اسٹیو جابز : زندگی کی کہانی - حصہ دوم

اور میں کبھی بھی نیا کاروبار شروع نہیں کرسکوں گا۔مجھ سے اتنی بڑی غلطی سرزد ہوئی تھی کہ میں نے سوچا اس شعبے کو ہی خیرباد کہہ دوں لیکن آخری حربے کے طو رپر میں نے اپنے ساتھیوں سے معافی مانگنے کا فیصلہ کیالیکن یہاں بھی مجھے ناکامی ہوئی اور کمپنی نے مجھے دوبارہ رکھنے سے صاف انکار کر دیا۔ میرے لئے ترقی کے تمام دروازے بند ہو گئے، قسمت نے مجھے آسمان سے زمین پر پٹخ دیا،ہر طرف تاریکی ہی تاریکی اور حبس کا ماحول تھا لیکن اس تاریک ماحول میں ایک کونہ ایسا بھی تھا جہاں سے روشنی کی باریک سی کرن اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہو ا آرہی تھیں، وہ کونہ میری امید تھی۔پتہ نہیں میرے اند ر ایسی کیا چیز تھی جو بار بار مجھے کہے جارہی تھی کہ جوکچھ بھی میں نے کیا وہ بالکل ٹھیک ہے۔بلا شبہ میری رائے سے کمپنی کو وقتی طور پر خسارے کاسامنا کرنا پڑا لیکن میرا دل یہ کہہ رہا تھا اگرمیری سوچ کو عملی جامہ پہنایاجائے تو اسے کوئی نہیں ہرا سکتا۔ مجھے کل بھی اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہیں تھی اور آج بھی میرے وژن میں رتی برابر کوئی فرق نہیں آیا۔ لہٰذا میں نے پھر سے اپنے وژن کی تکمیل کی ٹھان لی اورنیا بزنس شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ مجھے اُس وقت تو محسوس نہیں ہوا لیکن بعد میں یہ نتیجہ نکلا کہ ایپل سے فراغت میرے لئے کتنی مفید ثابت ہوئی جس نے ایک مرتبہ پھر مجھے تخلیقی دنیا میں گم کر دیااور میں نے آئندہ پانچ برسوں میں میں تین بڑی کام یابیاں حاصل کیں، میں نے NEXTکے نام سے ایک کمپنی شروع کی، پھر ایک اور کمپنی PIXERکے نام سے شروع کی، اوراسی عرصے میں ایک منفرد خاتون کی محبت میں گرفتار ہو اجو بعد ازاں میری بیوی بنی، PIXER کی بدولت دنیا کے سب سے پہلی کمپیوٹر اینی میٹڈ فیچر فلم،Toy Storyبنی اور آج یہ دنیا کا سب سے کام یاب اینی میشن اسٹوڈیو کہلاتا ہے۔ اپنی منفرد حیثیت کی بدولت ایپل نے میر ی کمپنی NEXTکو خریدلیا اور میں ایک مرتبہ پھر ایپل میں دوبارہ واپس آگیا اور جو ٹیکنالوجی جو ہم نے NEXT کیلئے ترتیب دی تھی، آج وہ ایپل کی جان سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ میری اہلیہ لورین اور میں بہترین زندگی گزار رہے ہیں۔
میں اپنی دوسری کہانی سے آپ کو یہ سبق دینا چاہتاہوں کہ بعض اوقات زندگی میں بہت سی پریشانیاں اور تکلیفیں آتی ہیں۔ آپ صحیح سلامت اپنی منزل کی طرف گامزن ہوتے ہیں لیکن اچانک قسمت آپ کو اوپر سے نیچے پھینک دیتی ہے ایسی صورت میں کبھی مایوس ہو کر امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔ میری زندگی کی وہ واحد شے جس نے مجھے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا وہ میری چاہت تھی اور مجھے اُس وقت تک چین نہیں ملا جب تک کہ میں نے اپنی چاہت کو پانہ لیا۔لہٰذا آج سے آپ نے خود کو پرکھنا ہے اور یہ تلاش کرنا ہے کہ آپ کس چیز سے محبت کر تے ہیں،اور پھر جب آپ اپنی محبت کو پالیں تو اسے ایسے ہی نبھائیں جیسے سچی محبت نبھائی جاتی ہے۔ عظیم کام وہی ہے جس سے آپ کا دل مطمئن ہو اور دلی اطمنا ن اُسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب آپ اپنے کام سے محبت کر یں اور اس کے بغیر آپ کو سکون نہ ملے۔رفتہ رفتہ آپ دیکھیں گے کہ ا س میں بہتری آتی جائے گی اور ایک دن یہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گی۔ لہٰذا آج سے یہ عہد کریں کہ اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا جب تک آپ اپنی محبت کو تلاش نہ کر لیں۔
میری تیسری کہانی موت سے متعلق ہے
میں جب 17برس کا تھا تو بزرگوں سے سنا کر تا تھا کہ ”آپ اپنا ہر دن یہ سوچ کر گزاریں کہ یہ میری زندگی کا آخری دن ہے“۔ اس چیز نے زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالا اور گزشتہ33 برسوں سے میں ہر صبح آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے سوال کر تا ہوں کہ ”اگر آج میری زندگی کا آخری دن ہو تو مجھے کیا کرنا چاہئے؟، کیا مجھے اُس کام میں ہاتھ ڈالنا چاہئے جو میں آج کرنے جارہا ہوں؟۔ یہ سوچ مجھے اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ میں وہ کام کروں جو سب سے زیادہ ضروری ہو اور وہ کام جو باربار کرنے کے باوجود بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہاتو اُسے ترک کر کے اُس کی جگہ کوئی بامقصد کام کیا جائے۔ جلد مرنے کا خیال ایک ایسا ہتھیار ہے جس نے مجھے زندگی میں بہت مدد دی، کیونکہ تمام خوشیاں، غم، پریشانیاں، تکلیفیں اور خواہشات موت کا نام سن کر ہی بھاگتی ہیں اور آپ ایسی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کوئی ہار آپ کو ہرا نہیں سکتی، کسی قسم کا خوف، دھمکی،دھونس اور نقصان کا اندیشہ آپ کے ارادے متزلز ل نہیں کر سکتااور آپ یکسو ہوکر اپنے مشن کی تکمیل کیلئے نکل پڑتے ہیں۔ لہٰذا میر اآپ کو مشورہ ہے کہ آپ تمام کام ایک طرف رکھ کر صرف اُسی کام میں ہاتھ ڈالئے جو آپ سب سے زیادہ ضروری سمجھتے ہوں۔
یہاں میں آپ کو موت سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ سنا تا ہوں ایک سال قبل میرے جسم میں کینسر کی تشخیص ہو ئی اور ڈاکٹروں نے مجھے لاعلاج قرار دے کر موت کی تیاری کا مشورہ دیا۔اس تشخیص کے بعد میں پورا دن گہری سوچ میں ڈوبا رہا۔ رات کو میرا ایک اورٹیسٹ ہونا تھا جہاں ڈاکٹروں نے ایک آلہ میرے حلق کے ذریعے متاثرہ حصے تک پہنچایا اور کچھ سیلز حاصل،میں چونکہ بے ہوش تھا لیکن میری اہلیہ نے بعد میں مجھے بتایا کہ جب ڈاکٹروں نے میرے سیلز کو جانچا تو وہ خوشی سے چلانے لگے، کیوں کہ یہ کینسر کی منفرد قسم تھی جس کا علاج سرجری کے ذریعے ممکن تھا۔ میرا آپریشن ہو اور میں آج بالکل خیریت سے ہوں۔موت کو اس قدر قریب سے دیکھنے کے بعد میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی بھی شخص مرنا نہیں چاہتا لیکن موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ میرے نزدیک موت زندگی کی سب سے بڑی ایجاد ہے، یہ زندگی متغیر ہے،یہ پرانی چیزوں کو ہٹا کر نئی چیزوں کیلئے راہ ہموار کر تی ہے۔معذرت کے ساتھ اس وقت آپ سب نوجوان ہیں لیکن آہستہ آہستہ آپ بوڑھے ہو تے جائیں گے اور ایک دن مر جائیں گے پھر آپ کی جگہ کوئی اور لے لے گا۔آپ کے پاس محدود وقت ہے، لہٰذا 
اپنا وقت کسی اور کی زندگی گزارنے میں صرف نہ کریں۔ دوسروں کی سوچ کے مطابق زندگی گزارنا چھوڑ دیئے، اپنی رائے کو اہمیت دیجئے، اپنے دل کی آواز سنیں کیونکہ آپ کا دل بہتر جانتا ہے کہ آپ کیا بننا چاہتے ہیں۔ باقی سب ثانوی چیزیں ہیں۔
میں جب چھوٹا تھا تو ہمارے دور میں ایک بڑی حیرت انگیزکتاب شائع ہو ئی جس کا نام تھا ”The Whole earth cataloge“ یہ اپنے دور کی بائبل سمجھی جاتی تھی۔ اس کتاب میں روز مرہ استعمال کی چیزوں کی فہرست، تفصیلات، قیمت اور دکان کا پتہ جہاں سے یہ دستیاب ہوتی، شامل تھیں۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ یہ گوگل کی کتابی شکل تھی، یعنی گوگل 35برس قبل تخلیق ہو چکا تھا۔1970ئمیں کتاب کے مصنف سٹیورڈ برانڈ نے جب اس کا آخری ایڈیشن نکالا تو کتاب کی پشت پر ایک عبارت درج کی ”Stay Hungry. Stay Foolish“ (اس عبارت کا لغوی معنیٰ بھوکے رہو اور بے وقوف رہو ہے لیکن اصطلاحاً بھوکے رہنے سے مراد بہتری کی تڑپ، بہترزندگی کیلئے جدوجہد اور کسی صورت اس پر سودے بازی نہ کرنا ہے جبکہ بے وقوف یا جاہل رہنے سے مراد دنیا جہاں سے بے پروا ہو کر ہر وقت کچھ نہ کچھ سیکھتے رہنا اور کبھی یہ نہ سوچنا کہ میں نے تمام چیزیں سیکھ لی ہیں)۔سٹیورٹ کا یہ پیغام اُس وقت ہمارے لئے تھا لیکن آج جب آپ اپنی زندگی کی ابتدائکر رہے ہیں تو میرا یہی پیغام آپ کیلئے ہے۔ Stay Hungry, Stay Foolish
جوبز اپنی تقریر ختم کرکے نشست کی طرف بڑھا تو دنیا نے دیکھا کہ نہ صرف اسٹیج پر موجود کالج کے پرفیسرز، ڈاکٹرز، انجیئرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ ترین شخصیات بلکہ ہال میں موجود طلبہ کی کثیر تعداد بھر پور تالیوں کی گونج میں ایک ایسے شخص کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے جس کے پاس نہ ہی کوئی ڈگری تھی اور نہ ہی اُس کے نام کے ساتھ ڈاکٹر یا پروفیسر جیسے القابات، اُس کے پاس تو صرف اُس کا عمل تھا جس نے کئی لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر دی اور یہ اُس کے عمل ہی کانتیجہ ہے کہ آج اُس کی وفات پر پوری دنیا اُداس ہے۔ سٹین فورڈ کالج کی یہ الوداعی تقریب پیغام دے رہی ہے کہ انسانی عظمت ڈگریوں سے نہیں بلکہ عمل سے حاصل کی جاسکتی ہے اور عمل بھی وہ جو اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کیلئے ہو۔ کام یابی یہ نہیں کہ آپ کتنی بلندی تک پہنچے بلکہ کام یابی یہ ہے کہ آپ کی وجہ کوئی کتنی بلندی تک پہنچا اور ابھی جب میں مضمون ختم کررہاہوں تو میرے موبائل پر ایک میسج آیا کہ ”زندگی بہتر ہو تی ہے جب آپ خوش رہتے ہیں کسی بھی وجہ سے، لیکن زندگی بہترین ہوتی ہے جب دوسرے خوش رہیں آپ کی وجہ سے“
 

Add new comment

7 + 3 =