مقدس یوحنا اصطباغی (حق اور سچ کا شہید)

جب یوحنا کی پیدائش ہوئی تو اُن کا باپ ذکریا کاہن اور اُس کی ماں الیصابات عمر رسیدہ تھے۔ یوحنا اصطباغی اپنی ماں کے بطن ہی سے روح القدس سے معمور تھا۔ یوحنا کا مشن خداوند کے آگے آگے الیاس کی سی روح اور قوت سے چلنا تھا۔ یوحنا اصطباغی یہودیہ کے بیابان میں زندگی گزارتا تھا۔ البتہ اپنے دور کے دیگر راہبوں کی بجائے جو یہودیہ کے بیابان میں رہتے تھے یوحنا اصطباغی نے خاموشی کو توڑااور توبہ کی منادی کا آغاز کیا۔ یہ یوحنا ہی ہے جس نے یسوع کو یہ کہتے ہوئے لوگوں پر ظاہر کیا (دیکھو خدا کا برہّ)۔ یسوع دلہا ہے اور یوحنا اپنے آپ کو دلہا کا دوست کہتا ہے۔ یوحنا ہی نے یسوع کو دریائے اردن میں بپتسمہ دیا۔ یوحنا اصطباغی ہر لحاظ سے یعنی پیدائش، مشن اور موت سے مسیح کا پیشرو ہے۔ وہ حق اور سچ کا شہید ہے۔ اُس نے حق کی گواہی دی اور اپنے لہو سے حق کی تصدیق کی۔ اپنی موت کے بارے میں یوحنا اصطباغی کو کسی قسم کا کوئی شبہ نہ تھا کیونکہ اُس نے ہیرودیس بادشاہ کو یہ چیلنج کیا تھا کہ جو گناہ آلودہ زندگی وہ گزار رہا ہے وہ صحیح نہیں۔ یوحنا جانتا تھا کہ ہیرودیس کو چیلنج کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ لیکن اُس نے دلیری اور بے باقی کے ساتھ حق اور سچ کی بات کی۔ کیونکہ ہیرودیس نے آپ ہیرودیاس کے سبب سے جو اُس کے بھائی فیلبوس کی بیوی تھی۔ یوحنا کو پکڑوایا اور اُسے قید خانے میں بند کیا۔ کیونکہ اُس نے اُس سے بیاہ کیا تھا۔ اور یوحنا نے ہیرودیس سے کہا تھا کہ اپنے بھائی کی بیوی رکھنا روا نہیں۔ اِس لیے ہیرودیاس اُس پر داؤ لگائے ہوئے تھی اور چاہتی تھی کہ اُسے قتل کرے۔ پس یوحنا ہیرودیاس کے بدلے اور ظلم کا شکار ہوا۔ اُس نے دلیری اور جوانمردی سے اپنے دور کے طاقتور اور بااختیار شخص کو حق بات کہتے ہوئے اپنی جان تک کی پرواہ نہ کی۔ ہیرودیس یوحنا کو راستباز جانتا تھا۔ اور اُس کی باتیں خوشی سے سنتا تھا، مگر وہ اُس کی باتیں سن کر بہت تشویش ناک ہو جاتا تھا۔ یوحنا اصطباغی شہید نبی ہے۔ نبی کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے کہ وہ خدا کے پیغام کو لوگوں تک پہنچائے۔ یوحنا نے خدا کے کلام کو وفاداری کے ساتھ لوگوں تک پہنچایا۔ اپنے مشن کی تکمیل کی راہ میں حائل ہر طرح کی رکاوٹ کا سامنا کیا۔ اُس نے دلیری کے ساتھ صاحبِ اختیار کو چیلنج کیا۔ حق اور سچ کے لیے آواز بلند کی۔ خداوند یسوع مسیح کا نقیب ہوتے ہوئے یوحنا نے خداوند کی راہ تیار کی۔ ہر سال 29اگست کو یوحنا اصطباغی کا یومِ شہادت منایا جاتا ہے۔  

Add new comment

3 + 11 =