پْلوں کی تعمیر کا آغاز نچلی سطح سے ہونا چاہیے۔ریورنڈفادر جیمز چنن
فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی بارہویں جنرل اسمبلی 20 تا 26 جولائی 2026تک انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ”سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر کرنے والے بننے کا مشن“کے موضوع کے تحت منعقد ہو رہی ہے۔ اس موقع پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے دومینیکن کاہن ریورنڈفادر جیمز چنن، او۔ پی نے کہا ہے کہ حقیقی معنوں میں پْلوں کی تعمیر کا آغاز معاشرے کی نچلی سطح سے ہونا چاہیے، جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ روزمرہ زندگی میں ایک دوسرے سے ملتے اور تعلق قائم کرتے ہیں۔ریورنڈفادر جیمز چنن پاکستان میں بین المذاہب مکالمے اور امن کے فروغ کے نمایاں علمبردار سمجھے جاتے ہیں۔ وہ گزشتہ چالیس برس سے زائد عرصہ سے ملک میں مسیحی اور مسلم برادریوں کے درمیان باہمی اعتماد، ہم آہنگی اور امن کے قیام کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔انہوں نے سات برس تک FABC کے دفتر برائے بین الکلیسیائی و بین المذاہب امور (OEIA) کے ایگزیکٹو سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں، جبکہ سترہ برس تک پاکستان کیتھولک بشپ کانفرنس کے قومی کمیشن برائے مسیحی مسلم تعلقات کے ایگزیکٹو سیکرٹری بھی رہے۔ اس کے علاوہ وہ ویٹی کن کی سابقہ پاپائی کونسل برائے بین المذاہب مکالمہ کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔
ریڈیو ویریتاس ایشیا (RVA) کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے فروغ سے متعلق اپنے چار دہائیوں پر محیط تجربات اور مشاہدات کا اظہار کیا۔
٭ پْلوں کی تعمیر آپ کی روزمرہ خدمت میں کس طرح نظر آتی ہے؟
فادر جیمز چنن نے کہا کہ زمینی سطح پر پْلوں کی تعمیر کا مطلب لوگوں کے درمیان مسلسل موجودگی، صبر اور عملی وابستگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ FABC کے دفتر برائے بین الکلیسیائی و بین المذاہب امور میں اپنی سات سالہ خدمت کے باعث وہ جنرل اسمبلی کے موضوع کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ لاہور میں قائم امن مرکز کے ذریعے مسلمان، مسیحی، ہندو اور نوجوان رہنما ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھتے ہیں، باہمی احترام کو فروغ دیتے ہیں اور اعتماد کی فضا قائم کرتے ہیں۔ جب بھی کسی علاقے میں مذہبی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو بین المذاہب رابطوں کے ذریعے مقامی علما کرام اور سماجی رہنماؤں کے ساتھ مل کر تنازعات کو شدت اختیار کرنے سے پہلے ہی حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ئ٭ آپ کو اپنی زندگی اَمن کے قیام کے لیے وقف کرنے کی ترغیب کہاں سے ملی؟
انہوں نے بتایا کہ ان کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ 1977ء میں آیا، جب ایک نوجوان سیمنرین کی حیثیت سے انہوں نے محسوس کیا کہ خدا انہیں مسلم اکثریتی پاکستان میں اپنے لوگوں کی خدمت کے لیے بْلا رہا ہے۔انہوں نے اس مقصد کے لیے چھ برس تک اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کیا، جس میں روزہ اور حج پر تحقیقی کام بھی شامل تھا۔ بعد ازاں انہوں نے روم کے پاپائی انسٹیٹیوٹ برائے عربی و اسلامی علوم سے عربی اور اسلامی علوم میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔فادر جیمز کے مطابق اسی مضبوط علمی بنیاد نے انہیں ویٹی کن میں بین المذاہب مکالمے کے مشیر اور پاکستان کے قومی کمیشن برائے مسیحی۔مسلم تعلقات میں سترہ سالہ خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کیا۔
٭ مذہبی تقسیم اور تشدد کے باوجود آپ امن کی کوششیں کیسے جاری رکھتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی، گھروں پر حملے، مسیحی لڑکیوں پر تشدد اور انصاف کی عدم فراہمی جیسے سنگین مسائل موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہمیشہ اَمن کا راستہ اختیار کیا ہے۔ان کے مطابق نفرت کی دیواروں کا مقابلہ صرف اعتماد کے مضبوط پْل تعمیر کرکے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے امن مراکز قائم کیے جاتے ہیں، بین المذاہب کمیشنوں کو فعال بنایا جاتا ہے اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل تعاون کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی ہمت نہ ہارنے کا سبق سیکھا ہے۔ تاریکی کو کوسنے کی بجائے اْمید کا ایک چراغ روشن کرنا ہی حقیقی مسیحی خدمت ہے۔
٭مختلف برادریوں کے درمیان حقیقی اعتماد قائم کرنے کے لیے سب سے ضروری قدم کیا ہے؟
فادر جیمز نے کہا کہ مذہبی آزادی پر پابندیوں، ہجوم کے تشدد، جبری مذہب تبدیلی، جبری شادیوں اور توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال جیسے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اِن مسائل کا حل صرف قائدین کے بیانات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے عوامی سطح پر مسلسل اور منظم رابطوں کی ضرورت ہے۔ جب مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے سے براہِ راست ملاقات کرتے ہیں تو غلط فہمیاں کم ہوتی ہیں اور باہمی احترام پروان چڑھتا ہے۔
٭ آپ نئی نسل کو پْل بنانے والے قائدین کے طور پر کیسے تیار کر رہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ اْن کی اولین ترجیح پاکستان کے نوجوان ہیں۔ انہیں سیمینارز، قومی کانفرنسز اور مطالعاتی دوروں کے ذریعے مختلف مذاہب کے رہنماؤں سے ملنے اور سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اپنی کتابوں اور تحریروں کے ذریعے بھی وہ نوجوانوں کی رہنمائی کرتے ہیں تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ مکالمہ واقعی معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے، اور اسی جذبے کے ساتھ مستقبل میں امن کے سفیر بن سکیں۔
٭ FABC کے مستقبل کے لیے آپ کی اْمیدیں کیا ہیں؟
فادر جیمز چنن نے کہا کہ ایشیا بھر میں بین المذاہب مکالمہ کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق جن ممالک میں مسیحی اقلیت میں ہیں وہاں مکالمہ کوئی اختیاری عمل نہیں بلکہ پرامن بقائے باہمی کے لیے ایک لازمی کلیسیائی ذمہ داری ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوانوں کو اَمن سازی کے عمل میں زیادہ مؤثر کردار دیا جائے تاکہ وہ مستقبل کے پْل بنانے والے قائدین بن سکیں۔انہوں نے آخر میں کہا کہ کلیسیا کو انسانی عظمت، انصاف اور مشترکہ بھلائی سے متعلق اپنی تعلیمات کو مسلسل فروغ دینا چاہیے تاکہ یہ اقدار صرف کتابوں تک محدود نہ رہیں بلکہ معاشرے کی عملی زندگی کا حصہ بن جائیں۔