ایم ایم عالم -65 کے حقیقی ہیرو

کوئی فلم ہوکہ ڈرامہ،ناول ہو کہ کہانی ہیرو ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور کبھی نہیں مرتا ہیرو کو ہمیشہ ان تمام کرداروں میں غیر مرئی شخصیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اس کی قوت و طاقت سے کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا وہ اکیلا ہی کئی کئی لوگوں پر بھاری ہوتا ہے۔ عام طور پر اس کا کردار بہادری دلیری اور ناقابل یقین ذہانت و فطانت سے بھرپور ہوتا ہے لیکن جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ ہوتا یہ ایک تخیل ہی ہے ایک سوچ ایک اختراع جوکہ کچھ عرصہ بعد دلوں و دماغوں سے محو ہوجاتی ہے اور پھر کوئی دوسرا ورسٹائل ہیرو اس کی جگہ لے لیتا ہے-
لیکن! آج جس ہیرو کے حوالے سے یہ کالم نذر قارئین کررہاہوں وہ ایک حقیقی کردار کا حامل ہے اور حقیقت کے آئینے میں خدا وند کریم نے اسے ماورائی طاقت سے نوازا اور اپنی اس خداداد طاقت صلاحیت ذہانت اور قابلیت کو اس نے ملک و قوم کیلئے بھرپور اندازمیں استعمال کیا بروقت استعمال کیا اور مملکت خداداد پاکستان کے دیرینہ دشمن اور میلی آنکھ رکھنے والے بھارت کے خلاف استعمال کرکے اس کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملادیا۔ یہ ہیرو وہ عام ہیرو نہیں تھا کہ جو کسی محبوبہ کی خاطر اپنے عشق کی چاہت میں جائز و ناجائز کا خیال کئے بغیر قانون کی پرواہ کئے بغیر گناہگار اور بے گناہ کی تمیز کئے بغیر سب کو لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ جی ہاں ہمارا ہیرو وہ عظیم و حقیقی ہیروتھا کہ جو صرف اور صرف حق و سچائی اور وطن عزیز کی خاطر لڑ گیا اور اپنی صلاحیت و قابلیت کے وہ جھنڈے گاڑے کہ رہتی دنیا تک ان کا نام سنہری حروف میں لکھا جائیگا۔وہ مرد مجاہد مرد قلندر دنیا میں ایم ایم عالم کے نام سے جانا جاتا ہے جس کا اصل نام محمد محمود عالم تھا یہ عظیم سپوت بہار کے شہر کلکتہ میں 6 جولائی 1935 میں پیدا ہوئے ترک نسل سے تعلق رکھتے تھے۔11 بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ذمہ داریوں کو نبھانے کا سلسلہ والد کی وفات سے شروع ہوگیا تھا اس لئے شادی بھی نہ کرسکے والد سرکاری ملازم تھے تقسیم ہندوستان کے وقت اپنے خاندان کے ہمراہ مشرقی پاکستان میں ہجرت کی۔قیام پاکستان کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کرلی اور ہائی سکول میں داخل ہوگئے پھر1952 میں پاکستان ایئر فورس کو جوائن کرلیا۔1953 میں پاک فضائیہ میں کمیشن حاصل کرلیا۔مرد افتخار ایم ایم عالم نے تقریبا تیس سال تک افواج پاکستان میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔ دوران سروس ہی وہ عظیم الشان اور ناقابل فراموش کارنامہ سرانجام دینے کا موقع مل گیا۔ جس کی وجہ سے تمام عالم میں ایم ایم عالم کے چرچے زبان زد عام ہوگئے اور پوری دنیا میں ان کی جرات و شجاعت اور قابلیت کے ڈنکے مشرق سے مغرب تک اور جنوب سے شمال تک پھیل چکے تھے اور اسی چیز کو دیکھتے ہوئے بنگلہ دیشی حکومت نے فوج کا کمانڈر انچیف بنانے کی پیش کش کردی جسے اس عظیم سپوت اور محب وطن سے بلاجھجک ٹھکرادیا اور پاکستان کی خدمت کو ہی اپنا اولین مقصد جانا۔
ایم ایم عالم 11 سکواڈرن کمانڈر نے6 ستمبر1965 کو جب بھارت نے رات کی تاریکی میں اپنے ناپاک ارادوں کو جامہ پہنانے کیلئے حملہ کیا تو جہاں ہماری پاک فوج نے جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے دشمن کی پیش قدمی کو روکا وہاں پر ایم ایم عالم کا کردار بھارتی فوج کو مٹی چٹوانے میں نہایت اہمیت کا حامل رہا۔ انہوں نے چار جہاز مار گرائے اور جب 7 ستمبر کو بھارتی فارمیشن کے 6 جہاز سرگودھا پرحملہ آور ہوئے تو مرد آہن ایم ایم عالم نے اکیلے ہی ان کا پیچھا کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ڈرامائی اور فلمی انداز میں 30 سیکنڈز میں بھارت کے چار فائٹر جہاز اور اگلے تیس سیکنڈز میں ایک اور جہا ز کو جہنم واصل کردیا اور آپ کے حملے کی دشمن پر ایسی ڈھاک بیٹھی کہ ان کے حوصلے پست ہوگئے اور انہیں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔
 یہ ہے وہ اصل ہیرو جو حقیقت میں ہیرو تھا ہے اور رہے گا جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا یہ اہمیت و حیثیت کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے عالم جدید میں بھی اس قسم کا کارنامے سرانجام دینا غیر مرئی و ماورائی قوتوں سے جوڑے جاتے ہیں اور یہ ریکارڈ کبھی نہ ٹوٹ پائے گا،یہ ہمارے صرف ایک ہیرو کی کہانی ہے اور تاریخ پاکستان ایسے سپوتوں سے بھری پڑی ہے۔جنہوں نے پاکستان کی عزت و حرمت کی خاطر خود کو قربان کردیا۔

Add new comment

1 + 1 =