گوشت خور درخت اور پودے

آپ یہ تو جانتے ہی ہوں گے کہ انسان اور جانوردونوں ہی گوشت خور ہوتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی یہ سنا ہے کہ درخت بھی گوشت خور ہوتے ہیں۔ ان درختوں یا پودوں کو انگریزی میں Carnivorous Plant بولتے ہیں۔اور یہ اپنے شکار کو کئی دنوں تک آہستہ آہستہ کھاتے ہیں۔ ان پودوں کی خوراک میں چھوٹے جانور جیسے چوہا ' خرگوش وغیرہ اور حشرات داخل ہیں۔بڑے جانوروں کے شکاری درخت بھی افریقہ میں پائے جاتے ہیں جو کہ بہت ہی کم تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اور اکثر انسان ا ن کے پاس سے گزر جاتے ہیں اور ان کو علم نہیں ہوتا کہ یہ درخت گوشت خور ہیں۔
یہ گوشت خور درخت افریقہ کے جنگلات میں پائے جاتے ہیں۔ اب یہ درخت گوشت کیسے کھاتے ہیں یہ اپنی جگہ ایک دلچسپ کہانی ہے۔ جب کوئی جانور کسی ایسے درخت کے نیچے جاکر سوتا یا آرام کرتا ہے۔ تو یہ اپنی ٹہنیاں نیچے کرکے اسے آہستہ آہستہ جکڑ لیتے ہیں۔یہ درخت ان کو اتنی خوبصورتی سے جکڑتے ہیں کہ جانور کو احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ جکڑا جارہا ہے۔ اکثر جانوروں کو احساس اس وقت ہوتا ہے۔ جب وہ پوری طرح جکڑا جا چکا ہوتا ہے۔ پھر یہ درخت اس کا خون چوس کر گوشت بھی غائب کردیتے ہیں۔ جب صرف ہڈیاں باقی رہ جاتی ہیں تو یہ انہی جکڑی ہوئی ٹہنیوں کو کھول کر ہڈیاں پھینک دیتے ہیں۔ عقل اس بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ لیکن کیا کہیں یہ سب قدرت کے کرشمے ہیں۔ جوانتہائی حیرت انگیز بھی ہیں اور حیران کن بھی۔ ان درختوں کی ٹہنیوں کی جکڑ اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ ایک دفعہ جو جانور اس میں پھنس جائے وہ لاکھ نکلنے کی کوشش کرے، کامیاب نہیں ہوپاتا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے آخر ان ٹہنیوں میں اتنی طاقت کہاں سے آگئی کہ یہ کسی جانور کو اپنی گرفت سے آزاد نہیں ہونے دیتیں؟سائنس اس معاملے میں ابھی خاموش ہے۔
دنیا میں پودوں کی 500کے قریب ایسی قسمیں ہیں جو گوشت کھاتی ہیں۔ یہ پودے شائد بہت کم انسانوں نے دیکھے ہوں گے لیکن ان کا وجود ہے۔ دنیا کے کچھ خطوں میں قدرت کے یہ عجیب وغریب شاہکار اپنی موجودگی کا پتہ دیتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور ناقابل یقین بات یہ ہے کہ بعض درختوں کے پتے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے شکار کے گرد لپٹ جاتے ہیں۔ ان پتوں میں کونسی ایسی طاقت چھپی ہوئی ہے۔ ہم تو صرف پتوں کو ان کی سراسراہٹ کے حوالے سے جانتے ہیں۔ یا صرف اس حوالے سے کہ پتوں کا کام ہوا دینا ہے اور ان کے وجود کا دوسرا کوئی جواز نہیں۔ لیکن پتے شکاری بھی ہو سکتے ہیں،عقل اس بات کو آسانی سے تسلیم نہیں کرتی۔
یقین کیجئے یہ بالکل سچ ہے۔ یہ قدرت خداوندی کی وہ زندہ صداقتیں ہیں جنہیں ماننے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔ درختوں کے یہ پتے صرف کیڑے مکوڑوں کا شکار کرتے ہیں۔ برازیل میں ”مین چنیل“ نامی درخت جب بہار کے زمانے میں پھلتا پھولتا ہے تو لوگ سایہ دیکھ کر نیچے ٹھہر جاتے ہیں یہ درخت اپنے پھولوں سے ایک بہت ہی زہریلا سفوف مسافروں پر گراتا ہے جس سے مسافر ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اس طرح درخت قاتل بھی ہوتے ہیں۔ 
 

Add new comment

1 + 1 =