مقدس ونسنٹ ڈی پال: رسولِ خیرات

بھورے سرخس گویہ کا ویران علاقہ گاسکونی فرانس میں تھا، یہاں جان  اپنی بیوی  بھرٹیٹ ڈی مورس  ڈی پال   اور اپنے بچوں  جان، برنارڑ، گی یون،  میری، کلوڈین  میری، بیٹوں  کے ساتھ رہتا تھا۔ تاہم  اِس  کے ایک اور بیٹا ونسنٹ تھا جو 24 اپریل 1581 کو پیدا ہوا۔ وہ اُس کا تیسر ا بچہ تھا۔ باپ کسان تھا۔ ونسنٹ  باپ کی مدد کرتا تھا۔ کھتیوں میں کام کرتا تھا مگر خُدا بھی اُس کے ساتھ تھا۔ 
شہرت اور دولت کی تلاش 
ونسنٹ کا خاندان چونکہ غریب تھا۔ اس لئے مالی مشکلات  شکار تھا۔ ابتدائی تعلیم فرانسسکن  راہبوں سے پائی۔ تعلیمی لحاظ سے نہایت ذہن تھا۔ دوران  تعلیم ہی ایک صاحب حیثیت شخص نے اپنے  بچوں  کو تعلیم  دلوانے کے لئے آپ  کی خدمات  حاصل کرلیں۔ اِس  طرح اپنی تعلیم  کے اخراجات  پورے کرکے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ ایک دن  ایک پڑوس عورت  نے ونسنٹ  کی ماں کہا، تمہارا بیٹا لائق ہے تمہارے تین بیٹے کاشت کاری   کے کام کے علاوہ  اور کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔ تم اسے پڑھا کر کاہن کیوں نہیں بناتی۔ ماں خوش رہی، تاہم  دل میں سوچ رہا تھی، بیٹا  کاہن  ہو، خوش قسمتی ہوا۔ تو بشپ اور خاندان کی قسمت بدل جائے گی۔ پھر اُسے قریب کے گاوں ''ڈاسک''  میں تعلیم کے لئے بھیج دیا۔ تعلیمی لیاقت کی بدولت جلد ہی ونسنٹ کو لوگوں کی نظر میں مقبول بنادیا۔ '' ایم –ڈی- کومنٹ''  جو ایک وکیل تھا۔ اُس  کے بچوں کو پڑھانا شروع  کردیا۔ '' کومنٹ '' کی رائے پر ونسنٹ نے کہانت کی تعلیم کا آغاز کیا۔ ونسنٹ کو 15 برس  عمر میں سمنیری  بھیج دیا گیااور اخراجات   پورے کرنے کے لئے اُس کے والدین  نے بیل کو بیچ دیا۔ جوان ونسنٹ کا کہانت  کی تربیت  کا آغاز کیا، تو اُس کو مقصد دولت اور دیگر  فوائد کو حصول تھا تاکہ جلد ''ری ٹار'' ہوکر اپنے خاندان کی مدد کرے گا۔ ایک بار  جب وہ سیمنری  زیرِ تعلیم  تھا تو اُس  کے والد اُسے ملنے کے لئے آئے تاہم ونسنٹ  نے اُن کی ابتر حالت  اور پھٹے ھالوں کے باعث  اُن سے ملنے  سے انکار کردیا۔ 1596 خ س  میں تولوس  کی یونیورسٹی   میں علمِ الہٰیات کی تعلیم کے لئے داخل ہوئے اور  تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ 19 برس  کی عمر میں کاہن بنے۔ کاہن مقرر  ہونے کے بعد ابتدا یں زیادہ تر اُمر اور ممتاز  طبقہ کے لوگوں کو بسر کرتا جہاں اُسے پسند کیا جاتا کیونکہ وہ قابلِ شخص  تھا۔ 23 ستمبر  1600 خ س  19 برس  عمر میں کہانت  پر تقریری کونسل آف ٹرنیٹ  کے قوانین  کے خلاف تھا۔ جس میں کاہن  کی تقریری کی کم از کم  عمر 24 برس  ہے اور جب ''آلے'' کے ایک پیرش  میں پیرش پریسٹ بناگیا گیا تو روم کی عدالت میں چیلنچ کردیا تھا۔  عدالت میں جواب دینے  کے بجائے  فادر ونسنٹ  نے اپنے پیرش  پریسٹ کے منصب  سے استفی ٰ  دے دیا اور مزیدحاصل کرنے کے لئے  پیرش کی یونیورسٹی  داخلہ  لیا اور کلیسیائی قانون میں لائنس کیا۔ 
بحری قزاقوں کا غلام 
1605 خ س  فادر ونسنٹ  ایک بحری سفر سے واپس آرہے تھے جس کا مقصد ایک مدد گار  سے ملنے  والی زمین کی فروخت تھا۔ سمندری سفر میں بحری قزاقوں نے آپ کو گھیرلیا اور غلام بنا کر آپ کو قیونیسیا لے گئے جو شمالی افریقہ میں ہے آپ کو فروخت کردیا گیا۔ متواتر دو برس غلامی میں رہے۔ غلامی میں فادر  ونسنٹ  کا آقا ایک ماہی گیر تھا، چونکہ   ونسنٹ  کو اِس کام  کو کوئی تجربہ  نہ تھا۔ سمندر میں رہنے کے باعث  بار بار بیمار ہوجانے کی وجہ سے ان کے مالک نے انہیں فروخت  کردیا گیا۔ ان کا اگلا مالک ایک کیمیادان کچھ عرصہ بعد اس کا بوڑھا  مالک مرگیا  تو ونسنٹ  کو دوبارہ فروخت  کردیا گیا۔ ان کا نیا مالک  ایک سابق  فرانسسکن کاہن ''گلیومی  گڈزر'' جس کا تعلق ''نائس'' سے تھا۔ غلامی  سے آزادی  حاصل کرنے کے لئے اُس نے اسلام قبول کرلیا تھا، وہ اپنی تین بیویوں کے ساتھ پہاڑوں میں رہتا تھا۔ اُس کی دوسری  بیوی  کو اپنی پیدائش  سے ہی ملم  تھی۔ ونسنٹ  کے پاس کھتیوں  میں گئی  اور اُس کے ایمان  کے متعلق  جاننے کی کوشش  کی اور وہ  قائل ہوگئی کہ فادر ونسنٹ کا مذہب اور ایمان سچا ہے۔ اس نے  اپنے شوہر کو بھی دوبارہ  مسیحیت کی جانب لوٹنے کو کہا۔ اِس دوران اپنی عمل اور موثر  تبلغ کی وجہ سے آپ نے اپنے آقا   کو مسیحی   بنانے  میں کامیاب ہوگئے۔ غلامی کے دوران  فادر ونسنٹ  خُدا سے دُعا کرتا تھا کہ اگر خُدا اُسے غلامی سے رہائی دیتا ہے تو وہ اپنی تمام زندگی  غربیوں  کی خدمت  کے لئے وقف کردیں گے۔ آخر 10 ماہ بعد فادر کا آقا  جو دوبارہ مسیحیت  قبول کرچکا  خاموشی  اپنے غلاموں کو لے کر فرانسس بھاگ جہاں انہیں رہائی ملی۔ 
تبدیل شدہ  فادرونسنٹ 
افریقہ سے بھاگ کر اور غلامی سے رہائی  پاکر 1608  خ س میں آپ پیرش آگئے  جہاں آپ  کو ایک پیرش  میں خدمت  کا ذمہ دیا گیا جہاں آپ نے خاص  طور پر نوجوانوں کے ساتھ مل کر کام کرنا شروع کیا۔ اس دوران  بعض دفعہ آپ کو ایمان کے ھوالے کافی شک و شبہات کا سامنا  
بھی کرنا پڑا۔ روم میں بھی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ روم میں تعلیمی کامیابی  پانے کے بعد فادر ونسنٹ   اپنے وطن   میں بادشاہ  ہنری چہارم  کے دربار  میں کہانت کی خدمات سرانجام  دیتے لگے۔ ان کی شہرت اور مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہونے لگا۔ عرصہ 4 سال کے بعد آپ نے فیصلہ کیا کہ آپ  اُن لوگوں کے ساتھ مل کر کام اور خدمت کریں گے جو سمندری  جہازوں  میں کام کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ کے بعد پیرش  کے ایک پیرش میں خدمت کرنا شروع کی یہاں پر آپ کو احساس ہوا کہ خُدا  خُدا خاص طور پر آپ کو کسانوں کے بچوں  اور نوجوانوں کی خدمت  کے لئے بلارہا ہے۔ 
مذہبی جماعتوں کا قیام
اپنی روحانی بصیرت کی بدولت  فادر ونسنٹ نے فرانس میں مشنری کاموں کے فروغ کے لئے  ایک جماعت قائم کرنے کا ارادہ کیا۔ اس عظیم مشن میں اشرافا  کے خاندان  سے اپنے تعلقات  کا مناسب استعمال کیا۔ ان خاندانوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1617  خ س  میں فادر ونسنٹ  نے دخترانِ  آف چیرٹی  کے نام سے خواتین کی ایک جماعت قائم کردی۔ اس جماعت کے اولین مقصد دریاوں اشخاص  سے مشنری کاموں کے لئے چندہ  جمع کرنا تھا۔ دخترانِ آج چیرٹی کی سسٹرز صاھبات کا مقصدِ حیات روحانی خدمت کے ساتھ ساتھ سماجی  اور فلاح و بہبود  کا کام بھی کرنا تھا۔ 1625 خ س  میں ایک مذہبی جماعت'' مشن  کی راہبانہ جماعت'' قائم کی جس میں بردارز  اور کاہن شامل تھے۔ اِن  کا کام خاص طور پر غریبوں  اور ان پڑھ لوگوں کی خدمت کرنا تھا۔ 1633 خ س  میں پاپائے اعظم کی طرف سے اِس جماعت کو باضابطہ  طور پر قبول کرلیا گیا۔ آج  ان کی مشنری  جماعت کو 'ونسنٹیز' کہا جاتا ہے۔ 
رسولِ خیرات 
غریبوں کے لئے کی گئی آپ کی خدمت کا کوئی شمار نہیں۔ آپ ہر طبقہ  کے لوگوں کے پاس جاتے۔ وارث  اور یتیم  بچوں کی تیمارداری کرتے، غریب بیمار اور ضعیف آپ کی تیمارداری  اور شفقت  سے فیض یاب  ہوتے۔ ان سب کی خدمت  کرکے آپ خُداوند  کی قربت اور بھی زیادہ محسوس کرتے۔ آپ کے کام اُس دور میں انتہائی  متاثر کن تھے اور آپ کو اعلیٰ رتبہ  اور لاثانی خدمت کا فیض حاصل کیا۔ آپ خدمت کو ایک بہترین  مثال  قائم کے بعد 1660 خ س  میں اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ پاپائے اعظم کلمینٹ  بارہویں نے آپ کو 1737 خ س  میں مقدس کا درجہ دیا اور بعد میں پاپائے اعظم لیو تیرہویں نے آپ کو کلیسیاؔ میں انسانی محبت  اور ہمددری  کے کاموں کا مربی قرار دیا۔موت کے وقت آپ کے آخری الفاظ تھے ''یُسوع۔'' اُن کی  موت کا عینی شائد نے گواہی دی۔ '' اپنی موت کے وقت اپنی خوب صورت  روح آپ  خُداوند کو سونپ دی  اور وہاں بیٹھے ہوئے وہ نہایت خوب صورت، شاندار  اور معزز لگے اپنی تمام زندگی  سے زیادہ۔'' 
مقدس ونسنٹ ڈی پال 
آپ فرماتے ہیں '' شیطان  پر غالب آنے کا سب سے طاقت  وار ہتھیار  عاجزی  اور حلیمی ہے۔ کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کیسے اس شخص کو اپنے تابع کرئے اور نہ ہی اُسے سمجھ آتا ہے کہ اپنا دفاع کیسے کرئے۔'' اقدس صحائف  کے معلم فادر  اعظم منشاؔ  کے کالم '' مقدس ونسنٹ ڈی پال ''  (اشاعت  28 ستمبر 2014 خ س)  سے مقدس ونسنٹ، اعلیٰ زندگی متعلق  چند کلمات نقل کررہا ہوں۔ برادر موصوف لکھتے ہیں کہ '' مقدس ونسنٹ ڈی پال کی زندگی و شخصیت  ہمارے دور کے ہر طبقہ کے لئے ایک عمدہ  نمونہ ہے میں یہاں پر چند ایک خوبیاں  ان کے کردار کے حوالہ سے بیان کرنا چاہتا ہوں: 
1۔ منتظم اعلیٰ: بے شک ان پر روح القدس  کے سایہ تھا جس کی بدولت فادر ونسنٹ  نے کاہنوں کی مشنری جماعت، عامتہ المومنین  کی خواتین کے لئے '' لیڈز آف  چیرٹی '' اور راہبات کے لئے '' دختران ِ آف چیرٹی '' کا قیام کیا۔  وہ ایک مدبر منتظم اعلیٰ تھے۔ 
2۔ دانشور:  اگرچہ کلیسیاؔ  کے پاس ان کی تحریر کردہ کتب اور خطوط  کا کوئی جامع ثبوت موجود تو نہیں ہے مگرا ن کے دانشور  انہ اقدامات  سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہر کام میں الہٰی مرضی  کو ترجیج دیتے تھے۔ 
3۔ روحانی تازگی  کے سینٹر کا قیام: افراتفری  کے دور میں ریٹریٹ سینٹر کا قیام فادر ونسنٹ  کا ملکِ فرانس کے مومنین کے لئے ایک نادر تحفہ تھا۔ اس سینٹر  میں مومنین  روحانی تازگی کو حاصل کرتے ہوئے  خُداوند یُسوع  مسیح کے مزید  قریب ہوجاتے تھے۔ 
4۔ بروز منگل  بنیادی مسیحی تعلیم کا دن: فادر ونسنٹ  نے بروز منگل  روحانی اجتماع  کے انعقاد  کا آغاز  کیا۔ اس روز بنیادی  مسیحی تعلیم  کے پہلووں کو اجاگر کیا گیا۔ اس روحانی اجتماع میں بے شمار مومنین شرکت کرتے۔ 
5۔ مشنری  کاموں میں تیزی: فادر ونسنٹ  نے مشنری کاموں میں تیزی پیدا کرتے ہوئے فادروں اور سسٹرز  کی جماعتوں  کی بنیاد رکھی۔ ان کی حوصلہ ہمیشہ بلند رہے۔ وہ اپنے پیرو کاروں کو درس دیتے تھے کہ '' ہمارا مشن  صرف پیرش یا ڈایوسیس  تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں دنیا کی انتہا تک جانا ہے۔''
ونسنٹین روحانیت  کی پانچ خوصیات 
1۔  خُدا دنیا  میں رہتے ہوئے ہمارے راہنمائی کرتا ہے۔ 
2۔ خُدا غریبوں  میں ہمارا انتظار کرتا ہے۔ 
3۔ مسیح یُسوع  ہمیں مشن  میں شرکت  کی دعوت دیتا ہے۔ 
4۔ مسیح دُعا  میں ہمارے ساتھ بیٹھتا ہے۔ 
5۔ مسیح ہمیں خیرات کرنے کا اہل بناتا ہے۔ 
حاصلِ کلام
مقدس ونسنٹ  کے کاہن  اور راہبات  تقریبا  80 ممالک میں خدمات سرانجام  دے رہے ہیں۔ شائد آپ کے حیرت کا باعث ہوتا ہم سوسائٹی آف سینٹ  ونسنٹ ڈی پال کا قیام مقدس ونسنٹ نے نہیں بلکہ  1833 خ س  'فریڈرک  اوزمن ' مبارک نے کیا۔ جو مقدس ونسنٹ  سے محبت  اور لگاو رکھتا تھا کیونکہ وہ خیرات کرنے والوں کا مربی ہے۔ ان کا ماڈل ہے، '' مسیح  کو غریبوں میں  دیکھو اور غریبوں  کے لئے مسیح بنو۔'' آج یہ سوسائٹی  دنیا کے تقریبا 132 ممالک  میں اپنی خدمات  سرانجام دے رہی ہے۔ 
مقدس ونسنٹ  نے انجیلی اقدار کو پیروان چڑھایا۔ وہ انجیل  پر اُس کی اصل روح سے عمل کرتے تھے اور یہی سکھاتے تھے جب ان کی زندگی تبدیل ہوئی تو انہوں خود کو مکمل طور  خُدا اور خُدا کے لوگوں کی خدمت  کے لئے وقف کردیا۔ 

 

Add new comment

13 + 1 =