عالمی یومِ اوزون
ہر سال 16 ستمبر کو عالمی یومِ اوزون منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں ہماری زمین کے گرد موجود ایک نہایت اہم قدرتی حفاظتی حصار یعنی اوزون کی تہہ کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔ اگرچہ اوزون فضا میں بہت معمولی مقدار میں موجود ہے، لیکن زمین پر زندگی کے تحفظ میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ یہ سورج سے آنے والی نقصان دہ بالائے بنفشی شعاعوں،
کا ایک بڑا حصہ جذب کرکے انسانوں، جانوروں، پودوں اور ماحولیاتی نظام کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔اوزون آکسیجن کی ایک خاص شکل ہے جس کا کیمیائی فارمولا O3 ہے، جبکہ وہ آکسیجن جسے ہم سانس لینے کے لیے استعمال کرتے ہیں O2 ہے۔ فضا میں موجود تقریباً 90 فیصد اوزون زمین سے تقریباً 10 سے 40 کلومیٹر کی بلندی پراسٹریٹوسفیئر میں پایا جاتا ہے۔ یہی وہ اوزون ہے جو سورج کی نقصان دہ بالائے بنفشی شعاعوں سے زمین کی حفاظت کرتا ہے۔اس کے برعکس، زمین کی سطح کے قریب آلودگی سے بننے والا اضافی اوزون انسانی صحت، پودوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہر اوزون ایک جیسا نہیں؛ بلند فضا میں موجود اوزون ہمارے لیے حفاظتی ڈھال ہے، جبکہ سطحِ زمین کے قریب زیادہ مقدار میں موجود اوزون فضائی آلودگی کا حصہ بن سکتا ہے۔
گزشتہ صدی میں انسانوں نے مختلف صنعتی اور گھریلو مصنوعات میں ایسے کیمیکلز استعمال کیے جو اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچاتے تھے۔ ان میں کلورو فلورو کاربنز (CFCs)خاص طور پر اہم تھے، جو ریفریجریٹرز، ایئر کنڈیشنرز، ایروسول اسپرے اور بعض صنعتی مصنوعات میں استعمال ہوتے تھے۔جب یہ کیمیکلز فضا کی بلند تہوں تک پہنچے تو انہوں نے ایسے کیمیائی ردِعمل کو جنم دیا جس سے اوزون کے سالمات تباہ ہونے لگے۔ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں انٹارکٹیکا کے اوپر اوزون کی شدید کمی کا مسئلہ سامنے آیا جسے عام طور پر ”اوزون ہول“ کہا جاتا ہے۔اوزون کی تہہ کو لاحق خطرے نے دنیا کے ممالک کو ایک مشترکہ کوشش پر متحد کیا۔ 16 ستمبر 1987 کو مونٹریال پروٹوکول پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد اوزون کو نقصان پہنچانے والے کیمیکلز کی پیداوار اور استعمال کو مرحلہ وار کم اور ختم کرنا تھا۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1994 میں 16 ستمبر کو ”عالمی یومِ اوزون“ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تاکہ مونٹریال پروٹوکول کی اہمیت اور اوزون کے تحفظ کے بارے میں عالمی شعور اجاگر کیا جا سکے۔مونٹریال پروٹوکول کو عالمی ماحولیاتی تعاون کی ایک نمایاں کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے دنیا نے اوزون کو نقصان پہنچانے والے متعدد کیمیکلز کے استعمال کو کم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے، جس سے اوزون کی تہہ کو بحالی کی راہ پر ڈالنے میں مدد ملی۔
اگر اوزون کی تہہ کمزور ہو جائے تو زیادہ مقدار میں نقصان دہ UV شعاعیں زمین تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس سے انسانوں میں جلد کے کینسر اور آنکھوں سے متعلق بیماریوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پودوں، سمندری حیات اور دیگر ماحولیاتی نظام بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔اوزون کی حفاظت دراصل انسانی صحت، خوراک، قدرتی ماحول اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کی کوشش ہے۔اوزون کا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ مونٹریال پروٹوکول کے تحت بعد میں ”کیگالی ترمیم“(Kigali Amendment) کے ذریعے ہائیڈرو فلورو کاربنز (HFCs) کو بھی مرحلہ وار کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ HFCs اوزون کو براہِ راست تباہ نہیں کرتے، لیکن یہ طاقتور گرین ہاؤس گیسیں ہیں جو عالمی حدت میں اضافہ کرتی ہیں۔اسی لیے 2026 کے عالمی یومِ اوزون کا موضوع”Global action for a cooler planet“ یعنی ”ٹھنڈے سیارے کے لیے عالمی اقدام“ رکھا گیا ہے۔ اس کا مقصد پائیدارکولنگ ٹیکنالوجی اور عالمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
اوزون کی حفاظت صرف حکومتوں یا سائنس دانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ فرض ہے۔ توانائی کے موثر استعمال، ماحول دوست کولنگ آلات کے انتخاب، غیر ضروری ایروسول مصنوعات سے گریز اور ماحولیاتی قوانین کی پابندی کے ذریعے ہم اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کو ماحول کی حفاظت کے بارے میں تعلیم دیں، کیونکہ آج کے ہمارے فیصلے آنے والی نسلوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوں گے۔عالمی یومِ اوزون ہمیں ایک امید افزا حقیقت یاد دلاتا ہے: جب سائنس، شعور، سیاسی عزم اور عالمی تعاون ایک ساتھ کام کریں تو انسان بڑے ماحولیاتی مسائل کا حل تلاش کر سکتا ہے۔مونٹریال پروٹوکول کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ مشترکہ کوششیں زمین کے مستقبل کو بہتر بنا سکتی ہیں۔اوزون کی تہہ ہماری نظر سے بہت دور ہے، لیکن اس کا تحفظ ہماری زندگی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ آسمان کی اس حفاظتی ڈھال کی حفاظت دراصل زمین پر زندگی کی حفاظت ہے۔
