امن کو ایک موقع دیں!

دنیا ایک بار پھر جنگ کے بیچ کھڑی ہے۔ اس جنگ کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد پانچ دن گزر چکے ہیں۔ یہ تنازع مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ حملہ کانگریس کی منظوری کے بغیر، اقوام متحدہ سے مشورہ کیے بغیر اور روایتی اتحادیوں کی حمایت کے بغیر شروع کیا۔ دنیا کے کئی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ان حملوں کوناقابلِ جوازقرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ عالمی مسائل کوتنازعات اور بموں کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اس کشیدگی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کا استعمال عالمی امن کو کمزور کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے، جو کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی دینے سے منع کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت تنازعات کے پرامن حل کا کوئی متبادل نہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں مبینہ طور پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی حکام مارے گئے۔ عالمی برادری کے بڑے حصے نے کسی ریاست کے سربراہ اور دیگر حکام کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے خودمختاری اور بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
میزائل حملوں میں میناب میں واقع ایک لڑکیوں کا پرائمری اسکول بھی تباہ ہوگیا، جس میں تقریباً 150 طالبات جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئیں۔ یونیسکو نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یاد دلایا کہ تعلیمی ادارے بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت محفوظ ہوتے ہیں اور اسکولوں پر حملے بچوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور تعلیم کے حق کو مجروح کرتے ہیں۔
کیا اس دنیا کے طاقتور اور جارح حکمران یہ آواز سن رہے ہیں؟ یہ جنگ آخر کس کی جنگ ہے؟
لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل کر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مگر میڈیا کے بڑے حصے، جو اکثر طاقتور مفادات کے زیرِ اثر ہوتے ہیں، ان احتجاجوں اور خطے میں پیدا ہونے والے وسیع تر اثرات کو پوری طرح رپورٹ نہیں کرتے۔ ہمیشہ کی طرح جنگ کا سب سے بڑا بوجھ غریبوں، کمزوروں اور محروم لوگوں پر پڑتا ہے۔وہ لوگ جو روزمرہ کی جدوجہد میں زندگی گزارتے ہیں اور جب بم گرِتے ہیں تو سب کچھ کھو دیتے ہیں۔
اس جنگ میں کوئی بھی جیت نہیں رہا۔ دنیا صرف زیادہ غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی سفر متاثر ہو رہا ہے۔ معیشتیں ہل رہی ہیں۔ خوف پھیل رہا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے: آخر یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ کب ایک ملک کو دوسرے ملک پر حملہ کرنے کا حق حاصل ہے؟
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) 1957 میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد قائم کی گئی تھی تاکہ جوہری توانائی کے پرامن استعمال کو فروغ دیا جائے اور اس کے فوجی استعمال کو روکا جائے۔ اس کا مقصد جوہری تنصیبات کی نگرانی اور سفارتی حل کو فروغ دینا ہے۔ پھر کیوں بین الاقوامی نگرانی کے اداروں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ دوسری عالمی جنگ کے بعد جب دنیا نے کبھی دوبارہ نہیں کا عہد کیا اور 1948 میں انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اپنایا، تو کیا انسانیت ایک اور عالمی تباہی کی متحمل ہو سکتی ہے؟ہمیں اسلحہ ساز صنعت کے کردار کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ 1961 میں صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور نے فوجی و صنعتی گٹھ جوڑکے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کارپوریٹ اور فوجی مفادات قومی ترجیحات کو بگاڑ سکتے ہیں۔ آج اْن کی یہ تنبیہ پہلے سے کہیں زیادہ سچ محسوس ہوتی ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI)کی رپورٹس بھی ظاہر کرتی ہیں کہ جنگوں کے دوران فوجی اخراجات اور اسلحے کی تجارت میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔ جنگ ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔
پوپ فرانسس نے اس موت کی ثقافت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ 2015 میں امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سوال اْٹھایا کہ مہلک ہتھیار اُن لوگوں کو کیوں فروخت کیے جاتے ہیں جو دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ اْن کا جواب واضح تھا: پیسے کے لیے—ایسا پیسہ جو خون سے تر ہے۔انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اسلحہ کی تجارت کو روکنے کے لیے سنجیدگی سے اقدام کریں۔
اپنے 2020 کے انسیکلیکل Fratelli Tutti میں پوپ فرانسس نے جنگ کی ناانصافی پر ایک پورا حصہ وقف کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ سیاست اور انسانیت کی ناکامی ہے اور اس کے خطرات کسی بھی ممکنہ فائدے سے کہیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب ہم جنگ کو کسی مسئلے کا حل نہیں سمجھ سکتے۔جنگ دوبارہ کبھی نہیں،انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہتھیاروں پر خرچ ہونے والے وسائل کو بھوک کے خاتمے اور ترقی کے فروغ پر لگایا جائے۔
پوپ لیو چہاردہم نے بھی اسی پیغام کو دہرایا ہے۔ حالیہ اینجلُس پیغام میں انہوں نے کہا کہ امن دھمکیوں یا ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معقول اور ذمہ دارانہ مکالمہ سے حاصل ہوتا ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپیل کی:امن کے لیے دْعا کریں، امن کے لیے کام کریں۔ دنیا میں نفرت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
مہاتما گاندھی کے الفاظ آج بھی سچائی کا پیغام دیتے ہیں:آنکھ کے بدلے آنکھ پوری دنیا کو اندھا بنا دیتی ہے۔
1969 میں جان لینن کا گیتGive Peace a Chance جنگ مخالف تحریکوں کا ترانہ بن گیا تھا۔ اس کا سادہ سا مصرعہ ایک عالمی خواہش کی ترجمانی کرتا تھا:ہم بس اتنا کہہ رہے ہیں: امن کو ایک موقع دو۔آج یہ صدا صرف ایک گیت نہ رہے۔ اسے عمل میں بدلنا ہوگا۔
ہر جنگ میں سب سے زیادہ تکلیف بے گناہوں کو اْٹھانی پڑتی ہے: بچے، خاندان اور غریب لوگ۔ شہر ملبے کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ مستقبل مٹ جاتے ہیں۔ نفرت گہری ہوتی جاتی ہے۔ تشدد مزید تشدد کو جنم دیتا ہے۔ اور انسانیت ہار جاتی ہے۔
ہم دنیا کو جلتا ہوا دیکھ کر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے۔ شہریوں کو اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔ رہنماؤں کو جواب دہ بنانا ہوگا۔ بین الاقوامی قانون کا احترام کرنا ہوگا۔ تباہی کی جگہ مکالمہ کو اپنانا ہوگا۔
یہ جنگ فوراً بند ہونی چاہیے۔امن کمزوری نہیں، یہ حوصلہ ہے۔ یہ انصاف ہے۔ اور یہی واحد راستہ ہے۔آئیے اس وقت کا انتظار نہ کریں جب تباہی ناقابلِ واپسی ہو جائے۔آئیے ابھی اقدام کریں اور اس جنگ کو فوراً روکیں۔

Daily Program

Livesteam thumbnail