سنگھاڑے غذائیت سے بھرپور قدرتی تحفہ

 ایک ایسا تکونا پھل جس کے کونے کانٹے کی شکل کے ہوتے ہیں، اس کا پودا تالاب میں پیدا ہوتا ہے، اس کا چھلکا سخت ہوتا ہے، خام ہونے کی صورت میں سبز ہوتا ہے اور پک جانے کے بعد پوست سیاہ ہو جاتا۔
سنگھاڑے کی آج سے ہزاروں برس قبل بھارت کے صوبہاتر پردیش کے ضلع آگرا میں دریا جمنا کے نزدیک ایک پرانے تالاب میں قدرتی طور پر پیداوار شروع ہوئی۔بعد میں کافی تحقیق و تجربات کے بعد اسے طب میں شامل کرلیا گیا۔ سنگھاڑ ا پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی کاشت کیا جاتا ہے.یہ ایک بیلدار پھل ہے.اس کا پودا تالابی پودا کہلاتا ہے،جو جھیلوں،جوہڑوں اور بڑے تالابوں میں تیرتا ہوا دکھائی دیتا ہے.اس کی بیل پانی کے اوپر رہتی ہے.پتے سبز اور بڑے ہوتے ہیں،جن پر باریک رگیں ہوتی ہیں.پودے کی جڑ میں پھل لگتا ہے اور جڑ پانی کی گہرئی تک چلی جاتی ہے۔جن تالابوں میں پانی کم ہوتا ہے وہاں سنگھاڑے کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔اس کا پودا اکتوبر سے دسمبر تک پھل دیتا ہے۔پودے پر نیلے اور سفید پھول آتے ہیں،جو بہت خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔سنگھاڑے میں لحمیات (پروٹینز)،چکنائی،نشاستہ (carbohydrate)،نمکیات،کیلشیم،فاسفورس،حیاتین الف (وٹامن اے) اور گلوکوز ہوتی ہے.تازے سنگھاڑے کو روزانہ کھایا جاسکتا ہے.اس کا ذائقہ پھیکا ہوتا ہے،جبکہ اْبلے ہوئے سنگھاڑے کا ذائقہ دیسی انڈے کی طرح ہوتا ہے۔
سنگھڑ نظامِ انہضام کو طاقت دیتا ہے۔دیر سے ہضم ہوتا ہے۔بوڑھے،جوان اور عورتوں کے لئے مفید ہے۔ہاضمے کی خرابی اور جگر کی گرمی کو دور کرتا ہے۔کمر کے درد سے نجات دلاتا ہے۔پیاس کی شدّت کو کم کرتا ہے۔بلڈ پریشر پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔جلد کو نرم و ملائم اور چمک دار بناتا ہے۔کھانسی اور دق و سل (ٹی بی)کے خاتمے میں مفید ہے۔جسم کی کمزوری دور کرتا ہے۔جن لوگوں کا مزاج گرم ہو وہ اپنے ہاتھ پاؤں میں جلن محسوس کرتے ہوں،جن کے جسم پر عام طور پر پھوڑے اور پھنسیاں نکلتی ہوں یا جنھیں منہ پکنے کی تکلیف ہو جاتی ہو،ایسے لوگوں کو کھانا کھانے کے دو گھنٹے بعد کچے سنگھاڑے کھانے چاہییں۔

 

Add new comment

2 + 2 =