ڈاکٹر مجید نظامی۔۔ کاروان صحافت کا میر

دنیا میں بے شمار عظیم لوگ پیدا ہوئے جو عظیم اور کار ہائے نمایاں ہمارے لئے چھوڑ کر چلے گئے جن پر چل کر ہم ناصرف اعلیٰ مقامات پا سکتے ہیں بلکہ رہتی دنیا تک اپنا روشن نام چھوڑ سکتے ہیں۔ عظیم ہستیوں کا وجود انسانوں کی بقاء اور اقوام کی ترقی و تعلی کیلئے از حد ضروری ہے۔ اگر بے حس معاشرے میں عظیم لوگ جو قائدانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ صیدا جل ہوتے رہے تو معاشرے کے لئے یہ نقصان نا قابل تلافی قرار پاتے ہیں۔ ایسے میں مشاہیر کی ناگہانی اموات انہیں مشعل راہ سمجھنے والوں کیلئے شدید صدمہ سے کم نہیں ہوتیں یہ اور بات کہ ہر ذی روح نے موت کا کڑوا ذائقہ چکھنا ہے۔
مجید نظامی بھی ایک عظیم شخصیت تھے جنہوں نے ملک و قوم کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا رکھا تھا۔ جن عظیم لوگوں کے پیش نظر فلاح قوم و ملت اور وطن کی خدمت جیسا مقصد حیات ہو تو وہ اپنے بعد بھی ایسے نظریات کی بدولت زندہ و جاوید رہتے ہیں جو وہ اپنے غیر متذلل اصولوں کی صورت میں چھوڑ جاتے ہیں۔ مجید نظامی نے جس نظر یے کو آگے بڑھایا وہ ان کے بھائی حمید نظامی نے نوائے وقت کی صورت میں پیش کیاتھا۔ اب وہ پودا جو نوائے وقت کی صورت میں بو یا گیا تھا اور خون دل و جگر دے کر جسے سینچا گیا۔ جوان کیا گیا اور آبپاشی کی گئی تھی اب وہ پودا ایک تناور اور مضبوط درخت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے یہ تناور درخت جو بر گد کے درخت طرح فیاض ہے اور انسانوں کو چلچلاتی اور تپتی دھوپ میں سایہ فراہم کر رہا ہے اور خود دھوپ کی شدت برداشت کرتا رہا ہے دوسری کئی سختیاں مصائب اور آلام برداشت کرتا ہے لیکن دوسروں کو سکون مہیا کرتا ہے یہی تو عظیم لوگوں (انسانوں) اور اداروں کا خاصہ ہے۔
عائشہ مسعود نوائے وقت کی کالم نگار ہیں جنہوں نے مجید نظامی پر ایک کتاب ”جب تک میں زندہ ہوں“ لکھی۔ اس میں وہ لکھتی ہیں کہ ”مجید نظامی سمجھتے ہیں کہ جب تک جا گیردار ی نظام کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ اس وقت تک ملک سے ڈکٹیٹر شپ نہیں جا سکتی“۔ یہی وہ سچ ہے جس کے نفاذ کیلئے ڈاکٹر مجید نظامی نے مخلصانہ جدو جہد کی تھی۔ 
تیرا شعور صحافت نصاب حرف و قلم
کہ تو جبین صحافت کا ایک جھومر ہے
تجھے مجید نظامی بھلا نہیں سکتے
نوائے وقت کا پیغام آج گھر گھر ہے

Add new comment

1 + 0 =