ایف اے بی سی کی 12ویں جنرل اسمبلی:انڈونیشیا، ایشیا بھر کے کیتھولک رہنماؤں کے استقبال کے لیے مکمل طور پر تیار
انڈونیشیا کی حکومت 20 تا 26 جولائی 2026 تک جکارتہ میں منعقد ہونے والی فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے آنے والے ایشیا بھر کے کیتھولک بشپ صاحبان اور کلیسیائی رہنماؤں کے پْرتپاک استقبال کی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہے۔حکومت نہ صرف اس ہفتہ بھر جاری رہنے والے کلیسیائی اجتماع کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے بلکہ اس امر کو بھی اولین ترجیح دے رہی ہے کہ مندوبین کو انڈونیشیا آمد سے لے کر واپسی تک ایک محفوظ، پُرسکون، آرام دہ اور خوشگوار ماحول میسر آئے۔انڈونیشیا کی وزارتِ مذہبی امور کے مطابق، 7 جولائی کو وزیر برائے مذہبی امور نصرالدین عمر کی زیرِ صدارت منعقد ہونے والے بین الادارہ جاتی رابطہ اجلاس میں شرکا کی سہولت، حفاظت اور فلاح و بہبود کو خصوصی اہمیت دی گئی۔
وزیر نصرالدین عمر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام شرکاء مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ وہ انڈونیشیا میں اپنے قیام کے دوران مکمل اَمن، سکون اور بہترین مہمان نوازی کا تجربہ کریں۔
اس اجلاس میں مختلف سرکاری اداروں اور مقامی انتظامی کمیٹی کے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں امیگریشن، سکیورٹی، نقل و حمل، ذرائع ابلاغ اور دیگر انتظامی و ضروری امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔وزارتِ مذہبی امور کا کہنا ہے کہ اعلیٰ معیار کی مہمان نوازی ایک میزبان ملک کی ذمہ داری اور شناخت ہوتی ہے۔ چونکہ اسمبلی میں مختلف ثقافتوں اور روایات سے تعلق رکھنے والے مندوبین شریک ہوں گے، اس لیے منتظمین تقریب کے ہر پہلو پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، جن میں شرکاء کی غذائی ضروریات اور ثقافتی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کھانوں کے انتظامات بھی شامل ہیں۔
تیاریوں میں جکارتہ کی صوبائی حکومت، قومی پولیس، انڈونیشیائی مسلح افواج، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن، استقلال مسجد کی انتظامیہ، آرچ ڈایوسیس آف جکارتہ اور سرکاری نشریاتی ادارے باہمی تعاون سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔خصوصی توجہ 26 جولائی کو جکارتہ کیتھیڈرل میں اختتامی یوخرستی عبادت کے بعد شرکا کے ٹنل آف فرینڈشپ کے ذریعے استقلال مسجد کے دورے پر دی جا رہی ہے۔ چونکہ اسی روز جکارتہ میں ہفتہ وار کار فری ڈے بھی ہوتا ہے، اس لیے ٹریفک، نقل و حمل اور عوامی ہجوم کے مؤثر انتظام کو ایک اہم ترجیح قرار دیا گیا ہے۔
منتظمین کا منصوبہ ہے کہ شرکاکو چھوٹے گروپوں میں اس سرنگ سے گزارا جائے اور انہیں اس کی تاریخ اور انڈونیشیا میں بین المذاہب مکالمہ، بھائی چارے اور پُرامن بقائے باہمی کی علامت کے طور پر اس کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔جسمانی طور پر معذور یا محدود نقل و حرکت رکھنے والے شرکاء کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ منتظمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے تمام مندوبین کی پیشگی نشاندہی کی جائے جنہیں وہیل چیئر یا دیگر معاون سہولیات درکار ہوں، تاکہ اسمبلی کے آغاز سے قبل تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے جائیں۔وزارتِ مذہبی امور نے بتایا کہ انڈونیشیا اِن تیاریوں میں 2024 میں پوپ فرانسس کے تاریخی پاسبانی دورہِ انڈونیشیا سے حاصل ہونے والے تجربات سے بھی استفادہ کر رہا ہے، جب مختلف سرکاری اداروں نے باہمی تعاون سے پوپ اور ہزاروں زائرین کی کامیاب میزبانی کی تھی۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ایف اے بی سی کی جنرل اسمبلی اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف تقاضے رکھتی ہے۔ ان کے مطابق انتظامی اور ضروری تیاریوں کے ساتھ ساتھ روحانی ماحول، کلیسیائی مہمان نوازی اور بشپ صاحبان کی بہترین دیکھ بھال بھی اس اجتماع کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
وزیر نصرالدین عمر نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر شحض انڈونیشیا پہنچنے کے پہلے لمحے سے ہی ہماری مہمان نوازی کو محسوس کرے۔ ہم ہر انتظام انتہائی توجہ اور احتیاط کے ساتھ کر رہے ہیں تاکہ وہ اسمبلی میں بھرپور انداز سے شرکت کر سکیں اور ساتھ ہی انڈونیشیا کی مذہبی ہم آہنگی، پُرامن بقائے باہمی اور تنوع میں اتحاد کی ثقافت کو بھی قریب سے دیکھ سکیں۔
فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی میں ایشیا کے 29 ممالک سے بشپ صاحبان اور کلیسیائی رہنما شریک ہوں گے، جبکہ یورپ، امریکہ اور افریقہ سے بھی خصوصی افراد اس اجتماع میں شرکت کریں گے۔
انڈونیشیا کی حکومت کو اْمید ہے کہ شرکاء نہ صرف اسمبلی کے مباحث اور فیصلوں سے روحانی اور کلیسیائی رہنمائی حاصل کریں گے بلکہ مذہبی ہم آہنگی، مثالی مہمان نوازی اور تنوع میں اتحاد کے حوالے سے انڈونیشیا کا مثبت تاثر بھی اپنے ساتھ لے کر واپس جائیں گے۔