ولبر رائٹ برادرز (ہوائی جہاز کے موجد)

ان دونوں بھائیوں کی کامیابیاں اس طور باہم نتھی ہیں کہ انہیں ایک ہی عنوان کے تحت لکھا جا سکتا ہے۔ اس مضمون میں دونوں کا احوال ایک ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ولبررائٹ1867ء میں انڈیا نا میں میلویلی کے مقام پر پیدا ہوا۔اس کا بھائی اور ویل رائٹ ڈیٹن(اوہیو)1871ء میں پیدا ہوا۔دونوں لڑکوں نے سکول کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔تاہم کوئی ایک بھی ڈپلومہ حاصل نہیں کر سکا۔ دونوں بھائیوں میں میکا نکس کا خداداد جوہر موجود تھا۔دونوں کو ہی انسانی پرواز کے موضوع میں دلچسپی تھی۔1892ء میں انہوں نے سائیکل بیچنے‘مرمت اور تیار کرنے کی دکان کھولی۔اس سے انہیں اپنی پر جوش دلچسپی‘یعنی ہوابازی سے متعلق تحقیقات کے لیے مالی امداد میسر آئی۔ 1899ء میں انہوں نے خود ہوا بازی کے موضوع پر کام شروع کیا۔دسمبر 1903ء تک چار سال کی محنت شاقہ کے بعد وہ بالا خر کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ یہ بات باعث تعجب ہے کہ رائٹ برادران کس طور پر کامیاب ہوئے‘جبکہ اسی شعبے میں متعدد دیگر لوگ ناکام ہو چکے تھے؟ان کی کامیابی کی متعدد وجوہات تھیں۔ پہلی بات تو یہ تھی کہ ایک سے بہتر دو ہوتے ہیں۔انہوں نے ہمیشہ اکٹھے کام کیا اور مکمل موافقت کے ساتھ ایک دوسرے سے جڑے رہے۔دوسری وجہ یہ تھی کہ انہوں نے بڑا دانشمندانہ فیصلہ کیا‘کہ وہ اپنے طور پر کوئی ہوائی جہاز تیار کرنے سے پہلے خود اڑنا سیکھیں گے۔یہ بات قدرے باہم متناقض معلوم ہوتی ہے‘کہ ہوائی جہاز کے بغیر اڑنا کس طور سیکھا جا سکتا ہے؟اس کاجواب یہ ہے کہ رائٹ برادران نے پہلے گلائیڈراڑانا سیکھا۔
انہوں نے 1899ء میں گلائیڈروں اور پتنگوں سے آغاز کیا۔ اگلے برس وہ ایک بڑے حجم کا گلائیڈر (جو ایک آدمی کا وزن سہار سکتا تھا)۔شمالی کیرولینا میں کیٹی ہاک میں لائے‘ اور اس کی آزمائش کی۔یہ قابل اطمینان نہیں تھا۔انہوں نے1901ء میں دوسرا بڑا گلائیڈ تیار کرکے اڑایا۔1902ء میں تیسرا اڑایا۔یہ تیسرا گلائیڈر ان کی انتہائی اہم ایجادات میں سے چند ایک پر مبنی تھا (ان کی چند ایجادات جن کا اطلاق 1903ء میں ہوا‘ ان کے پہلے طاقتور جہاز کی نسبت اسی گلائیڈر سے وابستہ ہیں)۔
تیسرے گلائیڈر میں انہوں نے ہزار سے زیادہ کامیاب پروازیں کیں۔ اپنا طاقتور ہوائی جہاز تیار کرنے سے پہلے وہ دنیا کے بہترین اور انتہائی کہنہ مشق ہوا باز بن چکے تھے۔ بیشتر جن لوگوں نے پہلے ہوائی جہاز بنانے کی کوشش کی‘ وہ اس نقطہ پرپریشان ہوجاتے کہ کس طور یہ اس کے پہیوں کو زمین سے بلند کرکے فضا میں پرواز کریں گے؟رائٹ برادران نے درست طور پر یہ ادراک کیا کہ اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ اس کو کس طور فضا میں بلند رکھا جائے؟ سو انہوں نے ا پنا بیشتر وقت اور طاقت ایسا طریقہ دریافت کرنے میں صرف کیا‘ کہ جس سے جہاز کو ہوا میں متوازن اور مستحکم رکھا جاسکے۔ وہ اپنے جہاز کو تین محوروں والے نظام سے قابو میں رکھنے کا طریقہ ایجاد کرنے میں کامیاب ہو گئے۔رائٹ برادران نے پروں میں متعدد اضافے کیے۔انہوں نے جلد ہی ادراک کیا کہ ماضی میں اسی موضوع پر چھپے گوشوارے غیر معتبر تھے۔انہوں نے اپنا الگ ہوا ئی کار خانہ بنایا۔اور اس میں انہوں نے دوسوسے زائد پروں کی مختلف ساختیں بنوائیں۔ان تجربات کی بنیاد پر وہ اپنے گوشوارے ترتیب دینے میں کامیاب ہو گئے۔
ان معلومات سے وہ اپنے ہوائی جہاز کے پروں کی ساخت متعین کرنے میں کامیاب ہوئے۔
ان تمام کامیابیوں کے باوصف رائٹ برادران اگر تاریخ میں درست لمحہ میں ظاہر نہ ہوتے‘ تو کبھی مکمل کامیابی حاصل نہ کرپاتے۔انیسویں صدی کے ابتدائی نصف میں ہوائی جہاز اڑانے کی کاوشیں ناگزیر طور پر ناکامی سے دوچار ہو رہی تھیں۔ بھاپ کے انجن اس توانائی کی نسبت بہت وزنی تھے‘ جوان سے پیدا ہوتی تھی۔یہی دور تھا‘ جب رائٹ برادران منظر عام پر آئے۔داخلی افروختگی سے چلنے والے متعدد انجن تب تیار ہو چکے تھے۔ تاہم داخلی افروختگی سے چلنے والے انجن جو عام استعمال میں تھے۔ان سے ہوائی جہاز اڑانے کے لیے  درکار توانائی پیدا کرنے میں ان کا وزن بے انتہاء ہوجاتا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ تب پیدا ہونے والی توانائی کی نسبت کم وزن کے انجن تیار کرنا‘ کسی کے بس میں نہیں تھا۔رائٹ 
برادران نے خود ایک انجن تیار کیا۔ وہ ایسا اعلیٰ انجن تیارکرنے پر قادر تھے‘ جو اس دور کے اعلیٰ اذہان کے بس میں نہیں تھا۔ انہوں نے جہاز کے لیے پنکھے بھی خود ہی بنوائے۔ 1903ء میں انہوں نے جوپنکھے استعمال کیے وہ66 فیصد استعداد کے حامل تھے۔ پہلی اڑان کا واقعہ شمالی کیرولینا میں کیٹی ہاک کے قریب ڈیول ہل کے مقام پر17 دسمبر1903ء میں رونما ہوا۔اس روز دونوں بھائیوں نے دودو پروازیں کیں۔پہلی پرواز او رویل رائٹ نے کی جو12 سیکنڈ جاری رہی اور120 فٹ کا فاصلہ طے ہوا۔
آخری پرواز ولبررائٹ نے کی جو59 سیکنڈ جاری رہی اور 852فٹ کا فاصلہ طے ہوا۔ان کا جہاز‘ جس کا نام انہوں نے”فلائیر1“ رکھا تھا (اور جسے آج ہم ”کیٹی ہاک“ کے نام سے جانتے ہیں)۔ایک ہزار سے بھی کم ڈالروں میں تیار ہوا تھا۔ اس کے پر40 فٹ لمبے اور قریب 750پاؤنڈ وزنی تھے۔اس میں 12ہارس پاور کا انجن لگا تھا‘ جس کا وزن صرف170 پاؤنڈ تھا۔ یہ جہاز واشنگٹن ڈی سی میں ”نیشنل ائیر اینڈ سپیس میوزیم“ میں آج بھی محفوظ ہے۔اگر چہ ان پروازوں کو دیکھنے والے پانچ شاہدین وہاں موجود تھے۔چند ہی اخبارات نے اس کی خبردی۔ان کے اپنے قصبے اوہیو(ڈیٹن) کے مقامی اخبار نے اسے مکمل نظر انداز کیا۔ دراصل لوگوں کو اس بات کو عمومی طور پر مان لینے میں کہ انسانی پرواز ممکن ہو چکی ہے‘ پانچ برس کا عرصہ لگا۔

Add new comment

1 + 0 =