جہالت کا شور عقل کی خاموشی

کہا جاتا ہے کہ ایک بار سقراط نے سوال کیا:
اگر کوئی گدھا مجھے لات مار دے، تو کیا میں اس پر مقدمہ کروں گا؟ شکایت درج کرواؤں گا؟ یا اسے واپس لات ماروں گا؟
یہ محض ایک طنزیہ جملہ نہیں، بلکہ انسانی رویّوں پر گہرا تبصرہ ہے۔ اس میں زندگی کا ایک ایسا اصول پوشیدہ ہے جو ہمیں ہر روز کے تنازعات، بحثوں اور غیر ضروری لڑائیوں سے بچا سکتا ہے۔
ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ہر دلیل کا جواب دینا ضروری ہے۔ ہر اعتراض کا دفاع کرنا لازم ہے۔ ہر تنقید کا رد کرنا ہماری عزت کا تقاضا ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ہر مباحثہ جیتنا دانشمندی نہیں۔ہر بات کا جواب دینا وقار نہیں۔ہر شخص کو قائل کرنا کامیابی نہیں۔ہر جنگ لڑنا ضروری نہیں۔اصل دانائی یہ ہے کہ ہم پہچان سکیں کہ کون سی بات ہماری توجہ کے قابل ہے اور کون سی نظرانداز کرنے کے لائق۔
جہالت اکثر چیختی ہے، شور مچاتی ہے، توہین پر اْتر آتی ہے۔عقل عموماً خاموش رہتی ہے، مشاہدہ کرتی ہے اور وقت کا انتظار کرتی ہے۔جب کسی انسان کے پاس دینے کے لیے دلیل نہیں ہوتی تو وہ آواز بلند کر لیتا ہے۔ جب الفاظ کم پڑ جائیں تو لہجہ سخت ہو جاتا ہے۔
 ایسے میں سب سے طاقتور جواب چیخنا نہیں، بلکہ خاموش رہنا ہوتا ہے۔خاموشی کمزوری نہیں،یہ خود اعتمادی کی علامت ہے۔یہ اس یقین کا اظہار ہے کہ سچ کو ثابت کرنے کے لیے ہمیشہ شور کی ضرورت نہیں ہوتی۔
زندگی کی سب سے قیمتی چیز وقت اور توانائی ہے۔اگر ہم اپنی ذہنی اور جذباتی توانائی ہر تنقید، ہر طنز اور ہر غیر ضروری بحث پر صرف کرتے رہیں، تو ہمارے پاس اپنی ترقی، اپنے خوابوں اور اپنے سکون کے لیے کچھ باقی نہیں بچے گا۔
ہر شخص ہماری توجہ کا مستحق نہیں ہوتا۔ہر تنقید سنجیدہ لینے کے قابل نہیں ہوتی۔اور ہر رائے ہماری سمت متعین نہیں کرتی۔دانشمند وہ ہے جو اپنی توانائی وہاں خرچ کرے جہاں اْس کا نتیجہ مثبت ہو، نہ کہ وہاں جہاں صرف تھکن اور مایوسی ملے۔
اکثر زندگی ہمیں یہ سبق دیر سے سکھاتی ہے کہ ہر لڑائی لڑنے کے قابل نہیں ہوتی۔ ہر بحث عزت میں اضافہ نہیں کرتی اور ہر شخص ہمارے وقت کے قابل نہیں ہوتا۔کچھ معاملات وقت پر چھوڑ دینا ہی بہترین فیصلہ ہوتا ہے۔ وقت خود سچ اور جھوٹ میں فرق واضح کرتا، کرداروں کو بے نقاب اور خود انصاف کر دیتا ہے۔خاموشی اختیار کرنا بعض اوقات سب سے طاقتور اعلان ہوتا ہے۔یہ اعلان کہ آپ اپنی سطح سے نیچے نہیں اْتریں گے۔یہ اعلان کہ آپ اپنی قدر جانتے ہیں۔یہ اعلان کہ آپ اپنی ذہنی سکون کو وقتی بحث پر قربان نہیں کریں گے۔
زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ بعض اوقات پیچھے ہٹ جانا شکست نہیں، بلکہ حکمت ہے۔ نظر انداز کرنا بزدلی نہیں، بلکہ پختگی ہے۔
اگر کوئی گدھالات مارے، تو ہر بار جواب دینا ضروری نہیں۔کبھی کبھی مسکرا کر آگے بڑھ جانا ہی سب سے بڑی فتح ہوتی ہے۔اپنی توانائی سنبھال کر رکھیں۔اپنا وقت قیمتی سمجھیں۔اور یاد رکھیں!سب سے مضبوط لوگ وہ نہیں جو ہر جنگ جیتتے ہیں،بلکہ وہ ہیں جو جانتے ہیں کہ کون سی جنگ لڑنی ہی نہیں۔

Daily Program

Livesteam thumbnail