی انسانی جانوں کی قیمت پر واضح ہوئی۔
اسی دردناک واقعے کو فراموش ہونے سے بچانے کے لیے بعد ازاں یہ ننھا سا مجسمہ بنایا گیا۔ دو چوہے، جو پنیر کھا رہے ہیں، دراصل انسان کی جلد بازی، غصے اور عدم برداشت کی علامت بن گئے۔ یہ مجسمہ کسی فاتح بادشاہ یا عظیم جنگ کی یادگار نہیں، بلکہ ایک خاموش نصیحت ہے جو ہر گزرنے والے سے کچھ کہتی ہے۔
لندن کا یہ سب سے چھوٹا مجسمہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی میں اکثر بڑے سانحات چھوٹی غلطیوں سے جنم لیتے ہیں۔ غصہ، بدگمانی اور بے صبری انسان کو اندھا کر دیتی ہے، اور بعض اوقات ایک لمحے کا فیصلہ پوری زندگی یا کئی زندگیاں ختم کر دیتا ہے۔ یہ مجسمہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم بات کو سنیں، حقیقت کو پرکھیں اور جذبات کے بجائے عقل سے کام لیں۔یوں لندن کی ایک خاموش گلی میں نصب یہ ننھی سی یادگار ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ کبھی کبھی صبر، برداشت اور سمجھداری ہی سب سے بڑی انسانیت ہوتی ہے۔