کہانی سنانے کو مسیحی بلاہٹ اور 2033 کے عظیم جوبلی کی راہ کے طور پر ازسرِنو دریافت کریں۔فوقیت مآب کارڈینل پیبلو ورجیلیو ڈیوڈ

مورخہ 29 نومبر 2025کو پینانگ، ملائیشیا میں، فوقیت مآب کارڈینل ڈیوڈبشپ آف کالوکَن،FABC کے نائب صدر اورCBCP کے صدرنے اپنے خطاب میں ایشیا کی کلیسیاؤں کو دعوت دی کہ وہ کہانی سنانے کو مسیحی بلاہٹ اور  2033 کے عظیم جوبلی کی راہ کے طور پر ازسرِنو دریافت کریں۔
تقریباً 900 سے زائد مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے،  فوقیت مآب کارڈینل ڈیوڈ نے موضوع ”بطورایشیائی ،یسوع کی کہانی کو جینا اور بانٹنا  اور 2033 کی جانب سفر“ پر روشنی ڈالی۔
 انہوں نے مقدس لوقا کی انجیل میں بیان کردہ عمواس کے واقعہ کو رفاقت، انسانیت اور شاگردوں کی زندگیوں میں مسیح کی دوبارہ نموداری پر مبنی ایمان بانٹنے کا وسیلہ قرار دیا۔
کارڈینل ڈیوڈ نے اپنے خطاب کی ابتدا ایک سوال سے کی۔ایک ایسا سوال جس نے انہیں برسوں سے مسحور کیا ہوا ہے۔اور وہ سوال یہ تھا کہ آخر یسوع اْسی لمحے کیوں غائب ہوگیا،جب شاگردوں نے روٹی توڑنے میں اُسے پہچان لیا؟ انہوں نے اس سوال کا جواب یوں دیا کہ وہ اس لیے غائب ہواتاکہ اپنے شاگردوں میں، اُن کے ذریعے دوبارہ ظاہر ہوں اور وہ آج بھی آپ اور میرے ذریعے ظاہرہوتا ہے انہوں نے کہا کہ مسیحی بلاہٹ کا مرکز،دور سے یسوع کی طرف اشارہ کرنا نہیں، بلکہ دنیا میں اُس کی حضوری بن جانا۔
انہوں نے کہا کہ یسوع پہلے ایک اجنبی کی صورت میں دکھائی دیا جو دو مایوس شاگردوں کے ساتھ چلتا ہے۔وہ ان سے فوراً ہمکلام نہیں ہوتا  بلکہ قریب آتااور اُن کی گفتگو میں شامل ہوتاہے۔
 انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا خدا سنڈی طریقے کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ وہ پہل کرتا ہے، انسان کے قریب آتا ہے، اس کے ساتھ چلتا ہے، اور بولنے سے پہلے سنتا ہے۔
روٹی توڑنے کے لمحہ جب یسوع نے روٹی لی، شکر کیا اور توڑی‘یسوع نے ایسا کیوں کیا۔ وہ تو مہمان تھا، میزبان نہیں۔ مگر میزبان بن جانا یسوع کی رفاقت اور شراکت کی پہچان بن گیا تھا۔
اپنے خطاب کے پہلے حصے میں کارڈینل ڈیوڈ نے وضاحت کی کہ آج ایشیا کے مسیحیوں کے لیے“یسوع کی کہانی کو جینا”کیا معنی رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیا کہانی سنانے کی قوت کو دنیا کے کسی بھی خطے سے زیادہ گہرائی سے سمجھتا ہے۔دورِ تعلیم سے قبل، ایشیائی تہذیبوں میں حقائق  رزمیہ داستانوں، گیتوں، رسومات، اور مقدس روایتوں کے ذریعے منتقل ہوتے رہے۔
ایشیا میں سچائی ہمارے پاس سب سے پہلے ایک تصور کی طرح نہیں بلکہ ایک کہانی کی صورت میں آتی ہے۔عمواس کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ یسوع سنتاہے، شاگردوں کی مایوسی کی کہانی کوقبول کرتا اور پھر اُسی کہانی کو قیامت کی روشنی میں ازسرِنو سناتا ہے۔
پھر انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج ایشیا میں یسوع کہاں چل رہاہے؟ یسوع ایشیا میں آج نئے آغاز کے متلاشی مہاجرین،تنازع اور غربت سے ٹوٹے ہوئے خاندانوں،ڈیجیٹل دنیا سے مغلوب نوجوانوں،تشدد اور استحصال کے شکار افراد،اپنی مقدس سرزمین کی حفاظت کرنے والے مقامی باشندوں،قدرتی آفات کے بعد دوبارہ بننے والی بستیوں  میں چل رہا ہے۔یسوع کی کہانی کو جینا یہ ہے کہ بھوکے، پیاسے، زخمی اور جدوجہد کرنے والوں کو پہچاننااور اْن کی مدد کرنا ہے 
یسوع اجنبی، زخمی، اور غریب کی صورت ظاہر ہوتا ہے اور جب ہم اِن کی خدمت کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہی ہمیں بیدار کر کے ہمارا بھلا کر رہے تھے۔
خطاب کا دوسرا حصہ ایشیائی ثقافت کے انوکھے انداز پر مرکوز تھا جس میں خوشخبری بانٹی جاتی ہے۔
کارڈینل ڈیوڈ نے کہا کہ ایشیا میں خوشخبری بانٹنا، کہانی سنانا ہے،فتح پانا نہیں۔انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں جب ایمان طاقت یا نوآبادیاتی سرپرستی کے ذریعے پھیلایا گیا، اس نے گہرے زخم چھوڑے۔لیکن آج ایشیا میں اس سفر کی ابتدا باہمی ملاقات،گہری سماعت،کہانیاں بانٹنے،ثقافتوں اور مذاہب کے احترام سے ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خوشخبری صرف نیک نیتی کی زرخیز زمین میں ہی پھلتی ہے۔
۱۔ثقافتیں 
 مقامی فن، موسیقی، رسومات، شاعری اور آباء و اجداد کے احترام کے ذریعے ایمان کو مضبوط کرنا
۲۔مذاہب
دوستی اور مکالمے کے ذریعے پل بنانا
۳۔غریب
زخموں کو چھو کر مسیح سے ملاقات کرنا
۴۔تخلیق
کائنات کی حفاظت کرنا نیززمین اور غریبوں کی فریادکو سننا
2033 کی جانب سفر۔ اْمید کی زیارت 
کارڈینل ڈیوڈ نے یاد دلایا کہ 2033مسیح کی مصلوبیت، موت اور قیامت کی دو ہزارویں سالگرہ صرف ایک تاریخی یادگار نہیں۔بلکہ یہ ایک جاری کہانی کا جشن ہے۔ ہم وہ شاگرد ہیں جو راہ پر ہیں۔کبھی مایوس، کبھی الجھے ہوئے، مگر ہمیشہ تلاش میں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایشیا میں دوسرے برّاعظموں جیسے عظیم گرجا گھر نہیں،لیکن اس کے پاس ہمسائے کی محبت، برداشت، مہمان نوازی، شفقت اور اْمید کی بے شمار کہانیاں ہیں۔جو اسے خوشخبری اور نئے شفا بخش انداز میں بانٹنے کے لیے منفرد طور پر تیار کرتی ہیں۔
انہوں نے عمواس کے واقعہ کو 2033 کی زیارت کا آئیکون قرار دیا:
وہ خدا جو پوشیدہ ساتھ چلتا ہے۔
جو بولنے سے پہلے سنتا ہے۔
جو اْمید کو دوبارہ روشن کرتا ہے۔
جو روٹی توڑتا ہے تاکہ ہم دنیا کے لیے اس کا بدن بن سکیں۔
جو غائب ہوتا ہے تاکہ اپنے شاگردوں میں دوبارہ ظاہر ہو سکے۔
اورآخر میں انہوں نے کہا:
 ہمارا 2033 کا منشور یہ ہے۔
کہ یسوع ہمارے الفاظ، ہمارے اشاروں، ہماری جماعتوں،
اور ہماری ایشیائی کہانی سنانے کی روایت میں 
دوبارہ ظاہر ہو۔

Daily Program

Livesteam thumbnail