پلاسٹک سے پاک زندگی

پلاسٹک سے پاک زندگی
پلاسٹک سے پاک زندگی

پلاسٹک نے جدید زندگی کو سہل ضرور بنایا ہے، لیکن اس کا بے دریغ استعمال آج دنیا کے بڑے ماحولیاتی مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیا، خریداری کے تھیلے، پانی کی بوتلیں، کھانے کی پیکنگ اور دیگر مصنوعات میں پلاسٹک کا استعمال اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اس کے مضر اثرات زمین، پانی، ہوا اور جانداروں پر واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ ماہرین ِماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر پلاسٹک کے استعمال میں کمی نہ لائی گئی تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ انسانی صحت، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوگا۔
پلاسٹک کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ قدرتی طور پر آسانی سے ختم نہیں ہوتا۔ پلاسٹک کی بہت سی اقسام کو گلنے سڑنے میں سینکڑوں سال لگ جاتے ہیں۔ اس دوران یہ مٹی، دریاؤں، جھیلوں اور سمندروں میں جمع ہوتا رہتا ہے اور ماحول کو آلودہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پلاسٹک کے فضلے کو ماحولیاتی آلودگی کی ایک اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے۔سمندری آلودگی میں بھی پلاسٹک کا کردار نہایت سنگین ہے۔ ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک سمندروں میں پہنچ جاتا ہے، جہاں مچھلیاں، کچھوے، ڈولفن، پرندے اور دیگر آبی حیات اسے خوراک سمجھ کر نگل لیتے ہیں یا اس میں پھنس کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس سے نہ صرف آبی حیات متاثر ہوتی ہے بلکہ سمندری ماحولیاتی نظام بھی شدید نقصان کا شکار ہوتا ہے۔
پلاسٹک کا مسئلہ صرف ماحول تک محدود نہیں بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ پلاسٹک چھوٹے ذرات، جنہیں مائیکرو پلاسٹک کہا جاتا ہے، میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ ذرات پانی، خوراک اور ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے تحقیق جاری ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ مائیکرو پلاسٹک مستقبل میں صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں پلاسٹک کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بازاروں میں روزانہ لاکھوں پلاسٹک بیگز استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں سے اکثر ایک بار استعمال کے بعد پھینک دیے جاتے ہیں۔ یہ بیگز نالیوں اور سیوریج کے نظام کو بند کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بارشوں کے دوران شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے اور سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کھلے میدانوں میں پلاسٹک جلانے سے زہریلی گیسیں خارج ہوتی ہیں جو ہوا کو آلودہ کرنے کے ساتھ انسانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
اس مسئلے کا حل صرف حکومتی پالیسیوں میں نہیں بلکہ عوامی شعور اور اجتماعی ذمہ داری میں بھی پوشیدہ ہے۔ اگر ہر فرد اپنی روزمرہ زندگی میں چند آسان تبدیلیاں لے آئے تو پلاسٹک کے استعمال میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر خریداری کے لیے کپڑے یا جوٹ کے تھیلے استعمال کیے جائیں، بار بار استعمال ہونے والی پانی کی بوتلیں اختیار کی جائیں، غیر ضروری پلاسٹک پیکنگ سے گریز کیا جائے اور کچرے کو الگ الگ جمع کرکے ری سائیکلنگ کے عمل کو فروغ دیا جائے۔تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں، میڈیا اور مقامی کمیونٹیز بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ آگاہی مہمات، صفائی کی سرگرمیاں، پلاسٹک کے متبادل ماحول دوست مصنوعات کی ترویج اور نوجوانوں کی شمولیت معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ کئی ممالک میں سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی اور ری سائیکلنگ کے مؤثر نظام نے خوش آئند نتائج دیے ہیں، جو دوسرے ممالک کے لیے بھی قابلِ تقلید مثال ہیں۔پلاسٹک سے پاک زندگی کا مطلب یہ نہیں کہ پلاسٹک کا استعمال مکمل طور پر ختم کر دیا جائے، بلکہ اس کا دانشمندانہ، محدود اور ذمہ دارانہ استعمال اختیار کیا جائے۔ جہاں ممکن ہو، دوبارہ استعمال ہونے والی اور ماحول دوست اشیا کو ترجیح دی جائے تاکہ قدرتی وسائل کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
آج ماحول کا تحفظ صرف ماہرین یا حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا فرض ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ عادات میں معمولی تبدیلیاں لائیں اور پلاسٹک کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں تو ہم نہ صرف اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف اور محفوظ بنا سکتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک صحت مند، سرسبز اور پائیدار دنیا چھوڑ سکتے ہیں۔ پلاسٹک سے پاک زندگی دراصل ایک بہتر، محفوظ اور ذمہ دار مستقبل کی جانب اہم قدم ہے۔


 

Daily Program

Livesteam thumbnail