اسٹیو جابز : زندگی کی کہانی- حصہ اول

جون کے مہینے کی چمکتی دھوپ اور طلبائکے چہروں پر خوشگوار مسکراہٹیں اپنی جگہ لیکن ایک شخص کی موجودگی نے ماحول کو چار چاند لگادیئے۔ یہ 12جو ن2005کا دن تھا جب اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے طلبائسروں پر کانوکیشن کیپس اور جسم پر کالی عبائیں پہنے عملی زندگی میں قدم رکھ رہے تھے، کالج کے سالانہ کانووکیشن کے موقع پر ملک بھر سے نامور شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا جو باری باری ڈائس پر آکر طلبائکو اپنے تجربات سے آگاہ کر رہے تھے، کانوو کیشن کے تمام معاملات بخیر خوبی انجام پارہے تھے کہ اچانک اسٹیج سیکریٹر ی کی گرجدار آواز نے سامعین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔دوستوں انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں،اب میں جس شخصیت کو دعوت خطاب دینے جارہا ہوں وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں، آپ نے اپنی بھر پور محنت، لگن اور جدوجہد سے ایک ایسی مشین ایجاد کی جس نے پوری دنیا میں انقلاب بپا کر دیا، اس مشین کی بدولت فاصلے سمٹ گئے، دوریاں قربتوں میں بدل گئیں، علم کے دروازے کھل گئے اور جو کام کل تک ہمارے لئے خام خیال تھا آج حقیقت بن کر ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔آپ کی بھر پور تالیوں میں دعوت خطاب دوں گا ایپل کمپنی کے بانی اسٹیو جابز کو کہ وہ آئیں اور اپنے خیالات کا اظہار کریں۔
تالیوں کی گونج میں پختہ عمر کا یہ شخص جب ڈائس پر آیا تو نہ صر ف طلبابلکہ اساتذہ بھی اس کے استقبال کیلئے کھڑے ہوئے گئے اور فضا کافی دیر تک تالیوں کی گونچ سنائی دی۔
آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے آج اس پر مسرت موقع پر مدعو کیا،پر مسرت لہجے میں جابز نے اپنی تقریر شروع کی، یہ میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں آج ایک ایسے وقت میں آپ کے ساتھ ہوں جب آپ دنیا کی بہترین یونی ورسٹی سے فراغت کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھ رہے ہیں۔، میرے لئے یہ لمحہ اس لئے بھی لائق فخر ہے کیونکہ میں نے کبھی کسی کالج سے تعلیم حاصل نہیں کی۔ سچ پوچھیں تو کالج گریجویٹس کے ساتھ جتنی قربت مجھے آج مل رہی ہے اتنی شاید پہلے کبھی نہیں ملی۔ اس قربت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں آج آپ کو اپنی زندگی کی تین دلچسپ کہانیاں سنا تا ہوں جویقینا آپ سب کیلئے سبق اور عملی زندگی میں کام آئیں گی۔
میر پہلی کہانی معلومات اکٹھا کرنے یا عملی تجربات سے متعلق ہے
میں جب 17سال کی عمر کو پہنچا تو میں نے بھی آپ کی طرح خوبصورت سپنے سجاکر کالج کی دہلیز پر قدم رکھا لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا، ابتدائی 6مہینوں بعد میں نے کالج کو الوداع کہہ دیا اور بقیہ 18مہینے کالج کے اردگر د منڈلاتا رہا۔ آپ سو چ رہے ہوں گے کہ میں نے کالج کیوں چھوڑا؟۔یہ جاننے کیلئے آپ کو تھوڑا سا پیچھے جانا ہوگا۔ میری والدہ کالج کی ایک کم عمر طالبہ تھیں اور اُن کیلئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ میری کفالت بھی کرتی لہٰذا میری ولادت سے قبل ہی اُنہوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ مجھے کفالت کیلئے کسی کے سپر د کر دیں گی۔اُن کی شدید خواہش تھی کہ میری پرورش کوئی ایسا جوڑا کر ے جو کم از کم کالج گریجویٹ ہو۔ اس سلسلے میں ایک وکیل اور اُس کی بیوی سے بات ہوئی تو انہو ں نے حامی بھر لی، یہاں تک کہ تمام قانونی تقاضے بھی پورے ہو گئے لیکن جب میری ولادت ہوئی تو انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ ہمیں تو بیٹی چاہئے۔ خیر میری والدہ نے ایک اور جوڑے سے رابطہ کیا جنہوں نے میری پرورش کی حامی بھر ی لیکن معاملہ جب آخری دستاویزات پر دستخط کا آیا تو پتہ چلا کہ وہ دونوں تعلیم یافتہ نہیں۔ میر ی والدہ نے دستخط سے انکار کر دیا لیکن کچھ ماہ بعد اس شرط پر راضی ہوئیں کہ میرے رضائی والدین ہرحال میں مجھے تعلیم دلائیں گے۔

لہٰذا 17برس کی عمر میں مجھے کالج جاناتھااور میں نے ایک ایسے کالج کا انتخاب کیا جو سٹین فورڈ کی طرح مہنگاتھا، جس پر میرے والدین،جوکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے، کی تمام جمع پونجی خرچ ہوگئی۔تعلیمی سلسلہ شروع ہوا اور میں باقاعدگی سے کلاسیں لینے لگا لیکن مجھے مزا نہیں آرہا تھا، مجھے سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ یہ ڈگری میرے کس کام کی ہے اور جو کچھ میں سوچتا ہوں کیا یہ اُس کے حصول میں میری کچھ مدد کر پائے گی؟۔ مجھے اپنے سوالوں کا جواب ہر مرتبہ نفی میں ملتا۔ میں ایک ایسے منجدھار میں پھنس چکا تھا جہاں سے نکلتا تو مصیبت،نہ نکلتا تو مصیبت۔کالج چھوڑتا تو والدین کی عمر بھر کی کمائی جاتی، نہ چھوڑتا تو دم گھٹتا۔ بالآخر 6ماہ تذبذب کے بعد بالاخر میں اس نتیجے پر پہنچا کے کالج کو خیر باد کہہ دیا جائے۔ اُس وقت شاید یہ میری زندگی کا سب سے احمقانہ فیصلہ ہو لیکن آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو یہ میری زندگی کے بہترین فیصلوں میں سے ایک تھا۔ کیوں کہ جب میں نے یہ فیصلہ کیا اُس وقت میر ے پاس یہ آپشن موجود تھا کہ میں ان بور کلاسوں سے چھٹکارا حاصل کر کے وہ کام کروں جو میرے مزاج سے مطابقت رکھتا ہو اور جس کے کرنے میں مجھے مزا آئے۔ لہٰذا کالج چھوڑنے کے بعد میری زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا،لوگوں کو تو میں احمق نظر آتا لیکن آج جب میں وہ دور یاد کرتا ہوں تواحساس ہوتا ہے کہ کتناسنہرا دور تھا۔ جو پا جو پیسے بچ گئے تھے میں وہ انتہائی احتیاط سے خرچ کرنے لگا،میر ے پاس ہاسٹل میں کوئی کمرہ نہیں تھا لہٰذا میں اپنے ایک دوست کے کمرے میں فرش پر سو جاتا۔کوکا کولا کی کچھ بوتلیں تھیں جو میں نے ایک دکاندار کو واپس دے کر اُس کے بدلے کھانے پینے کی اشیا ئخریدی، میں ہر اتوار کو اچھا کھانا کھانے کیلئے 7میل کا فاصلہ طے کر کے ہری کرشنا مندر جاتا۔مجھے یہ سب بہت اچھا لگتا تھا۔

میں نے کبھی اس چیز کی پروا نہیں کی کہ کون کیا کہتا ہے، میں صرف وہی کرتا جو میرا دل چاہتا۔ اپنے جنون کی خاطر میں نے کئی ایسے کام کئے جس کا نتیجہ بعد میں صفر نکلا لیکن پھر بھی میں نے کرنا وہی تھا جو میرا دل چاہتا۔ مثلاًریڈ کالج (Reed College)نے اُن دنوں ملک بھرمیں کیلیگرافی کی تربیت کا اہتمام کیا۔ پورے کیمپس کا کونہ کونہ ہاتھ سے بنی خوبصورت پینٹنگز سے سجا یا گیا۔میں چونکہ فارغ تھا لہٰذا میں نے سوچا کہ کیوں نہ یہی سیکھا جائے۔ میں نے حروف تہجی کی مختلف اقسام میں مہارت حاصل کرنا شروع کی،فراغت کے باعث میرے ذہن میں نت نئے آئیڈیاز جنم لیتے اور میں اُنہیں کاغذ یا پلے کارڈز پر اُتار تا جاتا، دھیرے دھیرے میں نے محسوس کیاکہ میرے فن میں مہارت آرہی ہے اور یہ کسی بھی طور پروفیشنل آرٹ سے کم نہیں،یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میر ادعویٰ تھا کہ میرے ہاتھ سے کی گئی خطاطی سائنس کے بس کی با ت نہیں۔ لیکن یہ سب کچھ اُس وقت تک تھا جب تک میں کالج میں رہا، جس دن کالج چھوڑا خطاطی بھی چھوٹ گئی۔
دوستوں یہ پوری کہانی سنا نے کا مقصد یہ تھا، زندگی میں تجربات،خواہ وہ اچھے ہوں یا برے، بڑی اہمیت رکھتے ہیں،میں نے کالج کے زمانے میں جو کچھ سیکھا، ممکن ہے وہ اُس وقت میرے لئے احمقانہ اور فضول ہو لیکن 10سال بعد جب ہم نے پہلا macintoshکمپیوٹر ڈیزائن کیا تو یہ سب میرے کام آگیا۔ ہم نے اس کمپیوٹر میں نہ صرف حروف تہجی کے خوبصورت نمونے شامل کئے بلکہ خطاطی کے نت نئے انداز بھی متعارف کروائے اور یہی اس کمپیوٹر کی اہم خصوصیت تھی جس کی بدولت یہ آتے ہی مارکیٹ میں چھا گیا۔ اب آپ سوچئے کہ اگر میں کالج نہ چھوڑتا تونہ ہی میں خطاطی کی کلاسیں لیتا اور نہ ہی اس مقام پر پہنچ سکتا تھا۔یہ کہانی یہ بھی بتاتی ہے کہ ہمارا مستقبل ہمارے ماضی کے کسی نہ کسی نقطے سے ضرور جڑا ہو تا ہے، ہمیں بس اپنے ماضی میں جھانک کر اُن نقطوں کو پہنچاننا ہے اور اُن دونوں کو آپس میں جوڑناہے۔آپ سوچئے کہ اگریہ کمپیوٹر میں کالج کے دنوں میں بناتا تو شاید میرے لئے ممکن نہ تھا کیونکہ میں ایک کورے کاغذ کی طرح تھا لیکن 10برس بعد بے شمار چیزیں میرے عملی تجربات کے باعث آسان ہوگئیں۔یہی میری کامیابی کا پہلا ٹوٹکا ہے۔ لہٰذا فارغ رہنے کے بجائے سیکھئے اور بس سیکھتے رہیے۔
میری زندگی کی دوسری کہانی محبت اور نقصان پر مشتمل ہے
میں بہت خوش قسمت تھا کہ مجھے اپنی ابتدائی زندگی میں ہی ہر وہ چیز مل گئی جس کی مجھے چاہت ہوئی۔ میں جب 20برس کا تھا تو میرے ساتھی ووزنائیک اور میں نے مل کر اپنے والدین کے گیراج میں ایپل بنا نا شروع کیا۔ ہماری دن رات کی انتھک محنت کے سبب 10برسوں میں یہ گیراج 2ارب ڈالر مالیت کے ساتھ 4ہزار ملازمین کی کمپنی میں تبدیل ہو گیا۔ اُس وقت میری عمر 30برس تھی اور ہم نے مارکیٹ میں صر ف macentosh کمپیوٹر ہی متعارف کیا تھا۔یہاں پہنچ کر میری زندگی نے مجھ سے ایک ایسا امتحان لیا جس کی تیاری کا میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ مجھے ملازمت سے برخواست کر دیا گیا۔ آپ حیران ہوں گے کہ جس کمپنی بانی میں خود ہوں وہاں سے مجھے کیسے نکالا جاسکتا ہے؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب ایپل اپنے ابتدائی مراحل میں تھا تو ہم نے ایک شخص کو ملازمت پر رکھا جس کے بارے میں ہمارا خیال تھا کہ یہ ہمارے ساتھ مل کر بہت اچھے طریقے سے کمپنی چلائے گا۔ایک سال یا کچھ عرصہ معاملات اچھے چلتے رہے لیکن پھر اچانک کمپنی کو دھچکا لگا اور ہم نیچے آنا شروع ہو گئے۔ فوری طور پر بورڈ آف ڈائیریکٹرز کی میٹنگ بلائی گئی اور اُنہوں نے سارا الزام میرے سر تھونپ دیا۔اُن کا کہنا تھا کہ اگر وہ میری دی ہوئی رائے پر عمل نہ کر تے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔مجھے ملازمت سے نکال دیا گیا اور نہ صرف نکالا گیا بلکہ سب کے سامنے نکالا گیا۔ میری عمر اُس وقت 30برس تھی اور اپنی پوری جوانی جس چیز پر میں نے صرف کی تھی اُس کا یوں ہاتھ سے نکل جانا یقینا میرے لئے کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ کچھ مہینے تو سمجھ ہی نہیں آئی کہ آخر میں کروں تو کیا کروں۔مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے میرے اندر کی تخلیقی صلاحیتیں ماند پڑ چکی ہیں۔ (بقیہ اگلے آرٹیکل میں)

Add new comment

5 + 0 =