صحت چند لوگوں کے لیے عیش و عشرت نہیں ہونی چاہیے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 18مارچ 2026کوپاپائے اعظم لیو چہاردہم نے یورپ میں بہت سے لوگوں کو درپیش غربت، تنہائی اور سماجی تنہائی کی صورتحال پر غور کرتے ہوئے صحت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور ناانصافی پر افسوس کا اظہار کیا، جس کے بارے میں انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تنازعات کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج محض ایک تکنیکی ہدف نہیں جسے حاصل کیا جائے، بلکہ یہ اُن معاشروں کے لیے ایک اخلاقی فریضہ ہے جو خود کو منصف کہلانا چاہتے ہیں اور یہ ناانصافی کو تنازعہ کا سبب بننے سے روکنے کے لیے بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی یورپی ممالک میں صحت کے شعبے میں عدم مساوات بڑھ رہی ہے اور خاص طور پر نوجوانوں کی ذہنی صحت پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت چند لوگوں کے لیے عیش و عشرت نہیں ہو سکتی اور اس بات پر زور دیا کہ یہ سماجی امن کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات سب سے زیادہ کمزور افراد تک پہنچنی چاہئیں، نہ صرف اس لیے کہ ان کی انسانی عزت کا تقاضا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ ناانصافی کو تنازعہ کا سبب بننے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا ہم صرف مل کر ہی ایسی یکجہتی پر مبنی برادریاں تشکیل دے سکتے ہیں جو ہر ایک کا خیال رکھ سکیں، جہاں سب کی بھلائی اور امن فروغ پا سکے۔دوسروں کی انسانیت کا خیال رکھنا ہمیں اپنی زندگی کو بھی بھرپور طریقے سے جینے میں مدد دیتا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر پوپ نے کلیسیا کے کردار کو دہرایا کہ وہ ہمیشہ انسانیت کی ترقی اور عالمی بھائی چارے کی خدمت میں رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپ اور دنیا بھر کی کلیسیائیں، بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے، صحت کے شعبے میں عدم مساوات کے خاتمے میں، خصوصاً کمزور طبقات کی مدد کے لیے، اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔آخر میں انہوں نے مسیحیوں سے اپیل کی کہ ہماری مسیحی زندگی ہمیشہ اْس برادرانہ،سامری جذبے کی عکاسی کرے۔ ایسا جذبہ جو مہمان نواز، بہادر، پُرعزم اور مددگار ہو نیز جو خدا کے ساتھ ہمارے تعلق اور یسوع مسیح پر ایمان میں جڑا ہوا ہو۔