ایشیاء میں یسوع کی سرگوشی بنیں۔آرچ بشپ گلبرٹ گارسرا
آرچ بشپ گلبرٹ گارسرا نے ایشیاء بھر کے کیتھولک ڈیجیٹل مشنریوں سے اپیل کی کہ وہ ایسی ابلاغی خدمت کے ذریعے یسوع مسیح کی سرگوشی بنیں جو لوگوں کی بات سنتی، ثقافتوں کا احترام کرتی اور ڈیجیٹل دنیا میں سچائی اور اْمید پہنچاتی ہے۔فلپائن بشپس کانفرنس کے صدر آرچ بشپ گلبرٹ گارسرا نے یہ اپیل 11 ستمبر کو کوئزون سٹی میں ریڈیو ویریتاس ایشیا کے کیمپس میں واقع پوپ جان پال دوم آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والی پہلی ایشیائی کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی کی یوخرستی عبادت کے دوران کہی۔
چار روزہ یہ اسمبلی 10 تا 13 ستمبر منعقد ہو رہی ہے، جس میں ایشیا بھر سے 100 سے زائد کیتھولک ڈیجیٹل مشنری، ابلاغ کاراور ڈیجیٹل انفلوئنسرز شرکت کر رہے ہیں۔ اسمبلی کا موضوع ہے ”انفلوئنسرز سے گواہ بننے تک: ایشیا میں ڈیجیٹل مشن کے لیے سنڈی سفر۔ اس اسمبلی کی میزبانی ریڈیو ویریتاس ایشیا، FABC دفتر برائے تعلقاتِ عامہ کے تعاون سے کر رہا ہے۔
آرچ بشپ گارسرا نے یوخرستی عبادت کی قیادت جبکہ بشپ مارسیلینو انتونیو جونی مارالٹ جونیئر( FABC آفس آف سوشل کمیونیکیشن کے چیئرمین)، فادر جان می شین، (FABC آفس آف سوشل کمیونیکیشن کے ایگزیکٹو سیکریٹری) اور دیگر کاہنوں نے معاونت فرمائی۔ریڈیو ویریتاس ایشیا کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق کو یاد کرتے ہوئے آرچ بشپ گارسرا نے بتایا کہ انہوں نے یوخرستی عبادت کی قیادت کی دعوت اس لیے قبول کی کیونکہ یہ جگہ ان کے لیے خاص یادیں رکھتی ہے۔ 1986 کے پیپلز پاور انقلاب کے بعد آنجہانی جیمے کارڈینل سِن نے انہیں ریڈیو ویریتاس ایشیا کا انتظامی ڈائریکٹر مقرر کیا تھا، جہاں انہوں نے سات سال تک خدمات انجام دیں۔
انہوں نے یاد کیا کہ کس طرح ریڈیو ویریتاس ایشیا کی مختلف زبانوں میں خدمات اور شارٹ ویو نشریات نے ایشیاء بھر میں کیتھولک ایمان کا پیغام پہنچایا اور ان برادریوں تک رسائی حاصل کی جہاں مشنریوں کے لیے براہِ راست پہنچنا آسان نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی شارٹ ویو ریڈیو سے آگے بڑھ کر سوشل میڈیا، پوڈ کاسٹس، لائیو اسٹریمز اور مصنوعی ذہانت تک پہنچ چکی ہے، تاہم ریڈیو ویریتاس ایشیا کا مشن آج بھی وہی ہے یعنی ایشیاء کے لوگوں تک سچائی، اْمید اور انجیل کا پیغام پہنچانا۔ایشیاء میں یسوع کی سرگوشی کی تشبیہ استعمال کرتے ہوئے آرچ بشپ گارسرا نے ایسی ابلاغی خدمت کی ضرورت پر زور دیا جو لوگوں کے قریب جائے، نہ کہ اْن پر اپنی آواز مسلط کرے۔انہوں نے کہا کہ ہم یسوع کو ایشیاء میں اس طرح نہیں لاتے کہ اپنی آواز بلند کرکے ایشیاء پر غالب آ جائیں، بلکہ ایشیاء کے قریب جا کر، اس کے لوگوں کی بات سن کر، ان کے ساتھ چل کر، ان کی خدمت کرتے ہوئے اور نرمی سے یسوع کی محبت کو سننے اور محسوس کرنے کا موقع دے کر یسوع کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔انہوں نے ڈیجیٹل مشنریوں کو یاد دلایا کہ وہ محض مواد تیار کرنے والے افراد نہیں بلکہ گواہ ہیں اور ان پر اخلاقی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر سرخی، تصویر، ویڈیو، پوسٹ اور کہانی ایک انتخاب کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے ابلاغی کارکنوں کو اس بات پر غور کرنے کی دعوت دی کہ کن لوگوں کی آوازوں کو نمایاں کیا جا رہا ہے اور کن کی آوازیں اب بھی سنی نہیں جا رہیں۔آرچ بشپ گارسرا نے خبردار کیا کہ کلکس، لائکس اور فالوورز کو سچائی کا متبادل نہیں بننے دینا چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غلط معلومات اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جھوٹی معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے ڈیجیٹل مشنریوں کو تاکید کی کہ اشاعت سے پہلے تصدیق کریں، فیصلہ کرنے سے پہلے سنیں، تشریح کرنے سے پہلے سمجھیں اور مذمت کرنے سے پہلے سیاق و سباق کو جانیں۔
آرچ بشپ گارسرا نے ڈیجیٹل مشنریوں پر زور دیا کہ وہ خاص طور پر غریبوں، تارکینِ وطن، مقامی اقوام، نوجوانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی بات سنیں۔انہوں نے ایشیاء کے متنوع معاشروں میں ابلاغ کار وں کو پْل بنانے والے افراد بننے کی دعوت بھی دی۔ ان کے مطابق سچائی کو نفرت کے بغیر بیان کرنا چاہیے، ناانصافی کی مذمت کرتے ہوئے دوسروں کی انسانیت کو مجروح نہیں کرنا چاہیے اور تنقید کرتے ہوئے انسانی عظمت کو پامال نہیں کرنا چاہیے۔ان کے مطابق ہر ڈیجیٹل پلیٹ فارم انجیل کے پیغام کا جدید ذریعہ بن سکتا ہے۔
یوخرستی عبادت کے دوران مختلف ایشیائی زبانوں میں علامتی نذرانے پیش کیے گئے اور مختلف زبانوں میں دعائیں بھی پیش کی گئیں، جو شرکاء کے درمیان موجود ثقافتی اور لسانی تنوع کی عکاسی کرتی تھیں۔آرچ بشپ گارسرا نے کہا کہ بالآخر ہمیں محض معلومات پہنچانے کے لیے نہیں بلایا گیا بلکہ ہمیں سچائی کے گواہ بننے کے لیے بلایا گیا ہے۔ اور یہ سچائی کوئی اور نہیں بلکہ یسوع مسیح ہے۔
