عالمی یومِ خیرات

 انسانیت کے دل کی دھڑکن
انسانیت کے دل کی دھڑکن

ہر سال 5 ستمبر کو عالمی یومِ خیرات منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں دولت، وسائل اور مواقع سب کے درمیان برابر تقسیم نہیں ہوئے، لیکن انسانیت، ہمدردی اور محبت ایسی نعمتیں ہیں جو ہر انسان اپنے اندر رکھتا ہے اور دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔خیرات کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں شاید کسی غریب کو رقم دینے، بھوکے کو کھانا کھلانے یا کسی ضرورت مند کی مدد کرنے کا خیال آتا ہے۔ مگر خیرات اس سے کہیں وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ کسی کے دکھ کو سن لینا، کسی مایوس انسان کے کندھے پر ہاتھ رکھ دینا، کسی بھوکے کے لیے ایک روٹی بچا لینا، کسی بیمار کی عیادت کرنا یا کسی پریشان شخص کے لیے اْ میداور حوصلے کے دو بول کہنا بھی خیرات ہے۔
آج کی دنیا بظاہر ترقی کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کر دیے ہیں، مگر انسانوں کے درمیان دلوں کے فاصلے کئی جگہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف بلند عمارتیں، جدید گاڑیاں اور آسائشوں سے بھرے گھر ہیں، تو دوسری طرف ایسے خاندان بھی موجود ہیں جو روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ مہنگائی نے بہت سے لوگوں کے لیے زندگی کا بوجھ بڑھا دیا ہے۔ ایک مزدور کے لیے بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، بجلی کا بل اور راشن پورا کرنا روز کا امتحان بن چکا ہے۔ہم میں سے بہت سے لوگ بازار سے گزرتے ہوئے کسی مزدور، ریڑھی والے یا سڑک کنارے بیٹھے ضرورت مند کو دیکھتے ہیں، مگر چند لمحوں بعد اسے بھول جاتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ہم نے غربت کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھ لیا ہے۔ لیکن جس شخص کے ہاتھ میں ہم چند لمحوں کے لیے چند روپے دیکھتے ہیں، ممکن ہے وہی اس کے پورے دن کا سہارا ہوں۔
آج کے حالات میں خیرات کی ضرورت صرف خالی پیٹوں کو بھرنے کے لیے نہیں بلکہ ٹوٹتے ہوئے حوصلوں کو سہارا دینے کے لیے بھی ہے۔ بہت سے لوگ مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ تنہائی، بے روزگاری اور مستقبل کے خوف کا سامنا کر رہے ہیں۔ بعض گھروں میں والدین اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہ کر پانے کے احساس سے خاموش دکھ سہتے ہیں۔ کچھ نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔ کچھ بزرگ ایسے ہیں جن کے پاس دولت نہیں، مگر انہیں سب سے زیادہ ضرورت کسی کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کی ہے۔
دنیا کے مختلف حصوں میں جنگوں، قدرتی آفات اور انسانی بحرانوں نے لاکھوں زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ کہیں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے، کہیں بچے تعلیم سے محروم ہوئے اور کہیں خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ ایسے حالات میں خیرات صرف ایک نیکی نہیں رہتی بلکہ انسانی ذمہ داری بن جاتی ہے۔لیکن خیرات کا اصل حسن اس وقت سامنے آتا ہے جب اس میں دکھاوا شامل نہ ہو۔ کسی کی مدد کرکے اس کی عزتِ نفس مجروح کرنا خیرات کی روح کو کمزور کر دیتا ہے۔ ضرورت مند انسان کو صرف چیز نہیں چاہیے، اسے احترام بھی چاہیے۔ اسے یہ احساس چاہیے کہ وہ معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ اسی معاشرے کا ایک قابلِ احترام فرد ہے۔
کبھی کبھی ہماری چھوٹی سی مدد کسی کی پوری دنیا بدل سکتی ہے۔ ایک طالب علم کے لیے کتاب، ایک مزدور کے لیے راشن، ایک بیمار کے لیے دوا، ایک بچے کے لیے اسکول کی فیس یا کسی بے روزگار کے لیے روزگار کا موقع شاید ہمارے لیے معمولی بات ہو، مگر کسی دوسرے انسان کے لیے یہی چیز زندگی میں اْمید کی نئی کھڑکی کھول سکتی ہے۔اور شاید سب سے خوبصورت خیرات وہ ہے جو کسی انسان کو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچا لے۔ کسی ضرورت مند کو ہمیشہ کے لیے راشن دینے کی بجائے اگر اسے روزگار کا موقع فراہم کر دیا جائے، کسی بچے کو صرف ایک دن کھانا کھلانے کی بجائے اس کی تعلیم کا انتظام کر دیا جائے تو یہ خیرات ایک مستقل روشنی بن سکتی ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خیرات صرف امیر لوگوں کی ذمہ داری نہیں۔ ایک غریب انسان بھی کسی دوسرے غریب کے ساتھ اپنی روٹی بانٹ سکتا ہے۔ ایک طالب علم اپنا وقت دے سکتا ہے۔ ایک استاد اپنا علم بانٹ سکتا ہے۔ ایک نوجوان کسی بزرگ کا ہاتھ تھام سکتا ہے۔ ایک مسافر کسی پریشان اجنبی کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ یعنی خیرات کے لیے دولت سے زیادہ دل کی کشادگی ضروری ہے۔عالمی یومِ خیرات ہمیں ایک سادہ مگر گہرا سوال دیتا ہے: کیا ہماری موجودگی سے کسی دوسرے انسان کی زندگی کچھ آسان ہوئی؟
اگر ہمارے پاس بہت کچھ ہے تو اس میں سے کچھ بانٹ دیں۔ اگر ہمارے پاس پیسہ نہیں تو اپنا وقت دے دیں۔ اگر وقت نہیں تو محبت کے دو بول کہہ دیں۔ اگر الفاظ بھی نہیں تو کسی کے دکھ میں خاموشی سے اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔کیونکہ دنیا کو صرف دولت مند ہاتھوں کی نہیں، مہربان دلوں کی بھی ضرورت ہے۔شاید ہمارے دیے ہوئے چند روپے کسی کے لیے ایک وقت کا کھانا بن جائیں، ہماری دی ہوئی کتاب کسی بچے کے لیے مستقبل کا دروازہ کھول دے، ہماری مسکراہٹ کسی مایوس انسان کے دل میں امید جگا دے، اور ہمارا ایک چھوٹا سا قدم کسی کو یہ یقین دلا دے کہ وہ اس دنیا میں اکیلا نہیں۔
خیرات دراصل اپنے مال میں سے کچھ کم کرنا نہیں، بلکہ کسی دوسرے انسان کی زندگی میں امید کا اضافہ کرنا ہے۔آئیے اس عالمی یومِ خیرات پر صرف ایک دن کے لیے نہیں بلکہ ہر دن اپنے اردگرد کے انسانوں کو دیکھنے کا عہد کریں۔ شاید ہمارے بہت قریب کوئی ایسا شخص موجود ہو جسے صرف ایک ہاتھ، ایک لفظ، ایک روٹی یا ایک موقع کی ضرورت ہو۔اور جب ہم کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھامیں تو اسے یہ احساس نہ ہونے دیں کہ ہم نے اس پر احسان کیا ہے۔بلکہ دل میں یہ سوچ رکھیں کہ آج ہمیں کسی کی مدد کرنے کا موقع ملا ہے، کل شاید ہمیں خود کسی کے سہارے کی ضرورت ہو۔
انسانیت اسی باہمی سہارے کا نام ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup