امریکہ-ایران امن معاہدہ مشرق وسطیٰ اور عالمی امن کے لیے اْمید کی کرِن ہے۔فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد

فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں استحکام، عالمی امن اور بے گناہ انسانی جانوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔اپنے بیان میں آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے کہا کہ ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ اور دنیا خوف، کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی تھی، یہ امن معاہدہ اس بات کی امید افزا مثال بن کر سامنے آیا ہے کہ مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی تفہیم تصادم اور تنازعات پر غالب آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ جرات، ذمہ داری اور اخلاقی قوت کا مظہر ہے۔انہوں نے معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات میں شریک تمام فریقوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے بالخصوص حکومت پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تعمیری اور تاریخی کردار پر اظہارِ تشکر کیا۔ آرچ بشپ نے کہا کہ پاکستان نےفریقین کے درمیان مکالمے، کشیدگی میں کمی اور باہمی اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے ایک ذمہ دار عالمی رکن اور قوموں کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔معاہدے کی اقتصادی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام سے تیل کی قیمتوں اور عالمی توانائی کے استحکام پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں سے ایک ہے اور اس خطے میں کسی بھی قسم کی بے یقینی براہِ راست تیل کی قیمتوں، نقل و حمل کے اخراجات، مہنگائی اور دنیا بھر کے عام لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں پائیدار امن اور سلامتی عالمی منڈیوں کا اعتماد بحال کرنے، تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم کرنے اور معاشی استحکام کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی، خصوصاً ان ترقی پذیر ممالک اور کمزور طبقات کے لیے جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے 
مزید کہا کہ اس معاہدے کے مشرق وسطیٰ اور عالمی امن پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر اس پر دیانت داری، ذمہ داری اور مسلسل سفارتی روابط کے ساتھ عملدرآمد کیا گیا تو یہ وسیع تر تنازعات کے خطرات کو کم کرنے، علاقائی و عالمی سلامتی کے مسائل پر نئے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے، شہری آبادیوں کے تحفظ اور ممالک کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔انہوں نے زور دیا کہ تنازعات کا حل جنگوں کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ دنیا کے دیگر تنازعات سے متاثرہ خطوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے، تاہم ضروری ہے کہ یہ امن معاہدہ محض ایک دستخط شدہ دستاویز نہ رہے بلکہ عملی طور پر امن اور استحکام کی بنیاد بنے۔ آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے دْعا کی کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کے لیے ایک تاریخی موڑ اور پوری دنیا کے لیے امید کی نئی علامت ثابت ہو۔ انہوں نے پاکستان اور امن کے لیے کام کرنے والی تمام اقوام کے لیے بھی دعا کی اور کہا کہ خدا عالمی رہنماؤں کو حکمت، انکساری اور جرات عطا فرمائے تاکہ دنیا میں مکالمہ کے دروازے کھلیں، نفرتوں کا خاتمہ ہو اور پائیدار و منصفانہ امن کا قیام ممکن ہو سکے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail