سری لنکا میں قیدیوں کی خدمت کا مشن: پْلوں کی تعمیر سے نشہ کی تباہ کاریوں کا شکار زندگیوں کو نئی اْمید مل رہی ہے۔

سری لنکا میں قیدیوں کی خدمت کا مشن: پْلوں کی تعمیر سے نشے کی تباہ کاریوں کا شکار زندگیوں کو نئی اْمید مل رہی ہے۔
سری لنکا میں قیدیوں کی خدمت کا مشن: پْلوں کی تعمیر سے نشے کی تباہ کاریوں کا شکار زندگیوں کو نئی اْمید مل رہی ہے۔

ایشیا کی کیتھولک کلیسیا جب انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی بارہویں جنرل اسمبلی کی تیاری کر رہی ہے، جس کا موضوع ”سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر والے بننے کا مشن“ ہے، تو سری لنکا میں ”سسٹرز آف دی کراس آف شاوانوڈ“ کی جیلوں میں انجام دی جانے والی خدمت اس مشن کی ایک عملی مثال پیش کر رہی ہے۔سری لنکا میں منشیات کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان یہ راہبات قیدیوں کے ساتھ ہمدردی، روحانی رہنمائی اور بحالی کے عمل میں شریک رہتی ہیں، تاکہ ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑا جا سکے، انسانی عظمت کو بحال کیا جا سکے اور متاثرہ افراد کو دوبارہ اپنے خاندان، معاشرے اور خدا سے جوڑا جا سکے۔
سسٹر مورین پیریس، ایس سی سی، جو سسٹرز آف دی کراس آف شاوانوڈ کی پروونشل ہیں، کا کہنا ہے کہ پْلوں کی تعمیر کا آغاز دوسروں کی بات توجہ سے سننے سے ہوتا ہے۔وسطی سری لنکا کے شہر کینڈی کی ”دمبارا جیل“میں خدمات انجام دینے والی سسٹر مورین نے بتایا کہ ان کی جماعت باقاعدگی سے ایسی خواتین قیدیوں سے ملاقات کرتی ہے جو منشیات سے متعلق جرائم کے باعث قید ہیں۔ ان کے مطابق ان میں سے بہت سی خواتین اچھے اور مستحکم خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں، جبکہ بعض معروف کیتھولک تعلیمی اداروں کی طالبات بھی رہ چکی ہیں، جو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ منشیات کی لت سماجی، معاشی یا مذہبی حدود کی پابند نہیں۔ہر ہفتے راہبات قیدیوں کے لیے روحانی تعلیم کی کلاسیں منعقد کرتی ہیں، ان کے ساتھ دْعا کرتی ہیں اور ان کی زندگی کی کہانیاں سنتی ہیں۔
سسٹر مورین کہتی ہیں کہ یہی ملاقاتیں پْلوں کی تعمیر کے مقدس لمحات بن جاتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اکثر خواتین اپنے ٹوٹے ہوئے خاندانی رشتوں، جذباتی زخموں، گھریلو تنازعات، تنہائی، غلط صحبت اور غلط فیصلوں کا ذکر کرتی ہیں، جنہوں نے انہیں منشیات کی لت کی طرف دھکیل دیا۔ اِن تمام کہانیوں کے پیچھے ایک ہی خواہش نمایاں ہوتی ہے کہ کوئی انہیں قبول کرے، سمجھے اور محبت دے۔اْن کے مطابق تجربے نے انہیں سکھایا ہے کہ شفا کا سفر اْس وقت شروع ہوتا ہے جب کسی انسان کو حقیقی معنوں میں سنا جائے۔انہوں نے کہا کہ ْدعا، کلامِ مقدس پردھیان و گیان، ایمانی تعلیم اور ذاتی رہنمائی کے ذریعے بہت سے قیدی دوبارہ یہ دریافت کرتے ہیں کہ ْان کی شناخت اْن کی ماضی کی غلطیوں یا نشہ سے نہیں بلکہ خدا کے فرزند ہونے سے وابستہ ہے۔یہ خدمت صرف جیل کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتی۔ راہبات قیدیوں کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کرتی ہیں، صلح و مفاہمت کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور جہاں ممکن ہو قیدیوں کے بچوں کی تعلیم میں بھی مدد فراہم کرتی ہیں۔ اس طرح وہ منشیات کی وجہ سے متاثر ہونے والے خاندانوں میں دوبارہ اعتماد اور تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
تاہم رہائی کے بعد بھی مشکلات ختم نہیں ہوتیں۔بہت سے سابق قیدی دوبارہ انہی حالات میں واپس چلے جاتے ہیں جنہوں نے انہیں نشہ کی طرف دھکیلا تھا۔ خاندان کی بے رخی، روزگار کے محدود مواقع اور معاشرتی تعصب اْن کی نئی زندگی کے آغاز کو مزید دشوار بنا دیتے ہیں۔سسٹر مورین کا کہنا ہے کہ بحالی کا عمل صرف فرد کے عزم پر منحصر نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جو شفا کے سفر میں ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو۔انہوں نے کہا کہ ان کی یہ خدمت FABC کی سنڈیلیٹی کی دعوت کا عملی اظہار ہے، جہاں لوگ ایک دوسرے کی بات سنتے، ساتھ چلتے،ساتھ دیتے اور اتحاد کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جیل کی خدمت صرف قیدیوں سے ملاقات کا نام نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ زندگی کا سفر طے کرنا ہے جنہیں معاشرہ اکثر فراموش کر دیتا ہے، تاکہ وہ دوبارہ اْمید حاصل کر سکیں۔
اس مشن میں فادر جان اسٹیفن بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جو کینڈی ڈایوسیس کے جیل چیپلین ہیں اور بشپ ویلنس مینڈس نے انہیں قیدیوں کی روحانی نگہداشت کی ذمہ داری سونپی ہے۔اپنے پاسبانی تجربہ کی بنیاد پر فادر اسٹیفن نے بتایا کہ اگرچہ بہت سے قیدی گہرے ذہنی اور جذباتی زخم رکھتے ہیں، لیکن وہ خدا کے کلام کو قبول کرنے کے لیے حیرت انگیز طور پر آمادہ ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دْعا اور مسلسل روحانی رہنمائی کے ذریعے انہوں نے بہت سے قیدیوں کی زندگی میں حقیقی تبدیلی دیکھی ہے، جہاں وہ معافی، اندرونی شفا اور نئی زندگی کی تلاش میں خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔فادر اسٹیفن نے کہا کہ خدا کی رحمت سے کوئی بھی انسان محروم نہیں۔انہوں نے جیل کی خدمت کو اْمید کی بحالی، انسانی عظمت کے احترام اور قیدیوں کو ایک نئے مقصد کے ساتھ دوبارہ معاشرے میں واپس لانے کا مشن قرار دیا۔
سسٹر مورین نے اس بات پر زور دیا کہ منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے کا مقابلہ کوئی ایک ادارہ اکیلا نہیں کر سکتا۔ انہوں نے حکومت، تعلیمی اداروں، خاندانوں، مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ منشیات سے بچاؤ، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے اقدامات کو مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ کلیسیا بھی جیل کی خدمت، روحانی معاونت، خاندانی تعاون اور پیرش گروپس کے ذریعے اہم کردار ادا کر سکتی ہے جو نشہ سے بحال ہونے والے افراد کو محبت اور قبولیت کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے میں مدد دیں۔
آخر میں سسٹر مورین نے کہا کہ جب ایشیا کے بشپ صاحبان پْل اور پْل بنانے والے بننے کے مشن پر غور کریں گے تو دمبارا جیل میں انجام دی جانے والی یہ خدمت اِس مشن کا ایک واضح اور عملی نمونہ پیش کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہر گفتگو، ہر ْدعا، ہر قدم جو کسی انسان کے ساتھ مل کر اٹھایا جائے، اور ہر بحال ہونے والا رشتہ ایک ایسا پْل بن جاتا ہے جو انسان کو نشہ سے بحالی، رد کیے جانے سے قبولیت اور مایوسی سے اْمید کی طرف لے جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اْن کا تجربہ اِس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ حقیقی پْلوں کی تعمیر بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ کسی ایک انسان کے ساتھ شفا، مفاہمت اور نئی زندگی کے سفر میں قدم سے قدم ملا کر چلنے سے شروع ہوتی ہے۔