حیاتیاتی تنوع

حیاتیاتی تنوع
حیاتیاتی تنوع

خدا نے اس کائنات کو بے شمار نعمتوں اور حیرت انگیز تنوع کے ساتھ تخلیق کیا ہے۔ بلند و بالا پہاڑ، سرسبز جنگلات، وسیع سمندر، رنگ برنگے پھول، خوش الحان پرندے، مختلف اقسام کے جانور اور لاکھوں انواع کے پودے اس عظیم تخلیق کا حصہ ہیں۔ اسی تنوع کو حیاتیاتی تنوع کہا جاتا ہے۔ یہ صرف فطرت کی خوبصورتی کا مظہر نہیں بلکہ زمین پر زندگی کے تسلسل اور ماحولیاتی توازن کی بنیاد بھی ہے۔ ہر جاندار، خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، خدا کے تخلیقی منصوبے میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اور پوری تخلیق کے نظام کو متوازن رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
بائبل مقدس ہمیں سکھاتی ہے کہ خدا نے اپنی ہر تخلیق کو اچھاقرار دیا۔تکوین 1:31 میں لکھا ہے کہ ”اور خدا نے اْن سب چیزوں پر جو اْس نے بنائی تھیں نظر کی۔ اور دیکھا کہ بہت اچھی ہیں“۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قدرت کی ہر مخلوق خدا کی محبت اور حکمت کی گواہی دیتی ہے۔ اس لیے جانوروں، پرندوں، درختوں اور پودوں کا احترام کرنا دراصل خالق کے کام کا احترام کرنا ہے۔حیاتیاتی تنوع کا تعلق صرف جنگلات یا جنگلی حیات سے نہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی سے بھی ہے۔ زرعی فصلوں کی پیداوار، صاف پانی، خالص ہوا، ادویات، شہد کی مکھیوں کے ذریعے فصلوں کی افزائش، مٹی کی زرخیزی اور موسموں کا توازن سب کسی نہ کسی انداز میں مختلف جانداروں کی موجودگی پر منحصر ہیں۔ اگر کسی ایک نوع کا خاتمہ ہو جائے تو اس کا اثر پورے ماحولیاتی نظام پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حیاتیاتی تنوع کو زمین کی صحت اور انسانی بقا کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے آج دنیا میں حیاتیاتی تنوع کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی، شہری آبادی میں بے ہنگم اضافہ، صنعتی آلودگی، پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال، غیر قانونی شکار، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل کا غیر ذمہ دارانہ استعمال بے شمار انواع کو معدومی کے دہانے پر لے آیا ہے۔ کئی جانور اور پرندے ہمیشہ کے لیے زمین سے ناپید ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں دیگر انواع خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ صرف ماحول کا نقصان نہیں بلکہ انسان کے اپنے مستقبل کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔
پاکستان بھی حیاتیاتی تنوع سے مالا مال ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ شمالی پہاڑی علاقوں سے لے کر ساحلی خطوں تک مختلف اقسام کے جانور، پرندے، پودے اور آبی حیات پائی جاتی ہے۔ تاہم جنگلات کی کمی، آلودگی، غیر قانونی شکار اور موسمیاتی تبدیلی نے اس قیمتی قدرتی ورثہ کو متاثر کیا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں ان نعمتوں سے محروم ہو سکتی ہیں۔ یہ ذمہ داری آج بھی ہر انسان پر عائد ہوتی ہے۔ ماحول کا تحفظ، درخت لگانا، جانوروں اور پرندوں کے قدرتی مسکن کی حفاظت کرنا، پانی اور توانائی کا دانشمندانہ استعمال کرنا اور آلودگی کو کم کرنا ہماری ذمہ داری کا حصہ ہے۔
مرحوم پوپ فرانسس نے اپنی دستاویز ”لودا توسعی“ میں زور دیا کہ پوری تخلیق ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور زمین ہمارا مشترکہ گھر ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ فطرت کے ساتھ محبت اور ذمہ داری کا رویہ اختیار کرنا خدا اور انسان دونوں کے ساتھ ہمارے تعلق کا اظہار ہے۔ جب ہم ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں تو دراصل ہم خدا کی عطا کردہ نعمتوں کی بے قدری کرتے ہیں۔حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ہر فرد اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ مقامی درخت لگانا، پلاسٹک کے استعمال میں کمی، جنگلی حیات کے تحفظ کی حمایت، پانی اور بجلی کی بچت، ماحول دوست مصنوعات کا استعمال اور بچوں میں فطرت سے محبت پیدا کرنا ایسے اقدامات ہیں جو اجتماعی طور پر بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ چرچ، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں بھی آگاہی مہمات، شجرکاری پروگراموں اور ماحولیاتی تعلیم کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں۔
حیاتیاتی تنوع صرف سائنس کا موضوع نہیں بلکہ ایمان، اخلاق اور انسانی ذمہ داری کا بھی تقاضا ہے۔ خدا نے ہمیں ایک خوبصورت اور متوازن دنیا عطا کی ہے تاکہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں اور اسے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم خدا کی تخلیق کے وفادار نگہبان بنیں گے، فطرت کی حفاظت کریں گے اور اپنی زندگیوں میں ایسے فیصلے کریں گے جو زمین، اس کے جانداروں اور آنے والی نسلوں کے لیے اْمید اور زندگی کا سبب بنیں۔ کیونکہ جب ہم تخلیق کی حفاظت کرتے ہیں تو درحقیقت ہم خالق کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور اس کے عظیم منصوبہ محبت میں شریک ہوتے ہیں۔

Daily Program

Livesteam thumbnail