آ خرکوئی تو خوش ہے۔ کرونا سے

                                      آ خرکوئی تو خوش ہے۔ کرونا سے 
          لاک ڈاؤن نے زندگی جام کر دی مگرماحول بہتر ہو گیا جس کی امید کرنا بھی پہلے ناممکن تھا وہ اچانک ہوگیا۔

کرونا وائرس نے انسان پر کتنے ظلم ڈھائے اور مسلسل ڈھائے جا رہے ہیں،اس سے پوری دنیا آگاہ ہے،روزانہ اسی کی خبریں سنائی دیتی ہیں،جبکہ دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں کوئی اچھی خبر یا بہتری اشارہ کرے تو ناقابل یقین ہوگا۔ مگر کچھ ماہرین اور سائنس دان ایسے بھی ہیں جو اپنی تحقیق اور جستجو سے کچھ اچھی خبریں بھی سنا رہے ہیں جو چندماہ پہلے تک ناممکن تھا وہ اب ممکن ہوتا نظر آیا ہے۔
بہت سے سیاست دان، سائنس دان اور فلاسفرایک نئی دنیا کا نقشہ ترتیب دے رہیں ان کا کہنا ہے کہ کرونا کے بعد کی دنیا بہتر ہوگی ہم اچھا سوچیں یا برا، مگر یہ طے ہے کہ اس سے قبل دنیا نے اس نوعیت کے بحران کا سامنا نہیں کیا تھا۔ یہ اب معیشت، کاروبار، بین الاقوامی تعلقات، ملکی سیاست، سماجی معاملات، صحت عامہ اور انسانی تعلقات میں نمایاں تبدیلیاں نظر آئیں گی۔ یہ سچ ہے کہ کرونا کی وجہ سے سب کو غیر معمولی حالات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس مسئلے پر کسی کو معلومات نہیں تھی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ وبائی مرض ہے اور اتنا مہلک ہے کہ اس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے ماہرین ماحولیات اور ماہرین ارضیات نے انکشاف کیا ہے کہ فضا میں پھیلی کثافت اور آلودگی میں کمی آئی ہے۔ آسمان صاف نظر آنے لگا ہے، تارے بھی گنے جا سکتے ہیں، ہوا میں تازگی محسوس ہوتی ہے اور کھلے ماحول میں طمانیت کا احساس ابھرتا ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے، دھواں نظر نہیں آتا۔ خالی موٹروے صاف دکھائی دے رہی ہے۔ کارخانے بند ہونے، قدرتی ایندھن کا استعمال نہ ہونے اور سڑکوں سے گاڑیوں کے غائب ہو جانے سے فضائی آلودگی میں 45فیصد تک کمی ہوگئی ہے۔فضامیں نائٹروجن آکسائیڈ کی کمی سے صاف ہوا میسر آ رہی ہے۔ کرونا کی قیامت خیزیاں اپنی جگہ سہی مگر ماحولیات میں تبدیلیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ امراض قلب، پھیپھڑوں کی بیماریوں اور دمہ کے مریضوں میں قدرے کمی آئی ہے۔
یہ سب کچھ جو ماحول میں بہتر ہوا ہے،وہ کرونا کے وائرس کی وجہ سے لوگوں کا گھروں میں بند ہوجانے سے ہوا ہے۔ لاک ڈاؤن نے زندگی جام کر دی مگرماحول بہتر ہو گیا جس کی امید کرنا بھی پہلے ناممکن تھا وہ اچانک ہوگیا۔ اس کو قدرت کی طرف سے وارننگ بھی کہہ سکتے ہیں اور فطرت کے تقاضوں کی تکمیل بھی۔ ماہرین یہ اٹکل لگا رہے ہیں کیا انسان اس خطرناک وائرس کے نتیجے میں حکومتوں کی طرف سے اقدام کئے گئے جس ماحولیات میں بہتری نظر آ رہی ہے ماہرین ارضیات کہتے ہیں ٹریفک اور معاشرتی شورکم ہو جانے سے زمین کی تھرتھراہٹ میں بھی کمی آگئی ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ موٹر کاریں بنانے والے اداروں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ موٹر وے کو چوڑا کرنے کے بجائے گلوبل انٹرنیٹ سروس کے پھیلاؤ میں سرمایہ کاری بڑھائیں۔ دنیا میں تیل کے استعمال سیموسمی تغیرات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں تیل کا استعمال زیادہ ہے۔ ہر چند کہ اب تیل کی قیمتوں میں کمی آ گئی ہے اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے مابین مسابقت کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے جیسے حال ہی میں روس اور سعودی عرب کا تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ 
اس کے علاوہ پانی سے بھی زیادہ بجلی بننے لگی ہے۔ ایسے میں بیشتر سرمایہ کاروں نے سولر انرجی کے ذریعہ چلنے والی کاریں تیار کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ متبادل انرجی کے استعمال کی طرف رجحان بڑھتا جا رہا ہے، مگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پوری کوشش ہے کہ تیل کا استعمال جاری رہے تاہم قیمتوں میں کمی بھی عمل میں آ رہی ہے جس سے دنیا کے ترقی پذیر اور غریب ممالک کوضرور فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔
بہرحال یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ کورونا وائرس نے جو گل کھلائے وہ سب پر عیاں ہیں مگر ماحولیات کو سدھارنے کا کام بھی کورونا نیکر دکھایا جس کے سامنے بیشتر سیاسی دیواریں کھڑی رہیں مگر کورونا نے سب کو گھروں میں بند کر کے وقتی طور پر ہی سہی دنیا کو آئینہ دکھا دیا ساتھ ایک سبق بھی سکھا دیا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ انسانوں نے گزرے برسوں میں قدرتی ماحول کو زبردست زک پہنچائی ہے، قدرتی کوئلہ، تیل کا زبردست استعمال اور کیمیاوی مادوں کا استعمال پھر کارخانوں کی چمنی سے نکلنے والا سیاہ آلودہ دھواں اور آلودہ پانی جو نہروں، کھیتوں، دریاؤں میں بہا دیا جاتا ہے۔ اس فضا سیزمین، ماحول سب متاثر ہو رہے ہیں۔ پینے کا صاف پانی تک دستیاب نہیں۔ سانس لینے کے لئے صاف ہوا دستیاب نہیں اور سبزیاں پھل بھی آلودہ پانی کے تحفے ہیں جن کے کھانے سے پیدا ہونے والے نقصانات سے زیادہ عوام نابلد ہے
اقوام متحدہ کے ماہر ماحولیات اینجر اینڈرسن کہتے ہیں قدرت کی طرف سے یہ تمام انسانوں کے لیے وارننگ ہے کہ ماحولیات کو اگر یونہی بگاڑتے رہے اور ماحول دوست فضا پیدا کرنے میں ناکام رہے تو پھر کرونا سے زیادہ مہلک وبائی امراض انسانیت پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ مناسب یہ ہے کہ ہم قدرت کے عطا کردہ ماحول کو خراب نہ کریں۔
 کرونا نے ماحولیات کو بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کیا اور جنگلی حیاتیات پر بھی کرم کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی ویز اور سڑکوں پر جہاں شکاری شکار کی تلاش میں گھومتے تھے وہ جانور اب ہائی ویز خالی ہونے کی وجہ سے سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ 
برطانیہ میں ایک سال میں ایک لاکھ کے قریب قارپوش، لومڑیاں اور ہرن ہائی ویز پر کچل دیئے جاتے تھے۔ دیگر ممالک میں جنگلی جانور جیسے بارہ سنگھا، خرگوش، بھیڑیئے، ہزاروں کی تعداد میں ہر سال سڑکوں پر ٹریفک کا شکار ہو جاتے تھے۔ اب سڑکیں صاف اور سنسان ہیں۔ امریکہ میں سان فرانسسکو کے آس پاس گولڈن گیٹ کے قریب اکثر جنگلی جانور سڑکوں پر مارے جاتے تھے۔ جنگلات کا محکمہ ہر سال سڑک کے کناروں کے پاس اُگنے والی گھاس اور پودے صاف کرتا ہے، تاکہ جانور اس سے نکل کر فورس سڑک پر نہ آسکیں۔ کہا جاتا ہے کہ انسان گھروں میں بند ہیں مگر جانور آزاد گھوم رہے ہیں۔ یہ سب کرونا کا کیا دھرا ہے۔ آخرکوئی تو خوش ہے۔ کرونا سے 

Add new comment

8 + 0 =