وہ ستون جس پر ہماری زندگی کی عمارت کھڑی ہے!

وہ ایک شخص جس کے ہونے سے خوشیاں ہوتی ہیں۔زندگی ہوتی ہے اور زندگی خوشحا ل ہوتی ہے،بابا انھیں کا نام ہے۔بابا وہی ہیں جو ضرورت پڑنے پر سب سے پہلے یاد آتے ہیں،محبت کے نام پہ تو سبھی ماں کو یاد کرتے ہیں۔یہ بابا پتہ نہیں کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں۔شاید اس لئے بھی کہ یہ ہمیں جذباتی ہونا نہیں سیکھاتے۔خود کے سخت رویے سے ہمیں بتاتے ہیں کہ زندگی کمزور دلوں سے نہیں بلکہ حوصلوں سے چلتی ہے۔زندگی بکھرنے سے نہیں بلکہ بکھر کر نکھرنے سے بنتی ہے۔جب بڑے ہوئے تب معلوم ہوا کہ پاپاکھڑوس نہیں تھے بلکہ اگر وہ بھی ماما کی طرح بات بات پر گلے لگا لیتے توزندگی کا مشکل وقت ہم لڑ کر نہیں رو کر نکالتے۔خود کیلئے ایک دم لا پروالیکن اپنے بچوں کیلئے ہر دن خوشیوں کی سوغات لاتے ہیں۔ارے کوئی تو بتا دے کہ یہ باپ کس دنیا سے آتے ہیں!
زندگی میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو شور نہیں مچاتے، لیکن پوری زندگی سہارا دیتے ہیں۔ ان میں سب سے مضبوط، سب سے خاموش اور سب سے زیادہ قربانی دینے والا رشتہ”باپ“کا ہے۔فادرز ڈے صرف ایک رسمی دن نہیں بلکہ ایک موقع ہے کہ ہم اس عظیم شخصیت کی قربانیوں کو یاد کریں جو اپنے بچوں کے لیے اپنی زندگی کے خواب، خواہشات اور آرام سب کچھ قربان کر دیتا ہے۔باپ اپنی محبت لفظوں میں ظاہر نہیں کرتے لیکن اْس کی ہر سانس، ہر قربانی اور ہر فیصلہ محبت کی گواہی دیتا ہے۔وہ صبح سویرے اْٹھ کر کام پر جاتا، دن بھر کی تھکن برداشت کرتا اور رات کو گھر لوٹ کر بھی اپنی تکلیف ظاہر نہیں کرتا تاکہ اْس کی اولاد سکون میں رہ سکے۔اْس کی محبت لفظوں میں نہیں بلکہ کردار میں چھپی ہوتی ہے۔ایک بچہ جب دنیا کو سمجھنا شروع کرتا ہے تو اْس کی نظر میں اْس کا باپ سب سے بڑا اور سب سے طاقتور انسان ہوتا ہے۔وہی اْسے پہلی بار ہاتھ پکڑ کر چلنا سیکھاتا ہے، وہی اْسے گرِتے ہوئے اْٹھاتا ہے، اور وہی اْسے یہ یقین دیتا ہے کہ”تم سب کچھ کر سکتے ہو۔“
بچے کے لیے باپ صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک مکمل دنیا ہوتا ہے جس میں تحفظ، رہنمائی اور اعتماد شامل ہوتا ہے۔باپ کی زندگی قربانیوں سے بھری ہوتی ہے۔وہ اپنی خواہشات کو پیچھے رکھ کر اپنے بچوں کی ضروریات کو ترجیح دیتا ہے۔وہ نئے کپڑے خود کے لیے نہیں لیتا مگر اپنے بچوں کے لیے ہر ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔وہ اپنی تھکن چھپاتا ہے تاکہ گھر میں خوشی برقرار رہے۔یہ قربانیاں دکھائی نہیں دیتیں مگر یہی قربانیاں ایک مضبوط نسل کی بنیاد بنتی ہیں۔
بچپن میں ہمیں اکثر اپنے والد کی سختی سمجھ نہیں آتی۔ اْن کی ڈانٹ، اْن کے اصول اور اْن کی پابندیاں ہمیں کبھی کبھی پسند نہیں آتیں۔لیکن وقت کے ساتھ سمجھ آتا ہے کہ وہ سختی اصل میں حفاظت تھی، وہ ڈانٹ اصل میں رہنمائی تھی اور وہ اصول اصل میں بہتر مستقبل کی تیاری تھی۔
جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا ہے، ویسے ویسے اْسے اپنے باپ کی قدر سمجھ آنے لگتی ہے۔جو باتیں پہلے بوجھ لگتی تھیں، وہی بعد میں زندگی کی سب سے بڑی سچائیاں بن جاتی ہیں۔جب انسان خود ذمہ داریاں سنبھالتا ہے تب اْسے احساس ہوتا ہے کہ اْس کے والد نے کتنی خاموشی سے یہ سب کچھ نبھایا تھا۔
باپ اور اولاد کا رشتہ صرف خون کا رشتہ نہیں بلکہ اعتماد اور قربانی کا رشتہ ہے۔باپ اپنے بچوں کے خوابوں کو اپنے خوابوں سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ اْس کے بچے وہ کامیابی حاصل کریں جو شاید وہ خود حاصل نہ کر سکا ہو۔یہی جذبہ نسلوں کو آگے بڑھاتا ہے۔
اکثر باپ اپنی مشکلات کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتا۔ وہ اپنے دْکھ اندر ہی اندر برداشت کرتا ہے تاکہ اْس کا گھرانہ پْرسکون رہے۔یہی خاموشی اْسے ایک مضبوط ستون بناتی ہے، جو کبھی ٹوٹتا نہیں، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔
عالمی یومِ والد ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمیں اپنے والد کی قدر صرف ایک دن نہیں بلکہ ہر دن کرنی چاہیے۔ایک چھوٹا سا شکریہ، ایک محبت بھرا لفظ، یا ایک مختصرسا لمحہ اْن کے لیے بہت بڑی خوشی بن سکتا ہے۔باپ کی محبت خاموش ضرور ہوتی ہے مگر غیر مشروط اور سب سے گہری ہوتی ہے۔ ہم اکثر اس کی قدر وقت گزرنے کے بعد سمجھتے ہیں، لیکن اصل زندگی کا سکون اسی رشتے میں چھپا ہے۔اگر آپ کے والد آپ کے ساتھ ہیں تو اْنھیں وقت دیں، اْن سے محبت کریں اور اْن کی قدر کریں کیونکہ یہی وہ ستون ہے جس پر آپ کی زندگی کی عمارت کھڑی ہے۔
 خدا کرے ہمارے والد ہمیشہ ہمارے سروں پہ سلامت رہیں نیز جن کے والد حیات نہیں خدا انھیں ابدی زندگی عطافرمائے۔آمین
آپ سبھی کو عالمی یومِ والد مبارک ہو!

Daily Program

Livesteam thumbnail