ایلوویرا ایک جادوئی پودا

اگر آپ نے کوار گندل یا ایلو ویرا کا پودا دیکھا نہیں تو کم از کم اس کانام ضرورسنا ہو گا۔ چونکہ یہ عام پایا جانے والا اور سستے داموں دستیاب پودا ہے‘ اس لئے اکثر اوقات اسے نظرانداز کر دیاجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ننھا سا پودا اپنے اندر بے پناہ تاثیر اوران گنت فوائد چھپائے ہوئے ہے۔ 
اس پودے کی تاریخ چار ہزار سال پرانی ہے۔ ملکوتی حسن کی مالک مصری ملکہ قلوپطرہ اپنی خوبصورتی کے نکھار کے لیے ایلوویرا استعمال کرتی تھی۔ سکندراعظم کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کی فوج جنگوں میں زخموں کی مرہم پٹی کے لئے ایلو ویرا جیل کا استعمال کرتی تھی۔ امریکہ کو دریافت کرنیوالا کولمبس بھی جلد ی بیماریوں کے لئے ایلو ویراکا مرہم لگاتا تھا۔ وہ بحری سفر کے دوران اپنے جہاز میں اس کا پودا ضرور رکھتا تھا۔چینی طب میں بھی عہد قدیم سے ایلوویرا کو مختلف ادویات کا حصہ بنایا جاتارہا ہے۔
یہ کوار گندل ایک سخت جان پودا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ سات سال تک پانی کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کی پانی کی ضرورت اتنی کم ہے کہ اس کے لئے رات کو گرنے والی شبنم ہی کافی ہوتی ہے۔ اس کا قد ڈیڑھ سے اڑھائی فٹ تک ہوتا ہے۔ اس کے پتے سائز میں بڑے اور نیزے کی شکل کے ہوتے ہیں جن کے سروں پر کانٹے ہوتے ہیں۔ اس کے پتے تنے کے ساتھ سے نکلتے ہیں اور ایک باریک تہہ کے ذریعے اس سے جڑے ہوتے ہیں جنہیں الگ کرنے پر شاخ اور پتا زخمی نہیں ہوتے۔ ایک پودے پر عموماً 12 سے16 پتے لگتے ہیں۔ نچلے پتے ذرا پختہ اور استعمال کے لئے تیار ہوتے ہیں جبکہ اوپر کے پتے نئے اور کمزور ہوتے ہیں۔دنیا میں اس کی سالانہ تجارت 80 ملین ڈالر تک ہے جس میں 65 فی صد حصہ امریکہ،10 فی صد بھارت اور چین اور باقی 25 فی صد دوسرے ممالک کا ہے۔
ایلوویرا کے پتے تقریباً تین سال کے عرصے میں اس قابل ہوجاتے ہیں کہ ان سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔ اس مرحلے پر وہ دو بنیادی چیزیں جیل اور عرق فراہم کرتے ہیں۔ ”ایلو“ ایک صاف، جیلی نما مواد ہے جو پتے کے اندورنی حصے میں پایا جاتا ہے۔ خوبصورتی بڑھانے والی اکثر مصنوعات مثلا صابن، لوشنز اور کریمز وغیرہ میں اس کا استعمال کیاجاتا ہے۔ زرد رنگ کا عرق پتے کے نیچے سے حاصل ہوتا ہے جو مختلف ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔ایلوویرا ان پودوں میں شامل ہے جنہیں اگانا آسان ترین ہے‘ اس لئے کہ یہ ہر طرح کی آب و ہوا اور موسم میں اپنا تحفظ کر لیتا ہے۔ تاہم اس کی بہتر افزائش کے لئے مثالی آب و ہوا ساحلی علاقے ہیں۔عام طور پرکوار گندل پر کوئی کیڑا حملہ نہیں کرتا لیکن پھر بھی یہ دو بیماریوں کا شکار ہوسکتا ہے۔ان میں سے ایک اس کی جڑوں کا گل جانا اور دوسرا پتوں کا سرخ یا پیلاہو جاناہے۔ان بیماریوں سے بچاؤکے لئے اسے زیادہ پانی نہ دیا جائے۔ بہتریہ ہے کہ اسے گرمیوں میں دن میں ایک دفعہ اور سردیوں میں دویا تین دن کے بعد پانی دیا جائے۔ گملے میں زائد پانی کے اخراج کا مناسب انتظام بھی ہونا چاہئے۔
یہ پودا  پانچ خصوصیات کی بنا پر حیران کن پودا کہلاتا ہے۔
 ۱۔یہ بہت جلد‘ انسانی جلد کی ساتوں تہوں میں جذب ہوجاتا ہے۔
۲۔اس کی جیل میں تما م طرح کے جراثیم مثلاً بیکٹیریا،وائرس اور پھپھوندی کی افزائش کو روکنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ مختلف الرجیز‘ زخموں یا جلی ہوئی جلد پر لگانے سے فوراً آرام آتا ہے۔ اس کے متواتر استعمال سے پرانے زخم بھی جلد ٹھیک ہوجاتے ہیں۔
۳۔ایلویرا جیل جلد کو سورج کی مضر شعاعوں سے محفوظ رکھنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے مضر اثرات مثلاً رنگ خراب ہونے، اور جلد پر پڑنے والے دھبوں اورجھریوں سے محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
۴۔اگر اس کے جیل کو درد والی جگہ پر لگایا جائے تو یہ اعصاب اور پٹھوں کے کھچاو کو کم کر کے اٹھنے والے دردکو سکون میں بدل دیتا ہے۔
۵۔ایلوویراجیل میں امینو ایسڈ، وٹامنز اور معدنیات کے علاوہ ایسے اجزائبھی پائے جاتے ہیں جو جسم سے فاسد اور غیر ضروری مادوں کے اخراج میں مدد دیتے ہیں۔ اس سے جسم فعال، توانا اور بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

 

Add new comment

6 + 2 =