فرینڈ شپ ٹنل FABC کی جنرل اسمبلی کے اختتام پر سنڈیلٹی کی زندہ علامت بن گئی۔
مورخہ 26جولائی کو جکارتہ کیتھیڈرل میں اختتامی عشائیہ کے بعد فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی کے شرکا نے فرینڈ شپ ٹنل سے گزر کر استقلال مسجد کا دورہ کیا۔ یہ علامتی سفر بین المذاہب مکالمہ اور دوستی کا اظہار بن گیا۔فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی کی آخری سرگرمی کسی کلیسیا کے اندر نہیں بلکہ جکارتہ کی سڑکوں کے نیچے واقع ایک سرنگ میں ہوئی۔26 جولائی کو جکارتہ کیتھیڈرل میں اختتامی عشائیہ کے بعد کارڈینلز، بشپ صاحبان، کاہن، مذہبی رہنما اور شرکا نے فرینڈ شپ ٹنل سے گزر کر قریب واقع استقلال مسجد کا رخ کیا، جو انڈونیشیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ یہ مختصر سفر جنرل اسمبلی کے مرکزی موضوع ایشیا میں سنڈیلٹی تبدیلی اور پْل اور پْل بنانے والے بننے کا مشن کا ایک موثر عملی اظہار بن گیا۔
فرینڈ شپ ٹنل جکارتہ کیتھیڈرل اور استقلال مسجد کو آپس میں ملاتی ہے اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک بین الاقوامی سطح پر معروف علامت بن چکی ہے۔ یہ سرنگ ان دو عبادت گاہوں کو آپس میں جوڑتی ہے جو انڈونیشیا کے دارالحکومت کے مرکز میں ایک دوسرے کے سامنے واقع ہیں۔الفتح گیٹ پر پہنچنے کے بعد شرکا نے اپنے جوتے اتارے اور مسجد میں داخل ہوئے، جہاں ان کا استقبال انڈونیشیا کے وزیر برائے مذہبی امور اور استقلال مسجد کے امامِ اعظم پروفیسر ڈاکٹر کے ایچ نصرالدین عمر نے کیا۔
شرکا نے مسجد کے مرکزی نماز ہال کا دورہ کیا، اس کی تاریخ اور تعمیراتی تصور کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور گرینڈ ٹیرس کا بھی دورہ کیا، جہاں سے مسجد اور کیتھیڈرل ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔شرکا نے مسجد کے بڑے بدوق کا بھی مشاہدہ کیا، جو ایک روایتی مذہبی ڈھول ہے اور انڈونیشیا کے اسلامی ورثے کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔دورے کا اختتام FABC کے شرکا اور امامِ اعظم کے درمیان مکالمہ سے ہوا۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نصرالدین عمر نے کہا کہ حقیقی مذہبی ایمان انسان کو دوسروں کی خدمت کی طرف لے جانا چاہیے، نہ کہ تقسیم کا سبب بننا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اچھا مسلمان یا اچھا کیتھولک ہونا دوسروں کے لیے بھلائی کا ذریعہ بننا ہے۔انہوں نے مذہبی برادریوں پر زور دیا کہ وہ انسانی عظمت کے تحفظ، امن کے فروغ اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے مل کر کام کریں۔ ان کے مطابق اختلافات کو تنازع کا سبب بنانے کے بجائے باہمی ترقی اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے مواقع میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔
پوپ لیو کے خصوصی نمائندے برائے جنرل اسمبلی کارڈینل اوسوالڈ گراسیاس نے امامِ اعظم کا پرتپاک استقبال کرنے پر شکریہ ادا کیا اور اس دورے کو کشادہ دلی اور دوستی کا ایک قیمتی سبق قرار دیا۔کارڈینل گراسیاس نے کہا کہ ہم نے آپ کی سخاوت، کشادہ دلی اور خدمت سے بہت کچھ سیکھا ہے۔مسیحیت اور اسلام کی مشترکہ روحانی بنیادوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بائبل اور قرآن دونوں اپنے ماننے والوں کو خدا کی طرف لے جاتے ہیں اور انہیں امن کے وسیلے بننے کی دعوت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کام ہم آہنگی پیدا کرنا اور ایک بہتر دنیا کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔
کارڈینل گراسیاس نے کہا کہ فرینڈ شپ ٹنل صرف دو مذہبی مقامات کو ملانے والا ایک تعمیراتی راستہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک زندہ گواہی ہے کہ مذہبی رہنما ایک ساتھ چل سکتے ہیں، تعاون کر سکتے ہیں اور ایک زیادہ پُرامن دنیا کی تعمیر کے لیے ایک دوسرے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ یہی ہماری بلاہٹ، ہماری ذمہ داری اور آج کا ہمارا چیلنج ہے۔
بہت سے شرکا کے لیے یہ دورہ سنڈیلٹی کے بارے میں جنرل اسمبلی کے دوران ہونے والی گفتگو کو ایک عملی تجربے میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ ایک ہفتے تک سننے، مکالمے اور اشتراک پر غور کرنے کے بعد شرکا نے اس اجتماع کا اختتام ایسے راستے کو عبور کرتے ہوئے کیا جو دو مذہبی برادریوں کو آپس میں ملانے کے لیے بنایا گیا ہے۔کیتھیڈرل سے مسجد تک یہ علامتی سفر جنرل اسمبلی کے ایک مرکزی پیغام کی بازگشت تھا کہ ایشیا میں کلیسیا کا مشن صرف انجیل کی منادی کرنا نہیں بلکہ مذہبی اور ثقافتی حدود سے بالاتر ہو کر دوستی، مکالمے اور تعاون کو فروغ دینا بھی ہے۔
جب شرکا ایشیا بھر میں اپنی مقامی کلیسیاؤں کی طرف واپس روانہ ہوئے تو وہ ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنرل اسمبلی کی یادوں سے کہیں بڑھ کر ایک اہم تجربہ اپنے ساتھ لے گئے۔ فرینڈ شپ ٹنل سے ان کا آخری سفر اس بات کی دیرپا یاد دہانی بن گیا کہ سنڈیلٹی صرف کلیسیا کے اندر نہیں بلکہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے اپنے ہمسایوں کے ساتھ احترام پر مبنی ملاقات، مکالمے اور رفاقت کے ذریعے بھی عملی طور پر زندگی میں ظاہر ہوتی ہے۔ ایشیا کی بھرپور مذہبی گوناگونی کے تناظر میں یہ گواہی خاص طور پر اہمیت رکھتی ہے۔
