اگر شہد کی مکھیاں نہ رہیں تو کیا ہوگا؟

 اگر شہد کی مکھیاں نہ رہیں تو کیا ہوگا؟
اگر شہد کی مکھیاں نہ رہیں تو کیا ہوگا؟

صبح کے وقت کسی باغ میں پھولوں پر منڈلاتی شہد کی مکھی کو دیکھ کر شاید ہی کوئی سوچتا ہو کہ یہ ننھی سی مخلوق ہماری خوراک کے نظام میں کتنی اہم ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔ شہد کی مکھی کو عموماً شہد بنانے والے کیڑے کے طور پر جانا جاتا ہے، لیکن اس کا اصل ماحولیاتی کردار اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ پھولوں سے رس اور زرِگل جمع کرتے ہوئے شہد کی مکھیاں ایک پھول سے دوسرے پھول تک زرِگل منتقل کرتی ہیں، اور یہی عمل بہت سے پودوں میں پھل اور بیج بننے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس قدرتی عمل کو پولینیشن یا گردہ افشانی کہا جاتا ہے۔
دنیا میں پائی جانے والی فصلوں کی ایک بڑی تعداد جانوروں کے ذریعے ہونے والی گردہ افشانی سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ شہد کی مکھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن وہ اکیلی نہیں۔ تتلیاں، بھنورے، دوسرے کیڑے، پرندے اور بعض مقامات پر چمگادڑ بھی مختلف پودوں کی گردہ افشانی میں حصہ لیتے ہیں۔ اس لیے جب ہم شہد کی مکھیوں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم ایک پورے نظامِ حیات کے تحفظ کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔
پھولدار پودوں میں نر حصے سے زرِگل مادہ حصے تک پہنچنے کے بعد بیج بننے کا عمل مکمل ہو سکتا ہے۔ بہت سے پھل اور سبزیاں اسی قدرتی عمل سے پیدا ہوتی ہیں۔ سیب، بادام، کدو، کھیرے اور بہت سی دوسری فصلیں جانوروں کے ذریعے ہونے والی گردہ افشانی سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ شہد کی مکھی کے بغیر دنیا کی تمام فصلیں فوراً ختم ہو جائیں گی۔ بہت سی فصلیں ہوا کے ذریعے گردہ افشانی کرتی ہیں، جبکہ کچھ پودے خود بھی پولینیٹ ہو سکتے ہیں۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر اہم پولینیٹرز کی تعداد مسلسل کم ہوتی جائے تو بہت سی فصلوں کی پیداوار، تنوع اور معیار متاثر ہو سکتا ہے۔
شہد کی مکھیوں کی اہمیت صرف ہماری خوراک تک محدود نہیں۔ یہ قدرتی ماحولیاتی نظام میں پودوں کی افزائش میں مدد دیتی ہیں، اور پودے پھر مختلف پرندوں، کیڑوں اور دوسرے جانوروں کے لیے خوراک اور رہائش فراہم کرتے ہیں۔ یوں ایک چھوٹی سی مکھی کا کردار پورے غذائی جال سے جڑ جاتا ہے۔ اگر پولینیٹرز کم ہوں تو اس کے اثرات ایک پودے یا ایک فصل تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے ماحولیاتی نظام میں تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
بدقسمتی سے دنیا کے مختلف حصوں میں شہد کی مکھیوں اور دوسرے پولینیٹرز کو متعدد خطرات کا سامنا ہے۔ قدرتی رہائش گاہوں کا خاتمہ، زرعی زمین کا پھیلاؤ، پھولدار پودوں میں کمی، موسمیاتی تبدیلی، بیماریوں اور بعض زرعی کیمیکلز کا نامناسب استعمال ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ جب کھیتوں، باغات اور شہروں میں مختلف اقسام کے پھولدار پودے کم ہو جاتے ہیں تو مکھیوں کے لیے خوراک کے ذرائع بھی محدود ہو جاتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی بھی اس نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ درجہ حرارت میں تبدیلی اور موسموں کے اوقات میں غیر معمولی فرق بعض پودوں کے پھولنے اور پولینیٹرز کی سرگرمی کے درمیان قدرتی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر پھول معمول سے پہلے کھل جائیں اور پولینیٹرز اس وقت فعال نہ ہوں تو گردہ افشانی کے مواقع کم ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب اور دیگر موسمی واقعات بھی ان جانداروں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
اس مسئلے کا حل صرف شہد کی مکھیوں کے چھتے بچانے تک محدود نہیں۔ ہمیں ان کے لیے خوراک اور رہائش کا ماحول بھی محفوظ بنانا ہوگا۔ گھروں، سکولوں، پارکوں اور باغات میں مقامی پھولدار پودے لگانا ایک آسان قدم ہے۔ مختلف موسموں میں کھلنے والے پودے لگانے سے پولینیٹرز کو سال کے زیادہ عرصے تک خوراک دستیاب ہو سکتی ہے۔
 باغیچے میں ہر جگہ صفائی کے نام پر تمام جنگلی پھول ختم کر دینا بھی ضروری نہیں، کیونکہ بہت سے ایسے پودے شہد کی مکھیوں اور دوسرے حشرات کے لیے خوراک کا ذریعہ بنتے ہیں۔زرعی علاقوں میں بھی ایسے طریقے اپنائے جا سکتے ہیں جو پولینیٹرز کے لیے نسبتاً محفوظ ہوں۔ زرعی کیمیکلز کا محتاط اور ضرورت کے مطابق استعمال، قدرتی رہائش گاہوں کا تحفظ اور کھیتوں کے قریب پھولدار پودوں اور درختوں کی موجودگی حیاتیاتی تنوع کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
شہد کی مکھی ہمیں قدرت کے ایک اہم اصول کی یاد دلاتی ہے: ماحول میں کوئی جاندار غیر اہم نہیں۔ ایک چھوٹی سی مکھی پھول سے رس حاصل کرتی ہے، لیکن اسی سفر میں وہ ایسے عمل میں حصہ ڈالتی ہے جس سے پھل، بیج اور نئی نسل کے پودے وجود میں آتے ہیں۔ اس کے پروں کی بھنبھناہٹ شاید بہت معمولی محسوس ہو، مگر اس کے پیچھے ہماری خوراک اور قدرتی دنیا کا ایک بڑا نظام کام کر رہا ہے۔
اگر ایک دن شہد کی مکھیاں واقعی ہماری دنیا سے غائب ہو جائیں تو زندگی فوراً ختم نہیں ہوگی، لیکن بہت سے ماحولیاتی نظام اور زرعی پیداوار شدید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ اگر شہد کی مکھیاں نہ رہیں تو کیا ہوگا؟ بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم ایسا ماحول کیسے بنائیں جہاں شہد کی مکھیاں اور دوسرے پولینیٹرز ہمارے ساتھ محفوظ طریقے سے زندہ رہ سکیں؟شاید اس کا آغاز ہمارے اپنے گھر، باغ یا محلے میں کھلنے والے ایک چھوٹے سے پھول سے ہو سکتا ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup