انڈونیشیا کے کلیسیائی رہنما کی ایشیائی کلیسیا کو پْل تعمیر کرنے سے پہلے سننے کی دعوت۔
انڈونیشیا کی کیتھولک بشپ کانفرنس کے صدر بشپ انتونیئس سوبیانتو بینجمن، OSC نے فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC)کی 12ویں جنرل اسمبلی کے افتتاح کے موقع پر ایشیا کی کلیسیا پر زور دیا کہ وہ ایک سننے والی کلیسیا بنے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی سنڈیلٹی کا آغاز خدا، ایک دوسرے اور معاشرے کے محروم طبقات کی آواز سننے سے ہوتا ہے۔21 جولائی کو جکارتہ کے ہوٹل مولیا میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بشپ انتونیئس نے کہا کہ یہ جنرل اسمبلی محض بشپ صاحبان کا اجلاس نہیں بلکہ ایک مقدس لمحہ ہے، جس میں ہم روح القدس کی آواز، ایک دوسرے کی بات اور ایشیا کی عوام کی صداؤں کو سنتے ہیں۔
افتتاحی تقریب میں کلیسیا کے رہنماؤں، حکومتی شخصیات اور ایشیا بھر سے آئے ہوئے افرادنے شرکت کی۔اسٹیج پربھارت سے کارڈینل فلیپ نیری فیراو، جو FABC کے صدر ہیں، فلپائن کے نائب صدر کارڈینل پابلو ورجیلیو ڈیوڈ، جاپان کے سیکریٹری جنرل کارڈینل تارسیسیو ایساؤ کیکوچی اور انڈونیشیا کے وزیر برائے مذہبی امور ناصرالدین عمر بطور مہمانِ خصوصی موجود تھے۔شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے بشپ انتونیئس نے اْمید ظاہر کی کہ مندوبین نہ صرف انڈونیشیا کی مہمان نوازی کا تجربہ کریں گے بلکہ ایشیا کی کلیسیاؤں کے درمیان رفاقت اور اتحاد کے رشتے بھی مزید مضبوط ہوں گے۔انہوں نے یاد دلایا کہ FABCنے ہمیشہ مکالمہ کو ایشیائی کلیسیا کی بنیادی شناخت قرار دیا ہے۔ 1990 میں انڈونیشیا کے شہر باندونگ میں منعقد ہونے والی FABC کی جنرل اسمبلی میں بشپ صاحبان نے سہ جہتی مکالمہ (Triple Dialogue)کی روحانیت پیش کی تھی، جس میں غریبوں، مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے ساتھ مکالمہ شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج تخلیق کی نگہداشت بھی کلیسیا کے مشن کا ایک لازمی پہلو بن چکی ہے۔
بشپ انتونیئس نے شرکاء کو تلقین کی کہ وہ سننے، باہمی تعاون اور مستقبل کے لیے مشترکہ وژن کے ذریعے اپنی سنڈی تبدیلی کو مزید گہرا کریں۔انہوں نے سنڈی سفر کو حالیہ پوپ صاحبان کی تعلیمات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پوپ فرانسس نے ایسی کلیسیا کی دعوت دی جو بولنے سے پہلے سنے اور فیصلہ صادر کرنے سے پہلے لوگوں کے ساتھ سفر کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوپ لیو چہاردہم نے بھی اِسی وژن کی توثیق کرتے ہوئے کلیسیا کو مکالمہ، کشادہ دلی اور محبت کے ذریعے پْل تعمیر کرنے والی کلیسیا بننے کی دعوت دی ہے۔افتتاحی تقریب کے دوران”نوسانتارا ڈانسرز“ نے انڈونیشیا کے ثقافتی ورثہ کی نمائندگی کرنے والے روایتی رقص پیش کیے، جن میں سماٹرا، جاوا اور نوسا ٹینگارا کی روایات شامل تھیں۔ ان ثقافتی مظاہروں نے انڈونیشیا کے متنوع ثقافتی حسن کو اْجاگر کیا اور ایشیا بھر سے آنے والے افرادکا خیرمقدم کیا۔
بشپ انتونیئس نے انڈونیشیا کی حکومت، بالخصو ص وزارت برائے مذہبی امور، مختلف مذاہب کے رہنماؤں، رضاکاروں، معاونین اور انتظامی کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مجلس کے انعقاد کے لیے ان سب کا باہمی تعاون سنڈیلٹی کا ایک عملی اظہار ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے اس اجتماع کو روح القدس کی راہنمائی کے سپرد کرتے ہوئے دْعا کی کہ یہ جنرل اسمبلی ایشیا کی مقامی کلیسیاؤں کو مزید مضبوط کرے، مومنین اور نوجوانوں کو بااختیار بنائے، تخلیق کی نگہداشت کے جذبے کو گہرا کرے اور پورے برِاعظم میں کلیسیا کی گواہی کو نئی تازگی عطا کرے۔آخر میں انہوں نے اس دْعا کے ساتھ اپنا خطاب مکمل کیا کہ اے خدا، ہمیں اپنے اَمن کا ذریعہ بنا۔ FABC کو بھی اپنے اَمن کا ذریعہ بنا، تاکہ ہم اس سے بھی بڑے بڑے کاموں کا مشاہدہ کر سکیں۔