ایشیائی کلیسیاکو پھر سے یسوع کی جھلک بننا ہوگا۔فوقیت مآب کارڈینل پیبلو ڈیوڈ

مورخہ  29 نومبر کوپینانگ، ملائیشیا میں عظیم زیارتِ اْمید کے دوران منعقدہ پریس کانفرنس میں فوقیت مآب کارڈینل ڈیوڈ، بشپ آف کالوکان اور صدر آف کیتھولک بشپ کانفرنس آف فلپائن، نے 2033 جوبلی سال کی تیاریوں پر گفتگو کی۔ یہ سال یسوع مسیح کی موت اور جی اْٹھنے کے 2,000 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔
کارڈینل ڈیوڈ نے نہایت صاف گوئی اور حقیقت پسندی کے ساتھ کہا کہ ایشیا میں کلیسیاء کی خدمت فتح مندی کے جذبات سے نہیں بلکہ انکساری، سننے کی روح اور انجیل کی اخلاقی قوت سے ہونی چاہیے۔
 2033کی جانب سفر
ایشیا میں انجیل کو مؤثر طریقے سے کیسے پہنچایا جائے؟ اس سوال پر کارڈینل ڈیوڈ نے سب سے پہلے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اب بھی بہت سے مسیحیوں میں فتح مندانہ سوچ پائی جاتی ہے اور یہ کسی طور مددگار نہیں ہے۔انہوں نے مفاہمت کے ساکرامنٹ سے چار حرکتوں  اعتراف، پشیمانی، تلافی اور معافی کو بطور مثال پیش کیا اور کہا کہ یہی راستہ کلیسیاء کے اجتماعی خود جائزے کا نمونہ ہونا چاہیے۔
ہمیں بھی اعتراف کرنا ہوگا کہ ہم کہاں ناکام رہے۔کیونکہ ہماری انہی ناکامیوں نے کئی ممالک میں کلیسیائی موجودگی کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سچی خود تنقیدی رکاوٹ نہیں بلکہ انجیل کی حقیقی گواہی کے لیے بنیادی شرط ہے۔ آنے والے سالوں میں ایشیا میں کلیسیائی عمل انکساری، ثقافتی احترام اور حقیقی مکالمے سے عبارت ہونا چاہیے۔ یہی اصول موجودہ سنڈ آف سنڈی  کلیسیابھی پیش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سنڈی کلیسیاہمیں راستہ دکھا رہی ہے۔ یہ صرف طریقہ نہیں، بلکہ روحانیت ہے۔ ہمیں انجیل کو گہری ثقافتی اور انسانی وقعت کے احترام کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔پاپائے فرانسس کے زور پر انہوں نے کہا:”ہم اب کسی پر ایمان تھوپتے نہیں بلکہ یہ گواہی ہے زبردستی نہیں۔

کیا ایمان کا کوئی اثر بھی ہوتا ہے؟
کارڈینل ڈیوڈ سے پہلی ایشیائی مشن کانگریس کے اثرات کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔وہی کانگریس جس کی کہانی پر مبنی تبلیغ نے موجودہ زیارتِ اْمید کی راہ ہموار کی۔انہوں نے اسے ایک بڑے سوال کے تناظر میں رکھا:ایمان معاشرے کو کس حد تک بدل رہا ہے؟انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں اس اثر کا اندازہ خصوصاً سوشل میڈیا پر دیکھا جا سکتا ہے۔کیا نوجوان ہمیں سن رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی کہانی اثر کے ساتھ بیان کر رہے ہیں؟ کیا ہم واقعی کوئی تبدیلی لا رہے ہیں؟انہوں نے کہا کہ یسوع کی طرح کہانی سنانابنیادی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ کہانیاں مکالمہ، ملاقات اور تبدیلی کے دروازے کھولتی ہیں۔لیکن انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کلیسیاء منصوبہ بندی اور انتظامی جائزوں میں تو بہت مضبوط ہے، مگر اصل اثر کا جائزہ بہت کم لیا جاتا ہے۔انہوں نے سوال اْٹھایا:”ہم دیکھتے ہیں کہ منصوبہ پورا ہوا یا نہیں۔ مگر شاذ و نادر ہی کوئی پوچھتا ہے: کیا ایمان نے واقعی کوئی اثر ڈالا بھی؟
فلپائن کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے حالیہ فلوڈ کنٹرول کرپشن اسکینڈل کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ مسائل ظاہر کرتے ہیں کہ ایمان اور معاشرتی تبدیلی کے درمیان بڑا فاصلہ موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں بڑے فخر سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم ایک کیتھولک اکثریتی ملک ہیں۔ اتنی بدعنوانی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم زیادہ اثر نہیں ڈال سکے۔انہوں نے زور دیا کہ کلیسیاء کا کردار سیاسی نہیں، بلکہ روحانی اور اخلاقی ہے اور ساتھ ہی دلیرانہ ہونا چاہیے۔ہمیں مکالمہ کے قائد بننا ہوگا۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ کہاں ناکام رہے اور سوچنا ہوگا کہ انجیل کے اعلان میں کس طرح بہتر ہوسکتے ہیں۔
انکساری اور اْمید میں جڑی گواہی
کارڈینل ڈیوڈ نے پوری گفتگو میں ایک ہی بنیادی پیغام دہرایا:
انجیل کی گواہی اْسی وقت معتبر ہوتی ہے جب وہ انکساری، سچائی اور یسوع کی مثال میں جڑی ہو۔انہوں نے کہاکہ 
ہمارا اصل نمونہ یسوع ہیں۔ وہ لوگوں کے دل بدلا کرتے تھے، زندگیاں بدلتے تھے۔ہمیں بھی یہی کام انکساری کے ساتھ، احترام کے ساتھ، اور مل کر جاری رکھنا ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail