آئینہ میں چھپا سب سے بڑا دشمن

آئینہ میں چھپا سب سے بڑا دشمن
آئینہ میں چھپا سب سے بڑا دشمن

کبھی کبھی انسان اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار حالات، قسمت، لوگوں یا ماحول کو ٹھہراتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑی رکاوٹ اکثر ہمارے اپنے اندر موجود ہوتی ہے۔ ایک دلچسپ واقعہ اس حقیقت کو نہایت خوبصورتی سے آشکار کرتا ہے۔
ایک بڑی کمپنی کا ایک ملازم حسبِ معمول صبح دفتر پہنچا تو اْس کی نظر گیٹ پر لگے ایک غیر معمولی نوٹس پر پڑی۔ جس پر لکھا تھا: وہ شخص جو آپ کی ترقی اور کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا، گزشتہ رات وفات پا گیا ہے۔ اْس کی آخری رسومات کے لیے کانفرنس ہال میں تشریف لائیں، جہاں اْس کی میت رکھی گئی ہے۔
یہ تحریر پڑھتے ہی اْس کے دل میں افسردگی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اْسے افسوس ہوا کہ شاید اْس کا کوئی ساتھی ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔ لیکن چند لمحوں بعد اْس کے ذہن میں ایک اور سوال اْبھرا: آخر وہ کون شخص تھا جو اْس کی ترقی میں رکاوٹ بنا ہوا تھا؟
یہی تجسس اْسے کانفرنس ہال کی طرف لے گیا۔ وہاں پہنچ کر اْس نے دیکھا کہ دوسرے ملازمین بھی اْسی حیرت اور بے چینی کے عالم میں جمع تھے۔ ہر شخص جاننا چاہتا تھا کہ وہ کون تھا جسے کمپنی کی ترقی میں رکاوٹ قرار دیا گیا تھا۔ہجوم بڑھنے لگا تو انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ لوگ ایک ایک کرکے اندر جائیں گے اور میت کا دیدار کریں گے۔ جو بھی شخص اندر جاتا، کفن ہٹا کر چہرہ دیکھتا اور چند لمحوں کے لیے خاموش اور حیران رہ جاتا۔ اْس کے چہرے کے تاثرات یکسر بدل جاتے، گویا اْسے کوئی ایسی حقیقت دکھا دی گئی ہو جس کا اْس نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا۔
آخرکار اْس ملازم کی باری آئی۔ وہ آہستہ آہستہ تابوت کے قریب پہنچا، کپڑا ہٹایا اور اندر جھانکا۔ لیکن وہاں کوئی میت نہیں تھی۔تابوت میں ایک بڑا سا آئینہ رکھا ہوا تھا۔
آئینے کے ایک کونے پر ایک مختصر مگر گہرا جملہ لکھا تھا:دنیا میں صرف ایک شخص ایسا ہے جو آپ کی صلاحیتوں کو محدود کر سکتا ہے اور آپ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اور وہ شخص آپ خود ہیں۔
یہ الفاظ اْس کے دل پر بجلی بن کر گرِے۔ اْسے احساس ہوا کہ زندگی میں سب سے بڑی جنگ دوسروں کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی کمزوریوں، خوف، مایوسی اور منفی سوچ کے خلاف ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں تبدیلی صرف نوکری، ماحول، لباس یا دوست بدلنے سے نہیں آتی۔ حقیقی تبدیلی اْس وقت آتی ہے جب انسان اپنے اندر جھانکتا ہے، اپنی صلاحیتوں پر یقین کرنا سیکھتا ہے، ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے اور ناکامیوں کو شکست نہیں بلکہ سیکھنے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
جو لوگ مشکلات سے گھبرانے کی بجائے اْن کا مقابلہ کرتے ہیں، وہی زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں۔ جو اپنی خامیوں کو پہچان کر خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، وہی حقیقی معنوں میں ترقی کی منزلیں طے کرتے ہیں۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم خود کو سنوارنے کا عزم کر لیں، اپنی سوچ کو مثبت بنائیں اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کریں، تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں کامیابی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔
کیونکہ انسان کا سب سے بڑا دشمن بھی وہ خود ہے، اور سب سے بڑا مددگار بھی وہ خود ہی بن سکتا ہے۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail