ہم یہاں سے آگے کہاں جائیں۔ فادر کلارنس دیواداس
فادر کلارنس دیواداس نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی اْمید یہ رہی ہے کہ ہرشخص جکارتہ سے کلیسیا ہونے کے سنڈیلٹی طریقہ کار کے لیے نئے عزم کے ساتھ واپس جائے۔فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی کے اختتام پر FABC کے ایسوسی ایٹ سیکرٹری اور دفتر برائے سنڈیلٹی کے ایگزیکٹو سیکرٹری فادر کلارنس دیواداس نے وہ سوال اٹھایا جس نے اسمبلی کے آخری ایام کی سمت متعین کی: ہم یہاں سے آگے کہاں جائیں؟26 جولائی کو انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں کیتھیڈرل آف آور لیڈی آف دی اسمپشن کے پاسبانی سنٹر میں جنرل اسمبلی کی اختتامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فادر دیواداس نے کہا کہ ایک ہفتے پر محیط یہ اجتماع محض ترغیب اور روحانی امتیاز تک محدود نہیں رہا بلکہ ایشیا بھر کی مقامی کلیسیاؤں کے لیے سنڈیلٹی کی تبدیلی کے سفر کو جاری رکھنے کے عملی طریقوں کی نشاندہی تک پہنچا۔
یہ پریس کانفرنس شرکاء کی جانب سے جکارتہ کی فرینڈشپ ٹنل کے ذریعے قریبی استقلال مسجد تک علامتی زیارت مکمل کرنے کے بعد ہوئی، جس نے مکالمہ اور پْل بنانے کے لیے اسمبلی کے عزم کو اْجاگر کیا۔ پریس کانفرنس میں FABC کے نائب صدر کارڈینل پابلو ورجیلیو ڈیوڈ اور انڈونیشیا کی کیتھولک بشپس کانفرنس کے صدر بشپ انتونیئس سوبیانتو بنجامین بھی شریک تھے۔فادر دیواداس نے کہا کہ ہماری گزشتہ پریس کانفرنس کے بعد اسمبلی ترغیب کے مرحلہ سے نکل کر روحانی امتیاز اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کے مرحلے میں داخل ہوئی ہے۔ جب شرکا اپنی مقامی کلیسیاؤں کو واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں تو وہ اس اسمبلی کے بعد سنڈیلٹی کی تبدیلی کے سفر کو جاری رکھنے کے لیے عملی راستوں پر غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس اجتماع کی بنیادی اْمید یہ ہے کہ ہر شریک کلیسیا کی روزمرہ زندگی میں سنڈیلٹی کو عملی طور پر زندہ کرنے کے نئے عزم کے ساتھ اپنے گھر واپس جائے۔انہوں نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی اْمید یہ رہی ہے کہ ہر فردجکارتہ سے کلیسیا ہونے کے سنڈیلٹی طریقہ کار کے لیے نئے عزم کے ساتھ واپس جائے۔فادر دیواداس کے مطابق پورے ہفتے کے دوران رسمی اجلاسوں، روح میں مکالمے، علاقائی ملاقاتوں اور غیر رسمی میل جول نے بشپ صاحبان کے درمیان اشتراکِ کلیسیا کو مضبوط کیا اور ایشیا کی مختلف ثقافتوں، زبانوں اور کلیسیائی حالات کے باوجود ایک ساتھ چلنے کے عزم کو مزید گہرا کیا۔انہوں نے کہا کہ ان تمام مباحث کے مرکز میں یہ مشترکہ یقین موجود تھا کہ حقیقی تجدید کا آغاز نئے ڈھانچوں سے نہیں بلکہ ذاتی تبدیلی سے ہوتا ہے۔
فادر کلارنس دیواداس نے کہا کہ حقیقی طور پر مشنری سنڈیلٹی کلیسیا بننے کی جانب پہلا قدم دل کی تبدیلی ہے۔انہوں نے کہا کہ حقیقی طور پر مشنری سنڈلٹی کلیسیا بننے کی جانب پہلا قدم دل کی تبدیلی ہے۔ ذاتی اور کلیسیائی سطح کی تبدیلی کے بغیر ڈھانچوں کی تجدید مشکل ہو جاتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ سنڈلٹی بنیادی طور پر نظام تبدیل کرنے یا نئے پروگرام تشکیل دینے کا نام نہیں بلکہ روح القدس کو خدا، ایک دوسرے اور ان لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات کو تبدیل کرنے کی اجازت دینے کا نام ہے جن کی خدمت کے لیے کلیسیا بلائی گئی ہے۔جنرل اسمبلی کے مباحث پر غور کرتے ہوئے فادر دیواداس نے نشاندہی کی کہ ایشیا کی بہت سی مقامی کلیسیائیں مشاورت، فعال بنیادی کلیسیائی برادریوں، مومنین کی بھرپور شرکت اور بین المذاہب مکالمہ کے ذریعے طویل عرصے سے سنڈیلٹی کے مختلف عناصر پر عمل کرتی آ رہی ہیں۔
شرکا نے معاشرے اور کلیسیا کو درپیش چیلنجز پر بھی غور کیا، جن میں معاشرتی تقسیم، ہجرت، ماحولیاتی تباہی، ٹیکنالوجی میں تیز رفتار تبدیلی، جمہوری مواقع میں کمی اور سماجی و معاشی عدم مساوات میں اضافہ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بشپ صاحبان نے ان حالات کو رکاوٹوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے مکالمہ، تعلیم، مہمان نوازی، تخلیقِ خداوندی کی نگہداشت اور انسانی عظمت کے لیے مزید گہری وابستگی کے ذریعے نئے مشنری گواہی کے مواقع کے طور پر دیکھا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کلیسیا کے اندر کلیرکل ازم اب بھی اشتراکِ کلیسیا اور مشترکہ ذمہ داری کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ انہوں نے مشترکہ روحانی امتیاز، کلیسیائی ڈھانچوں کی تجدید اور کلیسیا کی زندگی اور مشن میں مومنین کی زیادہ سے زیادہ شرکت پر زور دیا۔جنرل اسمبلی کے بعد کے سفر کے حوالے سے فادر دیواداس نے اعلان کیا کہ FABC کا دفتر برائے سنڈیلٹی ایک کتابچہ تیار کر رہا ہے جو مقامی کلیسیاؤں کو سنڈیلٹی پر عمل درآمد کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ جب ہم اس جنرل اسمبلی کا اختتام کر رہے ہیں تو ہم حوصلہ افزائی، اتحاد اور نئے جذبے کے ساتھ جکارتہ سے روانہ ہو رہے ہیں۔ یہاں شروع ہونے والے مکالمے ہماری مقامی کلیسیاؤں، ہمارے علاقوں اور پورے ایشیا میں جاری رہیں گے۔اختتام سے قبل فادر دیواداس نے صحافیوں کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پورے ہفتے جنرل اسمبلی کے ساتھ رہتے ہوئے اس کی تمام سرگرمیوں کو عوام تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی رپورٹنگ نے ایشیا اور اس سے باہر موجود کیتھولک مسیحیوں کو ایسی کلیسیا کی اْمیدوں اور مشن میں شریک ہونے کا موقع دیا جو سننے، روحانی امتیاز کرنے اور ایک ساتھ چلنے کے لیے پْرعزم ہے۔
