مسترد شدہ عورت

تاریخ میں ایسے لوگ گزرے ہیں جن کے ہاتھوں سے شفا کے واقعات منسوب کیے جاتے ہیں۔ مگر بائبل میں ایک ایسا واقعہ درج ہے جو صرف جسمانی شفا کی کہانی نہیں، بلکہ ایمان، وقار اور روحانی بحالی کی گہری تصویر پیش کرتا ہے۔یہ واقعہ ہمیں مقدس مرقس کی انجیل کے پانچویں باب میں ملتا ہے، جہاں ایک گمنام عورت کی داستان بیان کی گئی ہے۔ ایک ایسی عورت جو بارہ سال تک مسلسل خون کے بہاؤ میں مبتلا رہی۔
بائبل مقدس کے مطابق یہ عورت مسلسل بیماری میں مبتلا تھی۔ طبی زبان میں اس کیفیت کو (Chronic Menorrhagia) یا طویل مدتی غیر معمولی خون بہاؤ کہا جا سکتا ہے۔ ایسی حالت شدید کمزوری، خون کی کمی (Anemia)، مسلسل تھکن اور ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ قدیم دور میں جب طبی سہولیات محدود تھیں، یہ بیماری زندگی کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتی تھی۔مگر اْس عورت کی تکلیف صرف جسمانی نہ تھی۔یہودی شریعت کے مطابق مسلسل خون بہنے والی عورت کو ناپاک سمجھا جاتا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ معاشرتی تقریبات سے الگ، عبادت گاہ سے دور اور لوگوں کے لمس سے محروم رہتی۔ جو بھی اْسے چھوتا، وہ بھی وقتی طور پر ناپاک قرار پاتا۔
گویا وہ نہ صرف بیماری بلکہ تنہائی، شرمندگی اور مسترد کیے جانے کا بوجھ بھی اْٹھا رہی تھی۔بارہ سال طویل عرصہ ہوتا ہے۔ اتنا طویل کہ اْمید بھی تھک جائے۔ مگر جب اْس عورت نے یسوع کے بارے میں سنا، تو اْس کے اندر ایک چنگاری روشن ہوئی۔
اْس نے سوچا:”اگر میں صرف اُس کے کپڑے کے کنارے کو بھی چھو لوں تو شفا پا جاؤں گی۔“
یہ فیصلہ آسان نہ تھا۔ ہجوم میں داخل ہونا، لوگوں کے قریب جانا، یہ سب اُس زمانے کے قوانین کے خلاف تھا۔ مگر ایمان نے خوف پر غالب آ کر اْسے قدم بڑھانے کی ہمت دی۔انجیلِ مقدس کے مطابق جیسے ہی اْس نے یسوع کے لباس کے کنارے کو چھوا، فوراً اْس کا خون بہنا بند ہو گیا۔ وہ جان گئی کہ اْس کا جسم شفا پا چکا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یسوع نے ہجوم میں رُک کر پوچھا،مجھے کس نے چھوا؟
شاگرد حیران ہوئے، کیونکہ لوگ ہر طرف سے اُنہیں چھو رہے تھے۔ مگر یسوع نے اُس مخصوص لمس کو محسوس کیا جو ایمان سے بھرا ہوا تھا۔جب عورت خوفزدہ ہو کر سامنے آئی، تو یسوع نے نہ اْسے ڈانٹا، نہ ملامت کی۔بلکہ فرمایا:بیٹی! تیرے ایمان نے تجھے خلاصی دی۔ سلامتی سے چلی جا اور اپنی تکلیف سے بچی رہ۔یہ الفاظ محض جسمانی شفا کا اعلان نہیں تھے۔یہ عزت کی بحالی تھی۔یہ معاشرتی قبولیت کا اعلان تھا۔یہ ایک مسترد شدہ عورت کو”بیٹی“کہہ کر اپنانے کا لمحہ تھا۔مزید حیران کن حقیقت یہ ہے کہ یسوع خود ناپاک نہ ہوئے۔یہ واقعہ اس روحانی اصول کو ظاہر کرتا ہے کہ یسوع کی پاکیزگی اور قدرت ناپاکی کو جذب نہیں کرتی بلکہ اسے ختم کر دیتی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ یسوع کی خدمت مذہبی اور سماجی رکاوٹوں تک محدود نہیں تھی۔جہاں قانون دیوار کھڑی کرتا تھا، وہاں محبت راستہ بناتی تھی۔جہاں معاشرہ دوری پیدا کرتا تھا، وہاں ایمان قربت پیدا کرتا تھا۔یہ صرف ایک عورت کی شفا نہیں تھی۔یہ اس بات کا اعلان تھا کہ خدا کی رحمت انسان کے بنائے ہوئے دائرے سے بڑی ہے۔


آج بھی یہ کہانی اْمید دیتی ہے۔بیماری، خوف، معاشرتی دباؤ یا روحانی بوجھ کوئی بھی چیز ایمان اور خدا کی محبت سے بڑی نہیں۔یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کبھی کبھی شفا ایک بڑے اعلان سے نہیں، بلکہ ایک خاموش لمس سے شروع ہوتی ہے۔ایمان کا وہ لمس جو کہتا ہے:
”اگر میں بس قریب پہنچ جاؤں تو سب بدل سکتا ہے۔“
یہ صرف تاریخ کا واقعہ نہیں۔یہ ہر اْس شخص کے لیے پیغام ہے جو خاموشی سے جدوجہد کر رہا ہے۔کیونکہ کبھی کبھی بارہ سال کی تاریکی ایک لمحے کی روشنی سے ختم ہو جاتی ہے۔ 

Daily Program

Livesteam thumbnail