مقدس توما رسول(شک سے ایمان تک کا عظیم سفر)

مقدس توما رسول، جنہیں عموماً ”شک کرنے والے توما“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، یسوع مسیح کے بارہ رسولوں میں سے ایک تھے۔ تاہم اُن کی زندگی صرف شک کی داستان نہیں بلکہ ایمان، وفاداری، قربانی اور بشارت کی ایک عظیم مثال ہے۔ اُن کا سفر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خدا اپنے منصوبے میں کمزور انسانوں کو بھی استعمال کرتا ہے اور شک کو مضبوط ایمان میں تبدیل کر سکتا ہے۔
اناجیل میں مقدس توما کے ابتدائی حالاتِ زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات موجود نہیں ہیں۔ اُن کا نام ”توما“آرامی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ”جڑواں“ ہے۔ یونانی زبان میں بھی اُنہیں ”دیدیمس“ (Didymus) کہا گیا ہے، جس کا مطلب بھی جڑواں ہے۔ بعض قدیم روایات کے مطابق وہ جلیل کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور ممکنہ طور پر ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ تھے، اگرچہ اس بارے میں قطعی تاریخی ثبوت موجود نہیں۔مقدس توما کا کردار مقدس یوحنا کی انجیل میں خاص طور پر نمایاں نظر آتا ہے۔ جب یسوع نے اپنے دوست لعزر کو زندہ کرنے کے لیے بیت عنیا جانے کا ارادہ کیا، تو شاگردوں کو خطرہ تھا کہ یہودی رہنما اُنہیں قتل کر دیں گے۔ اُس موقع پرمقدس توما نے دوسرے شاگردوں سے کہا:آؤ، ہم بھی چلیں تاکہ اُس کے ساتھ مر یں۔(یوحنا 11:16)یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ نہایت وفادار، دلیر اور اپنے اْستاد کے لیے جان قربان کرنے کے لیے تیار تھے۔
آخری کھانے کے دوران جب یسوع نے فرمایا کہ وہ اپنے باپ کے پاس جا رہے ہیں اور شاگرد اُس راستے کو جانتے ہیں، تو مقدس توما نے بے تکلفی سے سوال کیا:
اے خداوند! ہم نہیں جانتے کہ تْوکہاں جا تاہے تو ہم وہ راہ کیوں کر جانیں؟(یوحنا 14:5)
اس سوال کے جواب میں یسوع نے وہ مشہور الفاظ فرمائے اور کہا:
راہ اور حق اور زندگی میں ہوں۔کوئی میرے وسیلے کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔(یوحنا 14:6)
مقدس توما کا یہ سوال اُن کی سچائی کی تلاش اور واضح فہم حاصل کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔
مقدس توما کی زندگی کا سب سے مشہور واقعہ یسوع کے جی اُٹھنے کے بعد پیش آیا۔ جب دوسرے شاگردوں نے اُنہیں بتایا کہ وہ خداوند کو دیکھ چکے ہیں تو انہوں نے جواب دیا:جب تک میں اُس کے ہاتھوں میں میخوں کے چھید نہ دیکھ لوں اورمیخوں کی جگہ اپنی انگلی نہ ڈال لوں اور اپنے ہاتھ کو اُس کی پسلی میں نہ ڈال لوں ہرگز یقین نہ کروں گا۔(یوحنا 20:25)
آٹھ دن بعد یسوع دوبارہ شاگردوں کے درمیان ظاہر ہوئے اور خاص طور پر توما کو اپنے زخم دکھائے۔ اُس لمحے مقدس توما نے ایمان سے بھر کر اعلان کیا:اے میرے خداوند! اے میرے خدا! (یوحنا 20:28)
یہ نئے عہدنامہ میں یسوع کی اْلوہیت کے بارے میں سب سے طاقتور اعلانات میں سے ایک ہے۔قدیم مسیحی روایت کے مطابق توما رسول نے مشرق کی جانب سفر کیا اور فارس، میسوپوٹیمیا اور بالآخر ہندوستان تک انجیل کی منادی کی۔ جنوبی ہندوستان کی مسیحی برادری، جسے ”سینٹ تھامس کرسچنز“کہا جاتا ہے، یقین رکھتی ہے کہ توما رسول سن 52ء میں مالابار کے ساحل پر پہنچے اور وہاں کئی کلیسیائیں قائم کیں۔اگرچہ اس سفر کی تمام تفصیلات تاریخی طور پر مکمل طور پر ثابت نہیں کی جا سکتیں، لیکن ابتدائی کلیسیا کی مضبوط روایات اور متعدد تاریخی حوالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مقدس توما نے مشرقی دنیا میں مسیحی ایمان کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔روایت کے مطابق حضرت توما نے ہندوستان کے شہر میلاپور (موجودہ چنئی) میں انجیل کی منادی جاری رکھی۔ اُن کی تبلیغ سے بہت سے لوگ مسیحی ایمان میں داخل ہوئے۔ اسی وجہ سے مخالفین نے اُنہیں نیزوں سے زخمی کر کے شہید کر دیا۔ یوں اُنہوں نے اپنے خداوند کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔
مقدس توما کی زندگی آج بھی مسیحیوں کے لیے اْمید کا پیغام رکھتی ہے۔ اُن کی داستان ہمیں بتاتی ہے کہ شک ایمان کا دشمن نہیں بلکہ بعض اوقات ایمان تک پہنچنے کا راستہ بن جاتا ہے۔ خدا اُن لوگوں کو رد نہیں کرتا جو سچائی کی تلاش میں سوال کرتے ہیں بلکہ اُنہیں اپنے قریب لاتا ہے۔
مقدس توما ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ حقیقی ایمان صرف الفاظ میں نہیں بلکہ خدا کے لیے مکمل سپردگی اور قربانی میں ظاہر ہوتا ہے۔ جس شخص نے کبھی شک کیا تھا، وہی بعد میں دنیا کے دور دراز علاقوں تک انجیل پہنچانے والا عظیم مبلغ اور شہید بنا۔
درحقیقت توما رسول کی زندگی شک سے یقین، خوف سے جرات اور سوال سے اقرارِ ایمان تک کا سفر ہے۔ اُن کی گواہی ہر دور کے مسیحیوں کو یاد دلاتی ہے کہ خدا کمزور انسانوں کے ذریعے اپنے عظیم کام انجام دیتا ہے۔ اُن کا مشہور اقرار ”اے میرے خداوند! اے میرے خدا!آج بھی ہر مومن کے دل کی دْعا اور ایمان کا اظہار ہے۔پاک ماں کیتھولک کلیسیا ہر سال 3جولائی کو مقدس توما کی عید منائی جاتی ہے۔
اے مقدس توما رسول
ہمارے واسطے دْعا کر!

Daily Program

Livesteam thumbnail