بنگلہ دیش میں مسلمان دکاندار کی کیتھولک برادری سے چار دہائیوں پر محیط اعتماد اور رفاقت کی داستان
جیساکہ ایشیا کی کیتھولک کلیسیا انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منعقد ہونے والے فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC) کے 12ویں جنرل اسمبلی کی تیاری کر رہی ہے، جس کا موضوع ”سنڈی تبدیلی کی دعوت اور ایشیا میں پل اور پل بنانے والے بننے کا مشن“ہے، مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان روزمرہ زندگی میں ہونے والی ملاقاتوں کی کہانیاں اس بات کی جھلک پیش کرتی ہیں کہ مکالمہ اور باہمی تعاون عملی زندگی میں کس طرح فروغ پاتا ہے۔
اس کی ایک خوبصورت مثال بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں دیکھی جا سکتی ہے، جہاں ایک مسلمان دکاندار گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے مذہبی تصاویر فراہم کرکے اور مقامی کیتھولک مؤمنین، کاہنوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرکے کیتھولک برادری کی خدمت کر رہا ہے۔
73 سالہ محمد عبدالرشید، جو ڈھاکہ کے فارم گیٹ علاقے میں تیجگاؤں کیتھولک چرچ کے قریب واقع ”رشید گلاس ہاؤس“ کے
مالک ہیں، 1988 سے یسوع المسیح، مقدسہ مریم، پاک خاندان، مقدس یوسف، مقدس انتھونی، مقدسہ ٹریضہ آف کلکتہ اور یہاں تک کہ پوپ لیو چہاردہم کی تصاویر فریم کرکے فروخت کر رہے ہیں، جو ان کے کاروبار کا اہم حصہ بن چکا ہے۔تیجگاؤں پیرش اور ہولی کراس سکول کے ساتھ واقع یہ دکان بنگلہ دیش کی سب سے بڑی کیتھولک برادریوں میں سے ایک کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ اس پیرش میں دس ہزار سے زائد کیتھولک آباد ہیں، جن میں بڑی تعداد اْن خاندانوں کی ہے جو روزگار کی تلاش میں دیہی علاقوں سے ڈھاکہ منتقل ہوئے۔
عبدالرشیدکہتے ہیں کہ کیتھولک برادری سے ان کا تعلق ابتدا میں صرف کاروباری مقصد کے تحت قائم ہوا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی رشتے میں تبدیل ہوگیا۔انہوں نے بتایا کہ میں کالج کا طالب علم تھا اور ایک تصویر سازی کی دکان پر کام کرتا تھا۔ بعد میں میں نے فارم گیٹ کے قریب اپنی دکان بنائی۔ ایک روز چرچ کے پاس سے گزرتے ہوئے میں نے ایک شخص کو حضرت عیسیٰ کی تصاویر فروخت کرتے دیکھا، چنانچہ میں نے بھی مسیحی مذہبی تصاویر فروخت کرنا شروع کر دیں۔وقت گزرنے کے ساتھ اْن کا کاروبار مزید وسعت اختیار کر گیا۔ اب اْن کا بیٹا بھی دْکان کے انتظام میں ان کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ دکان پر طلبہ اور مقامی رہائشیوں کے لیے فوٹو کاپی کی سہولت بھی موجود ہے۔ عبدالرشید کے اندازے کے مطابق ان کے تقریباً 80 فیصد گاہک کیتھولک ہیں۔
انہوں نے کہاکہ میری دکان پرکاہن صاحبان، راہبات، مذہبی برادران اور بعض اوقات بشپ صاحبان بھی آتے ہیں۔ وہ مجھ سے بہت محبت اور احترام سے پیش آتے ہیں، اور مجھے ان سے ملاقات کرکے بے حد خوشی ہوتی ہے۔عبدالرشید کا کہنا ہے کہ مسیحی مذہبی اشیا فروخت کرنے پر انہیں اپنی مسلم برادری کی جانب سے کبھی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔اْن کی دکان میں مسیحی مذہبی تصاویر کے ساتھ ساتھ اسلامی خطاطی، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی تصاویر اور قرآنی آیات بھی آویزاں ہیں، جو مذہبی ہم آہنگی کی خوبصورت تصویر پیش کرتی ہیں۔کیتھولک مؤمنین کے لیے یہ دکان عبادتی اور روحانی اشیا حاصل کرنے کا ایک معروف مرکز بن چکی ہے۔
دیرینہ گاہک اور تاجر سبیر گومیز نے حال ہی میں اپنے گھر کے لیے ”آخری عشائیہ“ اور مقدسہ مریم کی فریم شدہ تصاویر خریدیں۔انہوں نے کہا کہ جب گھر میں مقدس تصاویر موجود ہوں تو لوگ ان کے سامنے دْعا کر سکتے ہیں، اور زندگی کے مشکل لمحات میں یہی دعا دل کو سکون بخشتی ہے۔سبیر گومیز نے کیتھولک برادری کے لیے عبدالرشید کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا، اگرچہ وہ مسلمان ہیں، لیکن وہ مسیحیوں کے لیے ایک اہم خدمت انجام دے رہے ہیں، اور ہم اِس پر اْن کے شکر گزار ہیں۔
بنگلہ دیش تقریباً 17 کروڑ آبادی والا مسلم اکثریتی ملک ہے، جہاں کیتھولک کی تعداد تقریباً ساڑھے چار لاکھ ہے۔ تیجگاؤں کی کیتھولک برادری کے ساتھ عبدالرشید کا طویل تعلق اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ کام، ہمسائیگی اور روزمرہ زندگی میں قائم ہونے والے معمولی مگر مخلصانہ تعلقات مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان باہمی احترام، اعتماد اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تیجگاؤں چرچ کے قریب رہنے والی کیتھولک برادری کے لیے رشید کی دکان مختلف مذہبی روایات سے تعلق رکھنے والے ہمسایوں کے درمیان روزانہ ہونے والی ایسی ملاقات کی علامت ہے، جو اعتماد، احترام اور مشترکہ معاشرتی زندگی کے رشتوں سے جڑی ہوئی ہے۔