مقدسہ کلوڈین تھیونے (خدا کی وفادار خادمہ)

مقدسہ کلوڈین تھیونے کی عید 3فروری کو منائی جاتی ہے۔ آپ فرانس کے شہر لائنس میں 1774میں پیدا ہوئیں۔ مقدسہ کلوڈین تھیو نے جیزز اینڈ میری جماعت کی بانیہ ہیں۔ انہیں گلیڈی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اُن کے نیک اور دیندار والدین فلبرٹ اور میری انتھونٹ نے کلوڈین کے مسقبل کو فراخ دِلی سے خدا کی رضا پر چھوڑ دیا۔ اُن کے ساتھ بچے تھے اور اُن کے لیے ہر بچے کی پیدائش خوشی و خرمی کا باعث بنتی۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھیں۔ وہ ایمان کی دیوی، ہر دلعزیز خاتون اور غربا کی خیر خواہ تھیں۔ انہوں نے بچوں کی تربیت اور اشاعت کو فروغ دیا۔ مقدسہ کلوڈین تھیونے  کی زندگی کا راز جذبہء معافی، ایمان کی قوت، بلند حوصلہ اور جامع محبت ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی مکمل طور پر خدا اور اُس کی مخلوق کی بے لوث خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انقلاب فرانس اور خانہ جنگی نے ہر طرف لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت کے بھیانک سائے پھیلا رکھے تھے۔ کلوڈین کا خاندان بھی اِسی بحران کی زد میں تھا۔ 1789میں بغاوت کا آغاز ہوا۔ شہر لائنس ظلم کا ایسا نشانہ بنا کہ گلیوں میں خون کی دندیاں بہا دی گیئں۔ ظلم و جبر کی خوفناک گھڑیوں میں ایمان ہی ایک ایسی جو انسان کو اطمنان فراہم کرتا ہے۔ لیکن ایمان میں مضبوط ہونے کے باوجود اُن کے والدین حالات کی سنگینی سے گھبرئے ہوئے تھے اور بغاوت بھی زوروں پر تھی۔ کلوڈین کے دونوں بھائی لوئیس جس کی عمر بیس سال اور فرانسس جس کی عمر اٹھارہ سال تھی بڑے جوشیلے محبِ وطن تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنی خدمات پیش کرنے کا عزم کیا اور وہ مرتے دم تک وفادار رہے۔ کلوڈین اور اُس کی ماں دونوں لوئیس اور فرانسس کی گرفتاری کے غم سے نڈھال تھیں۔ اِن دردناک گھڑیوں میں انیس سالہ کلوڈین دلیری اور بہادری سے ماں کی تسلی کا ذریعہ بنی۔ ایک دن اُن کے گھر کے قریب ہجوم کے باعث دنگا فساد ہو رہا تھا۔ دونوں پارٹیوں میں کوئی امن و امان کی صورتِ حال نظر نہیں آ رہی تھی۔ دور کھڑی مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں بے تابی سے اِس مقام کی طرف رخ کیے دُعا گو تھیں کہ ان کے عزیزو اقار ب کی خیر ہو۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ کلوڈین اور اُس کی ماں اپنے بیٹوں لوئیس اور فرانسس کے لیے فکر مند تھیں۔ بعد میں کلوڈین رات کے اندھیرے میں اپنے بھائیوں کو لاشوں میں سے پہچان رہی تھی۔ البتہ رات کے اندھیرے میں اُس کے بھائی چھپ چھپا کر گھر آ گئے۔ خدا خدا کرکے گھر والوں کو حوصلہ ہوا لیکن یہ زیادہ دیر تک قائم نہ رہا۔ لوئیس اور فرانسس کو دھوکہ دہی میں پکڑ لیا گیا۔ انتھک کوشش کے باوجود اُن کا باپ انہیں چھڑا نہ سکا۔ جب اُس کے بھائی قید خانہ میں تھے تو کلوڈین ایک فرشتے کی مانند تھی۔ وہ غریبوں جیسا لباس پہن کر بھیس بدل کر قید خانہ میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کو جاتی اور انہیں کھانا اور گرم کپڑے مہیا کرتی۔ کلوڈین کو 4اکتوبر 1981کو مبارک اور 21مارچ 1993کو مبارک قرار دیا گیا۔ اُن کی جماعت پاکستان سمیت دنیا بھر میں اُن کے مشن کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہے۔ 

Add new comment

11 + 8 =