مسیحی موسیقی کا مقصد خدا کی تمجید اور مومنین کو پاکیزگی کی طرف لے جاناہے۔ پاپائے اعظم لیو چہاردہم


مورخہ 19اگست 2026کو مقدس پطرس کے احاطہ میں پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے مومنین سے خطاب کے دوران عبادت میں مقدس موسیقی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مقدس موسیقی دْعا کو آواز عطا کرتی، ایمان کا اظہار کرتی اور مومنین کو روحانی پاکیزگی کی طرف بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد خدا کی تمجید اور مومنین کو پاکیزگی کی طرف لے جانا ہے۔
پوپ لیو چہاردہم نے کہا کہ مقدس موسیقی کا حتمی مقصد وہی ہے جس کی نشاندہی دستاویزساکرو سانکتم کنچیلیئم  Sacrosanctum Concilium  نے کی ہے یعنی:’’خدا کی تمجید اور مومنین کی پاکیزگی۔“
پوپ لیونے دوسری ویٹیکن کونسل کی پاک عبادات سے متعلق آئینی دستاویز Sacrosanctum Concilium پر اپنے سلسلہ وار غور و فکر کو جاری رکھا اور اس دستاویز کے چھٹے باب پر گفتگو کی، جو مقدس موسیقی کے لیے مخصوص ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ کونسل کی دستاویز کے مطابق:عالمی کلیسیا کی موسیقی کی روایت ایک بے مثال قدر و قیمت کا خزانہ ہے، جو کسی بھی دوسری فنّی روایت سے بڑھ کر ہے۔انہوں نے کہا کہ مقدس موسیقی عبادت کا محض ایک اضافی حصہ نہیں بلکہ خود عبادتی عمل کا حصہ ہے، کیونکہ یہ دْعا کو آواز دیتی، کلیسیا کے ایمان کا اظہار کرتی، باہمی اتحاد کو فروغ دیتی اور مومنین کو یوخرستی بھید میں مزید گہرائی سے داخل ہونے میں مدد دیتی ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ عبادت کے دوران گیت گانا اور ساز بجانا دراصل ”دْعا کرنا“ ہے۔ یہ انسان کے دل کو اپنے بہن بھائیوں اور خدا کے دل کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا ذریعہ بنتا اور یوخرست کے روحانی بھید میں فعال شرکت کا موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ موسیقی دْعا کے جذباتی پہلو کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے سینٹ آگسٹین کے الفاظ کا حوالہ دیا، جس کا مطلب ہے: ”گانا اس شخص کا عمل ہے جو محبت کرتا ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ گیت گانا کلیسیا میں اتحاد کو بھی فروغ دیتا ہے۔پوپ لیو نے کہا کہ آوازوں کی ہم آہنگی کے ذریعے موسیقی دلوں کے اتحاد میں معاون بنتی ہے، لوگوں کے درمیان اختلافات کو دْور کرتی ہے اور سب کو خدا کی حمد کے لیے اکٹھا کرتی ہے۔اس طرح مقدس موسیقی کلیسیا کے اتحاد کا ایک مظہر بن جاتی ہے اور اُس باہمی رفاقت کو محسوس کرنے کا ذریعہ بنتی ہے جو کلیسیا کی فطرت کا بنیادی حصہ ہے۔
پوپ لیو نے وضاحت کی کہ چونکہ گیت عبادتی عمل کا ایک اہم اور گہرا مذہبی حصہ ہے، اس لیے اس کے لیے کچھ بنیادی اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ موسیقی کو محض بدلتے ہوئے رجحانات یا کسی ایک موسیقار کی ذاتی پسند کے تابع نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر سطح پر اُس عبادتی موقع کے لیے موزوں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ موسیقی کی دْھن اور انداز ایک ہی وقت میں ”باوقار، سادہ، اعلیٰ معیار اور آسانی سے ادا کیا جانے والا“ ہونا چاہیے، خصوصاً اُس وقت جب اْسے پوری جماعت نے مل کر گانا ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ عبادتی گیت:
* موزوں اور بامعنی ہو؛
* گہرا روحانی مفہوم رکھتا ہو؛
* عام فہم ہو؛
* زیادہ تر مقدس صحیفے، عبادتی کتابوں اور کلیسیا کی روحانی روایت سے ماخوذ ہوں۔
پوپ لیو نے کہا کہ اس کے لیے محتاط غور و فکر اور درست انتخاب ضروری ہے، خصوصاً اس لیے کہ کونسل نے عبادت میں مومنین کی فعال شرکت پر بھی خصوصی زور دیا ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ دوسری ویٹیکن کونسل نے ”گریگورین گیت“ کو بھی خاص اہمیت دی، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ موسیقی کی دوسری اقسام کو عبادت سے خارج کر دیا جائے۔
انہوں نے مقدس موسیقی کے تخلیق کاروں کو یاد دلایا کہ وہ کلیسیا کے موسیقی کے ورثے کو جاننے اور محفوظ رکھنے کے لیے بھی ذمہ دار ہیں۔ انہیں چاہیے کہ اس ورثے سے تحریک حاصل کرتے ہوئے عبادت کے لیے نئی موسیقی تخلیق کریں، جبکہ موجودہ دور کی حساسیت اور مختلف ثقافتی روایات کا بھی احترام کریں۔اس سلسلے میں پوپ لیو نے اپنے پیشرو پوپ مقدس جان پال دوم کے الفاظ یاد کیے، جنہوں نے عبادت کو غیر خوبصورت انداز، غیرموزوں اظہار اور ایسے غیر متاثر کن موسیقی سے پاک رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جو عظیم عبادتی عمل کے شایانِ شان نہ ہوں۔اس کا مقصد عبادتی موسیقی میں وقار، خوبصورتی اور اعلیٰ معیارکو یقینی بنانا ہے۔
آخر میں پوپ لیو نے کونسل کی اس سفارش کا بھی ذکر کیا کہ سیمینریوں،  مذہبی افراد کے تربیتی مراکز، دیگر کیتھولک اداروں اور اسکولوں میں مقدس موسیقی کی مناسب تعلیم اور مشق کا انتظام ہونا چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ موسیقاروں اور گلوکاروں کو صرف موسیقی کی تربیت ہی نہیں بلکہ مضبوط اور جامع عبادتی تربیت بھی دی جانی چاہیے، تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ موسیقی عبادت میں کس مقصد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔پوپ لیو چہاردہم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کلیسیا کی جانب سے عبادتی گیت کی قدر و اہمیت کو یاد کرتے ہوئے ”مقدس اگنیشیس آف انطاکیہ“ کے خط برائے اہلِ افسس سے اقتباس پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ مومنین کو چاہیے کہ وہ ”ایک جماعت کی مانند متحد ہو جائیں“ تاکہ خدا سے اتحاد میں ایک آواز کے ساتھ یسوع مسیح کے وسیلے سے آسمانی باپ کے لیے حمد کا گیت گا سکیں۔یوں پوپ لیو چہاردہم نے واضح کیا کہ موسیقی محض خوبصورت آوازوں یا دھنوں کا نام نہیں، بلکہ یہ دْعا، ایمان، کلیسیائی اتحاد اور خدا کی تمجید کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup