حقیقی قیادت اختیار نہیں، خدمت ہے۔ کارڈینل انتھونی پولّا

کارڈینل انتھونی پولّا
کارڈینل انتھونی پولّا

کارڈینل انتھونی پولّا نے ایشیا کے بشپ صاحبان پر زور دیا ہے کہ اْن کی بلاہٹ عزت، اختیار یا منصب حاصل کرنا نہیں بلکہ فروتنی اور قربانی کے ساتھ خدا کے لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔کارڈینل پولّا نے یہ بات 25 جولائی کو مقدس یعقوب رسول کی عید کے موقع پریوخرستی عبادت میں وعظ کے دوران کہی۔کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا کے صدر نے ایشیا بھر کے کلیسیائی رہنماؤں کو دعوت دی کہ وہ ایسی قیادت اپنائیں جو دنیاوی طاقت اور وقار کی بجائے مسیح کی بے لوث محبت اور خدمت پر قائم ہو۔انجیل میں یعقوب اور یوحنا رسول کی والدہ کی جانب سے اپنے بیٹوں کے لیے یسوع کے ساتھ عزت کے مقامات کی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے کارڈینل پولّا نے کہا کہ پہچان، عزت اور تحفظ کی خواہش انسانی فطرت کا حصہ ہے، لیکن یسوع اپنے شاگردوں کو قیادت کا حقیقی مفہوم سمجھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاسبانی خدمت کوئی ایسی نشست نہیں جس پر قبضہ کیا جائے بلکہ ایک ایسا پیالہ ہے جسے قبول کرنا ہوتا ہے۔ یہ سب سے پہلے ظاہری منصب کا نہیں بلکہ مسیح کی قربانی میں شریک ہونے کا نام ہے۔یسوع کے اس سوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہ کیا تم وہ پیالہ پی سکتے ہو جو میں پینے والا ہوں، کارڈینل پولّا نے کہا کہ کلیسیا میں حقیقی قیادت قربانی اور خدمت سے جدا نہیں ہو سکتی۔انہوں نے مسیح کی تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص تم میں بڑا بننا چاہتا ہے وہ تمہارا خادم بنے۔ ان کے مطابق اْسقفی اختیار اْسی وقت حقیقی معنوں میں انجیلی اختیار بنتا ہے جب اسے فروتنی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔
کارڈینل پولّا نے پوپ فرانسس کی تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اختیار بنیادی طور پر خدمت کی ایک صورت ہے۔ بشپ کو صرف کلیسیائی اداروں کے انتظام تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ خدا کے لوگوں کے قریب رہتے ہوئے ان کے ساتھ چلنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایشیا کی کلیسیا کے لیے قیادت دور بیٹھ کر نگرانی کرنے کا نام نہیں بلکہ مشنری قربت اور صرف انتظامی امور کا نام نہیں بلکہ پاسبانی تبدیلی ہے۔

کارڈینل انتھونی پولّا
کارڈینل انتھونی پولّا

کارڈینل پولّا نے کلیسیائی رہنماؤں کو منصب، حیثیت برقرار رکھنے اور اپنے اثر و رسوخ سے کامیابی ناپنے کی آزمائش سے خبردار کیا۔ انہوں نے مسیح کی طرف توجہ دلائی جو خدمت لینے نہیں بلکہ خدمت کرنے اور بہتوں کے فدیہ کے طور پر اپنی جان دینے آئے۔انہوں نے کہا کہ یہ پیغام ایشیا کی کلیسیاؤں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں کیتھولک اکثر مذہبی تنوع کے درمیان اقلیت کے طور پر زندگی گزارتے ہیں اور غربت، ہجرت، معاشی عدم مساوات، سیاسی تنازعات، ماحولیاتی تباہی اور نوجوانوں کے مسائل جیسے چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں۔کارڈینل پولّا نے کہا کہ کلیسیا طاقت کے ذریعے مسیح کی منادی نہیں کر سکتی بلکہ فروتن خدمت، مخلصانہ مکالمہ، دلیرانہ گواہی اور ہمدردانہ موجودگی کے ذریعے مسیح کا پیغام پہنچا سکتی ہے۔
مقدس پولوس رسول کے قرنتیوں کے نام دوسرے خط کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بشپ صاحبان کو مٹی کے برتن قرار دیا جنہیں انجیل کا قیمتی خزانہ سونپا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بشپ صاحبان کو یہ ظاہر کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ وہ مٹی کا برتن نہیں، بلکہ اسے اپنی کمزوری کے ذریعہ اس خزانے کو چمکنے دینا چاہیے۔کارڈینل پولّا کے مطابق انسانی کمزوری وہ مقام بن سکتی ہے جہاں خدا کا فضل ظاہر ہوتا ہے، اور یہ بشپ صاحبان کو یاد دلاتی ہے کہ ان کی خدمت ذاتی قوت پر نہیں بلکہ خداوند کی قدرت پر منحصر ہے۔انہوں نے اپنی گفتگو کو کلیسیا کے سنڈی سفر سے بھی جوڑتے ہوئے کہا کہ سنڈیلٹی ایک مسلسل تبدیلی کا عمل ہے جو کلیسیا کو روح القدس کی آواز زیادہ توجہ سے سننے اور خدا کے لوگوں کے ساتھ وفاداری سے چلنے کے قابل بناتا ہے۔
اختتام پر کارڈینل پولّا نے بشپ صاحبان کو تین ترجیحات اپنانے کی دعوت دی: غریبوں اور محروم لوگوں کے دکھوں میں شریک ہونا، فروتنی کے ساتھ انجیل کی منادی کرنا اور ثقافتوں، دیگر مذاہب اور معاشرے کے حاشیے پر موجود لوگوں کے ساتھ مکالمہ کے ذریعے پْل تعمیر کرنے والے بننا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں طاقت کے دائیں یا بائیں جانب بیٹھنے کے لیے نہیں بلایا گیا بلکہ خادم کی راہ پر چلنے کے لیے بلایا گیا ہے۔ ہمیں مٹی کے برتن کو محفوظ رکھنے کے لیے نہیں بلکہ اس کے اندر موجود خزانے کو ظاہر کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔ ہمیں مینار تعمیر کرنے کے لیے نہیں بلکہ پْل تعمیر کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail