ولیم شیکسپئیر-منفرد ڈرامہ نگار

تخلیق اور نخیل وہ خدا ددادصلاحتیتں ہیں جو چرانے کے بعد علاقے کے سردار کے خوف سے شہر کا رخ کرنے والے ایک عام سے بچے کو دینا ئے ادب میں وہ مقام بخشتی ہیں کہ پانچ سو سال سے کوئی ایسی رات نہیں گزری کہ اس ہمہ گیر شخصیت کے کسی نہ کسی ڈرامہ کی نمائش نہ ہوئی ہو۔ بغیر کسی رسمی تعلیم کے شہر لندن کے ایک تھیڑ میں ایک ملازم کے طور پر شیکسپیئر نے اپنی زندگی کی تگ ودودشروع کی۔ کہاجاتا ہے کہ شیکسپیئر کا ادب سے منسلک ہونا ڈرامائی ہے بستی میں بھیڑ کا بچہ چرایا وہاں کے سردار کے خوف سے شہر میں جا کر ایک تھیڑ کا سامان اٹھانے کا کام شروع کیا کبھی کسی کالج یا یونیورسٹی کی شکل نہیں دیکھی تھی، تھیٹر میں پیش کئے جانے والے ڈراموں کوبڑی گہری نظرسے دیکھتا اور ایک وقت ایسا آیا کہ اس مالزم نے اپنی سوچ کی گہرائیوں سے ایک کاوش کو نمائش کیلئے پیش کیا، اس ڈرامہ کو وہ پذیرائی ملی کہ اس کے بعد لوگ شیکسپیئر کے ڈرامے کا شد ت سے انتظار کرتے ایک ملازم سے ادا کر اور ادا کار سے ڈرامہ نگار اور پھر اسی ڈرامہ کمپنی کا پارٹنر بننے کا سفر شیکسپیئر نے جس طر ح طے کیا وہ خود بہتر جانتے ہیں۔
شیکپیئر نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کا میڈی سے کیا، ان کا شہر ہ آفاق مزاحیہ ڈراموں میں AbuogtNothing,TwelfihNight,Lovr'sMutavLabourlostسر فہرست ہیں اس کے بعد تاریخی ڈراموں کا ادوار شروع ہوتا ہے۔
شیکسپئر کی حقیقی شہرت وہ لازوال Tragediesہیں جن کی آج تک کوئی مثال دنیا کے کسی بھی ادب میں سامنے نہ آسکی۔ موضوع میں عا لمگیر یت زبان میں چاشنی، ڈائیلاگ میں پختگی اور کردار نگاری میں عمدگی وہ نمایاں خاصیتیں ہیں کہ جنہوں نے اس عظیم شاہ کارکو انگریزی ادب میں یکتا بنا دیا زندگی کی پراسراریت کو حل کرنا شیکسپیئر کے ڈراموں کا اصل مقصد تھا اس کے بے نظیر المیاتی ڈراموں کا اصل مقصد تھا اس کے بے نظیر المیاتی ڈراموں میں Lear,Othelo,Hamlet,Kingاور Juoius Ceiserنمایاں ہیں ارسطو کے پیش کئے جانے والے ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے شیکسپیئر نے اپنے ہیرو ز کا انتخاب شاہی خاندان سے کیا، شہنشاہوں کی زندگی کے عروج زوال، ان کی اخلاقی خامیاں، ان کے مصائب اور انجام کو اتنے متاثر کن انداز میں پیش کیا کہ اس کے قارئین اور ناظرین پر سکتا کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے وقت کا بادشاہ جب زندگی کی گہرائیوں میں گرادیا جاتاہے تنو دیکھنے والوں کے رونغٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
شیکسپیئر کی سب سے زیادہ سراہی جانے والی (hamlet) Tragedy میں خود کلامی فلسفہ اور متانت سے بھرپور ہیں ان میں شیکسپیئر نے عورت کے بارمیں انتہائی تلخ جملوں کا استعمال کیا جیسا کہ ''frailty thyis woman'' زندگی کی کشمکش کے برے میں ''to be notortobeاورموت کے بارے میں ''undiscovered contry جیسے جملوں کے جادو نے ان کے ڈراموں میں جان ڈال دی لہے بادشاہ Learکا جول شیکسپیئر کا رجمان ہے اس کے گیت ضرب المثل کی صورت اختیار کرگئے ہیں جیساکہ Think before speakپہلے تول پھر بول اوریہ کہ barowingloseboingirindsanditselfادھار دوست اور خود کھودیتی ہے۔
ڈرمہ king lear کا موضوع انسان کی عملی زندگی کے انتہائی قریب ترہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے آ پ کو Powerless کرنے کا مطلب دنیا کے attacks ہیں اور یہ زندگی کے آخری سانس تک آپ کو ذمہ داریوں سے چھٹکارہ نہیں پانا چاہیے اور جو والدین اپنی زندگی میں جائیداد اپنی اولاد کے نام کردیتے ہیں بھکاریوں سے بدتر زندگی گزارتے ہیں۔
ڈرامہ نگار شیکسپیئر کی باقی ڈرامہ نگاروں سے انفرادیت ہے کہ انہوں نے زندگی کو اس طرح پیش کیا کہ جس طرح یہ ہے کہ ناکہ جس طرح اسے ہونا چاہیے شیکسپیئر کیمطابق مناسب سزاوجزا کے نطام کا نہ ہونا جرائم کی آنیاری کا باعث ہے اس کے ہیرو ڈرامہ کے اختتام پر مصائب کے بعد انعام حاصل کرنیکی بجائے یا تو المیاتی موت کا شکار ہوجاتے ہیں یا تھر دکھ بھری زندگی کے جال میں پھنسے ہی رہتے ہیں اس پر ڈاکٹر جانسن نے شیکسپیئر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ان کا کہنا ہے کہ شیکسپیئر ڈراموں میں Ploise Justiceنہیں ہے اور pessimismکا عنصر حاوی ہے شیکسپیئر نے اپنی زندگی میں 38 ڈرامے اور اور 154نظمیں لکھی ہیں ان کا ملکہ الزبتھ اول کا دور ہے۔
شیکسپیئر کے ڈراموں کے اگر ہر پہلوسے جائزہ لیا جائے تو اس پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں اور بلاشبہ لکھی بھی گئی ہیں جن میں Twentieth  century  view sries کا نام سرفہرست ہے ان کے ڈراموں کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے لندن میں ان کے نام پر ہی ایک تھیٹر بنایا گیا ہے جس میں ہر رات اس کے کسی نہ کسی ڈرامہ کی نمائش ہوتی ہے دنیا کے مختلف کونوں سے سکا لر ادبی شخصیات اور مفکرین اپنے thisesمکمل کرنے کے لئے ان کے ڈراموں پر تحقیق کررہے ہیں۔

Add new comment

5 + 10 =