ویکونا

دنیا کے ایک خطے میں ایک ایسا جانور بھی پایا جاتا ہے جس کی اون نفاست، خوبصورتی اور معیار میں دنیا کی صف اول کی اون مانی جاتی ہے۔اس سے بنے پیراہن اور مصنوعات عام آدمی کی خرید سے تو دور کی بات ہے اس کے تصور سے بھی باہر ہوتے ہیں۔  اس نایاب اون کے خالق جانور کا تعلق وکیونا Vicuna نسل کے جانوروں لاما، الپاکا گواناکو اور ویکگنا سے ہے۔ یہ پستہ قد جانور اونٹ سے بہت مشابہت رکھتے ہیں اسی لئے انہیں ”پستہ قد اونٹ“بھی کہتے ہیں۔اور کیوں نہ کہا جائے بنیادی طور پر یہ اونٹ ہی کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔کافی عرصہ پہلے تک یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ الپاکا لاما ہی کی نسل سے ہے۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ انکے والدین مختلف ہیں۔تاہم دونوں کا تعلق وکیونا نسل سے ہی ہے۔وکیونا ہزاروں سال سے پیرو سے شمالی ارجنٹائن تک پھیلی انکا سلطنت (Inca Empire)کی پہاڑیوں اینڈیز میں پائے جاتے ہیں۔بنیادی طور پر وکیونا نسل،الپاکا،(Alpaca)، لاما(Llama)، گواناکو(guanaco) اور ویکگنا (Vicugna)پر مشتمل اونٹوں ہی کی ایک نسل(Camelids)سے ہیں۔ ان کی شکل اونٹوں جیسی ہے جبکہ قد میں یہ اونٹ سے چھوٹے ہوتے ہیں۔الپاکا اور لاما پالتو نسل ہے جبکہ گوانا کوس اور وکوگنا جنگلی نسل ہے جو ہمیشہ 11ہزار فٹ سے کم بلندی پر نہیں رہتے۔تاہم یہ سب ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں۔وکیونا کی اون سے کپڑا بنانے کی روایت قدیم انکا دور سے چلی آ رہی ہے۔ چونکہ وکیونا کی اون انتہائی سست رفتاری سے بڑھتی ہے اور پرانے دور میں انکا کے لوگ انکی اون ہر چار سال بعد اتارتے تھے اور پھر شاہی خاندانوں کے لئے شاہی گوداموں میں محفوظ کرلی جاتی تھی۔ اس سے بننے والا کپڑا سونے کی طرح قیمتی اور پر وقار تصور ہوتا تھا۔ انکا سلطنت میں شاہی خاندان کے علاوہ کسی اور کو وکیونا اون کے پیراہن استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔سنہری رنگ کی نفیس اور ملائم اون دیکھ کر بادی النظر میں ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ یہ ضرور ایک نرم و نازک جانور ہو گا جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ وکیونا انتہائی بلندی پر رہنے کی وجہ سے ایک سخت جان اور متحرک جانور ہے۔چونکہ اس کے خون میں سرخ خلیوں کی مقدار کسی بھی دوسرے جانور سے زیادہ ہوتی ہے جس کے سبب انہیں آکسیجن کی فراہمی میں دشواری کا سامنا نہیں رہتا اور اسی وجہ سے یہ بلندی پر رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ وکیونا کا نظام انہضام معدے کی تین تہوں کے باعث عجیب و غریب صلاحیت کا حامل پایا گیا ہے۔اس کا اندازہ اس امر سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اس علاقے کی خشک اور سخت گھاس '' اچو '' بھی کھا کر گزارہ کر لیتا ہے۔ وکیونا جانوروں میں الپاکا کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ اس کا اوپر کا جبڑا دانتوں کے بغیر ہوتا ہے۔جبکہ اوپر والے ہونٹ انتہائی طاقت ور ہوتے ہیں۔جس کے باعث یہ سخت سے سخت چیز کو بھی کاٹ سکتے ہیں۔ وکیونا جانوروں کی فطرت میں ہے کہ انکے سونے کی جگہ چرنے کی جگہ سے مختلف ہوتی ہے۔ اگرچہ انکی اون کی تہہ بالکل ہلکی ہوتی ہے لیکن یہ سرد ترین جگہ پر بھی رات گزار لیتے ہیں۔ وکیونا ہمیشہ ریوڑ کی شکل میں رہنا پسند کرتے ہیں۔جبکہ ان میں ایک دوسرے کو متوجہ کرنے لئے مخصوص قسم کی ایک آواز جو وسل کی طرح ہوتی ہے یہ صرف ہونٹوں کی جنبش سے نکالتے ہیں۔ ماہرین نباتیات کہتے ہیں کہ وکیونا جانوروں میں دوسرے جانوروں سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے پیغام رسانی کرنے کی صلاحیت ہے۔وکیونا پیرو کے ساتھ ساتھ ایکواڈور،شمالی بولیویا،شمالی چلی،امریکہ اسٹریلیا میں بھی پایا جاتا ہے۔
وکیونا اون کیوں مہنگی ہے؟
وکیونا کی سست رفتاری سے بڑھتی ہوئی اون کو اکٹھا کرنے کے لئے جو ان تھک محنت درکار ہوتی ہے دراصل وہی اسے گوہر نایاب بناتی ہے۔ زمانہ قدیم میں ایک جانور سے اوسطاً 200 گرام اون ہر چار سال بعد حاصل کی جاتی تھی لیکن آجکل ہر تین سال بعد اس سے اون حاصل کی جاتی ہے۔ اس سے اترنے والی اون دار چینی کے رنگ کی نرم, ملائم اور نفاست میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔اس کی یہ خوبی بھی ہے کہ یہ الرجی فری ہے۔ اس کے علاوہ اس کی خاص بات یہ ہے کہ مختلف اقسام کے فائبرز کی حامل یہ اون 12 سے 14مائیکرونز قطر پر مشتمل ہونے کی بدولت موسمی شدتوں کا مقابلہ احسن طریقے سے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چنانچہ اس جیسی لاتعداد خاصیتوں کی بدولت یہ دنیا کی مہنگی 
ترین قدرتی اون ہے۔ پشمینہ،جو ایک اچھی اون کی شہرت رکھتی ہے وہ دوسری سب سے مہنگی اون ہے کیونکہ وکیونا,اس سے بارہ گنا زیادہ مہنگی ہے۔ اس کی مانگ اور معیار کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ خام شکل میں پشمینہ اون مارکیٹ میں 80 ڈالر فی کلو گرام میں بکتی ہے جبکہ وکیونا خام شکل میں 1000 ڈالر فی کلو گرام کے حساب سے فروخت ہوتی ہے۔                               
1532 میں جب ہسپانوی حملہ آوروں نے اس اون کو دیکھا تو ان پر قدر و قیمت آشکارا ہوئی۔ انہوں نے ان کا شکار کر کے گوشت اور اون دونوں کا استعمال شروع کر دیا۔ چنانچہ یہ ”قتل عام“ کئی صدیوں تک جاری رہا جس سے وکیونا کی تعداد اس خطے میں محض دس ہزار کے قریب رہ گئی۔ جو معدومی کے خطرے کی علامت اور اس کی نسل کشی کے مترادف تھی۔آخر کار پیرو کی انتظامیہ کو اس امر کا ادراک ہوا تو 1967میں اس نے پہلی مرتبہ 16ہزار ایکڑ پر مشتمل ان جانوروں کی حفاظت اور افزائش نسل کے لئے ایک پناہ گاہ ”کاپمپاگالیراس نیشنل ریزرو“بنائی، اس کے بعد پیرو نے وکیونا کی مصنوعات اور تجارت پر ہر قسم کی پابندی عائد کر دی۔اس کے ساتھ ساتھ 1975ء میں اسکی تیزی سے کم ہوتی ہوئی نسل کے خطرے کے پیش نظر ”کنونشن آن انٹر نیشنل ٹریڈ انڈیجرڈ سپیشیز“نے وکیونا کو انتہائی خطرے سے دو چار جانور قرار دے دیا۔ اور بین الاقوامی سطح پر وکیونا کی مصنوعات کی تجارت پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔چنانچہ سن 1994 میں اس پر عائد بین الاقوامی پابندی اٹھا لی گئی۔اور 2008ء میں وکیونا کو خطرے سے دو چار جانوروں کی فہرست میں انتہائی کم درجہ دے دیا گیا، جو یقینا ایک بہت حوصلہ افزا کامیابی تھی۔وکیونا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ پیرو کا قومی جانور ہے، اسکی تصویر پیرو کے پرچم پر نمایاں ہونے کے ساتھ ساتھ وہاں کے سکوں پر بھی کنندہ ہے۔

 

Add new comment

6 + 7 =