جنگ کبھی بھی خدا کی طرف سے باعثِ برکت نہیں ہوتی۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 26جون 2026کو مقدس پطرس کے احاطہ میں پاپائے لیو چہاردہم نے غیر معمولی کارڈینلز کونسِسٹوری (Extraordinary Consistory) کے افتتاح کے موقع پرپاک ماس کی قیادت فرمائی اور دورانِ وعظ کارڈینلز پر زور دیا کہ وہ ایمان کی حقیقی آزادی، اتحاد میں امن کے تحفے اور فرمانبرداری کے ذریعے ہم آہنگی پر غور کریں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ جنگ کبھی بھی انسانیت کے شایانِ شان نہیں ہوتی اور نہ ہی خدا کی طرف سے با عث ِبرکت ہوتی ہے۔
26 اور 27 جون کو ویٹیکن میں منعقد ہونے والے اس غیر معمولی کونسِسٹوری میں دنیا بھر سے کارڈینلز کلیسیا اور موجودہ عالمی حالات سے متعلق اہم امور پر غور کے لیے جمع ہوئے۔ اجلاس کا آغاز سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں پاک ماس سے ہوا، جبکہ اس کا اختتام مقدس پطرس اور مقدس پولوس کی عید کے موقع پر ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انجیل ہمیں یاد دلاتی ہے: تم مجھ میں قائم رہو اور میں تم میں قائم رہوں گا (یوحنا 15:4)، کیونکہ یہی تعلق کلیسیا کو پھلدار بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات نہایت بامعنی ہے کہ یہ اجلاس مقدس رسولوں مقدس پطرس اور مقدس پولوس کی عیدسے ایک دن پہلے منعقد ہو رہا ہے۔ یہ دونوں عظیم رسول رومن کیتھولک کلیسیا کے مضبوط ستون اور مشنری شہداء تھے، جن کی منادی اور زندگی ایک دوسرے کا عکس بن گئی۔
انہوں نے کارڈینلز کو دعوت دی کہ وہ سینٹ پیٹر اور سینٹ پال کی مثال سے رہنمائی حاصل کریں، جو ہمیں ایمان کی حقیقی آزادی میں شریک ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف خداوند یسوع مسیح کے ساتھ ہمارا تعلق ہی ہمیں گناہ اور خوف سے آزاد کرتا ہے۔ جب وہ ہمیں اپنے پیچھے چلنے کے لیے بلاتے ہیں تو ہمیں رسولوں کے جانشینوں کے طور پر دنیا میں بھیجتے ہیں۔
پوپ لیو نے زور دیا کہ ایمان ایک ایسی نعمت ہے جسے کبھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہی کلیسیا کو زندگی بخشتا ہے۔ روح القدس کے وسیلے سے زندہ کلیسیا ہی بہت سا روحانی پھل پیدا کرتی ہے۔
پوپ لیو نے کارڈینلز کو اتحاد میں امن کے تحفہ کی دْعا کرنے کی دعوت دی۔
انہوں نے دنیا بھر میں جاری جنگوں اور تنازعات پر گہرے دْکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ہمارے پاس جدید ترین ہتھیار موجود ہیں، لیکن خدا نے ہمیں عقل اور آزاد ارادہ عطا کیا ہے تاکہ ہم تنازعات کو انسانوں کی طرح حل کریں، نہ کہ درندوں کی طرح۔پوپ نے مزید کہا کہ امن صرف ایک خواہش نہیں بلکہ عدل کا تقاضہ ہے، کیونکہ ہم سب ایک ہی انسانی خاندان کا حصہ ہیں، ایک عظیم انسانیت (Magnifica Humanitas)، جس کا سربراہ اور نجات دہندہ خود مسیح ہے۔اپنی پہلی دستاویز اور مقدس پوپ پال ششم کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے محبت پر مبنی تہذیب کی تعمیر کے عزم کو جاری رکھنے کی تلقین کی، جہاں انصاف اور محبت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ خوشی ہو یا آزمائش، کلیسیا ہر حال میں انجیل کی منادی کرتی ہے اور کسی ایک فریق کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی خدمت کرتی ہے، کیونکہ نجات اور توبہ کا پیغام سب کے لیے یکساں ہے۔
انہوں نے فرمانبرداری کے ذریعے ہم آہنگی کو اپنانے کی بھی دعوت دی اور کہا کہ حقیقی فرمانبرداری خدا کے مجسم کلام کو سننے اور قبول کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ جب ہم روح القدس کی آواز کو توجہ سے سنتے ہیں تو وہ ہمیں کلیسیائی خدمت کے نئے مواقع دکھاتا، ہمارے ارادوں کو پاک کرتا اور ہمیں مشترکہ راستے پر قائم رکھتا ہے۔پوپ لیو نے خاص طور پر جاری سنڈِکا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمامومنین کو ایمان، اتحاد، امن کے فروغ اور یسوع مسیح، جو زندہ کلام ہے، اْس کی فرمانبرداری میں آگے بڑھنے کا پیغام دیتا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر پوپ لیو چہاردہم نے کہا کہ کارڈینلز کا باہمی اشتراک اور اجتماعی مشاورت سِنڈکی عملی مثال ہے، جس میں تمام بپتسمہ یافتہ افراد خدا کے لوگوں کے اتحاد میں شریک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سِنڈ اور اجتماعی قیادت دراصل مسیحی بھائی چارے کی ایسی صورتیں ہیں جو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جوڑتی ہیں۔