ارادے جن کے پختہ ہوں

اکیسویں صدی کے بعد اگر دیکھا جائے تو آج کا دور ترقی کی انتہائی منزل پر ہے اور دنیا مزید ترقی کررہی ہے، ہر میدان میں ایک سے بڑھ کر ایک چیز ایجاد ہورہی ہے ۔ ہماری زندگیوں میں اتنی آسائشیں در آئی ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے مگر یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ کیوں نہیں ہورہے، دراصل میرے نزدیک ہمارے ملک میں انحطاط تعلیم کا نہیں بلکہ اخلاقیات کا ہے؛ کیونکہ ہمارے اندر اخلاق برائے نام ہی باقی رہ گیا ہے۔ ہمارے اندر بزرگوں کا احترام رہا، نہ ہی احساس اور ایمانداری کا تو جیسے ہم مفہوم ہی بھول گئے ۔ حلال اور حرام میں فرق کرنا بھی ہمیں اب یاد نہیں رہا۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے درودیوار سے اخلاقی دیوالیہ پن جھلکتا ہے۔ملک میں ہر چیز میں بدعنوانی ، رشوت ، منافقت اور جھوٹ پایاجاتا ہے جومعاشرے کی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ہمارا پورا معاشرہ بے حسی اور لاپروائی کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے ۔ اس سے نکلنا انتہائی مشکل دکھائی دے رہا ہے،لیکن اس نفسا نفسی کے عالم میں دنیا میں کچھ شخصیات ایسی بھی پائی جاتی ہیں،جو تعلیم یافتہ کم اور اخلاق یافتہ زیادہ ہوتی ہیں اور یہی خوبی ان کو ترقی کی طرف گامزن کرتی ہے، انہی شخصیات میں سے آج آپ کے سامنے میں ایک ایسی شخصیت کا انٹرویو پیش کرنے جارہا ہوں، جن سے ہماری ادبی تنظیم( پاسبان بزم قلم )کے ممبران نے لاہور ایکسپو بک فیئر پر ملاقات کی اور ان کا تعارف کروانا سورج کے سامنے شمع جلانے کے مترادف ہے، جنہوں نے بہت کم عمری میں ہی سپورٹس پر تحقیقی آرٹیکل لکھ کر اپنا نام بنا لیا اور جو بڑی، بڑی پریشانیوں کے سامنے پہاڑ کی طرح مقابلہ کرتی ہوئی آنے والی نسلوں کو بتلانا چاہتی ہیں کہ
ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
میری مراد سینئر کالم نگار، فیچر رائٹر،شاعرہ اور گراف ڈیزائنر محترمہ عمارہ وحید صاحبہ ہیں
جن کا تعلق لاہور سے ہے اور اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہے اور اپنی ٹانگوں سے بھی معذور ہیں، لیکن ان کے قلم میں جو روانگی ہے وہ قارئین پر جادوئی اثر کرتی ہے اور اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے مزید ان کی زندگی کے بارے میں ہم ان سے جانتے ہیں۔
علیک سلیک کے بعد میں نے پہلا سوال یہ کیا کہ محترمہ آپ کو کم عمری میں ہی لکھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا؟
جواب:چونکہ میں بچپن سے ہی نانا کہ گھر پلی بڑھی سو میرے ننھیال میں اخبار و رسائل اتنے ہی ضروری خیال کیے جاتے تھے ، جیسے کہ خوراک ۔۔۔ اس کے علاوہ میرے منجلے ماموں محمد کلیم خان کو بھی لکھنے لکھانے سے شغف تھا ، دور جوانی میں وہ سیاست سے بھی بڑی حد تک منسلک رہے ۔ انہوں نے ادبی لائن سے باقاعدگی سے وابستگی تو اختیار نہ کی البتہ وہ آج بھی کبھی کبھار نظمیں ترتیب دیتے ہیں۔ کلیم ماموں کو کتابی سلسلوں سے منسوب دیکھ کر بھی میرا لکھنے کا شوق بڑھا اور اس قدر بڑھا کہ دور بچپن میں ، میں درسی کتابوں کی نکول لکھ ڈالتی تھی۔ اس کے بعد اخبار و رسائل میں چھپی تحریریں دیکھ کر دل میں شدت سے خواہش مچلتی تھی کہ کاش میں بھی کچھ لکھ سکوں اور میرا لکھا کہیں پبلش ہو الحمدﷲ میری یہ خواہش پوری ہوئی اور مجھ جیسی ادنی لکھاری کو بغیر کسی سفارش کے وہاں بھی جگہ ملی جو بڑے ادیبوں یا صحافیوں کیلے مختص سمجھی جاتی ہے۔
ہمارا اگلا سوال یہ ہے کہ آپ نے کب سے لکھنا شروع کیا اور پہلی تحریر کس موضوع پر لکھی اور کس اخبار میں کتنے دن بعد شائع ہوئی؟
جواب: تقریباً 2009ء میں لکھنا شروع کیا تھا اور سب سے پہلے میں نے ایک حمد لکھی تھی، جس کا پہلا شعر تھا
کل عالم میں اس کی رحمت کا سایہ ہے
جس نے یہ زمیں و آسماں بنایا ہے
چونکہ اس وقت قلم کاغذ کا دور تھا جو کہ بہت ہی عمدہ اور شاندار تھا اس وجہ سے میں نے یہ حمد لکھ کر بذریعہ ڈاک "خبریں کے شام " میں شائع ہونے والے نیا اخبار کو بھیجی جو کہ پانچویں روز چھپ گئی۔ اس کے بعد کچھ غزلیں اور بھی لکھیں، وہ بھی نیا اخبار میں شائع ہوئیں۔
لیکن میں نے سب سے پہلا آرٹیکل 2014ء میں لکھا، یہ وہ زمانہ تھا کہ جب پی سی بی کے سابق
چیئر مین نجم سیٹھی اور ذکا اشرف کے مابین میوزیکل چیئر کا کھیل جاری تھا ۔ رات کو ان میں سے کوئی ایک چیئر مین ہوتا تھا تو صبح دوسرا بن جاتا تھا چنانچہ نجم سیٹھی اور ذکا اشرف کی میوزیکل چیئر گیم پہ میں نے پہلا آرٹیکل لکھا، جو کہ سپورٹس کے ایک ہفتہ وار اخبار اوپن سپورٹس میں شائع ہوا۔
سوال:آپ کو سپورٹس پر ہی زیادہ لکھنا کیوں پسند ہے، کیا کبھی کسی اور موضوع پر نہیں لکھا؟
جواب:میرا خیال ہے کہ سپورٹس ایک منفرد موضوع ہے، اس موضوع کے ذریعے بہت سی دلچسپ چیزوں کا احاطہ کیا جا سکتا ہے ۔ کھیل کے میدان سے لے کر کھلاڑیوں کی بائیو گرافی تک سمجھنے اور سمجھانے کیلئے بہت کچھ ہوتا ہے ۔ نیز مجھے کرکٹ اور فٹ بال سے شروع سے ہی لگاؤ ہے ۔ اس لیے مجھے کھیلوں پر تحقیق اور تخلیق کرنا اچھا لگتا ہے اور ایسا بھی نہیں ہے کہ میں صرف سپورٹس پہ لکھتی ہوں ، آپ کو میرے کئی آرٹیکلز سیاسی ، سماجی اور کرنٹ ایشوز پہ بھی ضرور ملیں گے لیکن سپوڑس نے مجھے اصل پہچان دی ہے۔
اس کے بعد ہم نے اگلا سوال کیا کہ کیا آپ اپنا مضمون خود ہی لیپ ٹاپ پر کمپوز کرتی ہیں یا پھر کسی کی معاونت حاصل کرتی ہیں، حالانکہ آپ کے ہاتھ حرکت کرتے وقت بھی کپکپاتے ہیں؟
جواب :میں نے اس حوالے سے آج تک کسی سے مدد نہ لی ہے اور نہ ہی مجھے اچھا لگتا ہے۔ میں اپنے بہت سے کاموں کیلئے دوسروں کی محتاج ہوں لیکن جو کام ہم خود کر سکتے ہیں وہ خود ہی کرنا چاہیے۔ میں لیپ ٹاپ پر خود آرٹیکل کمپوز کرتی ہوں اور گرافک ڈیزائننگ بھی کرتی ہوں، کام کیلئے میں نے رات کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔
عمارہ وحید صاحبہ سے ہمارا اگلا سوال یہ تھا کہ اردو ادب میں آپ کے سب سے زیادہ محسن استاد کونسے ہیں؟
جواب: اگر آپ صرف محسن استاد کی بات کرتے ہیں تو میرے محسن استاد، سینئر صحافی ندیم نظر صاحب ہیں۔ جو گاہ بہ گاہ میری تحریروں کی نوک پلک درست کرتے رہتے ہیں اور انہوں نے ہی میری پہلی حمد نیا اخبار میں شائع کی ۔ اس کے بعد بھی لاتعداد آرٹیکل شائع کیے۔ اس کے علاوہ ان کی تحریروں کے مطالعے سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور ابھی تک ان سے استفادہ کرتی رہتی ہوں الحمد ﷲ..!
سوال:آپ اب تک تقریباً کتنی کتب کا مطالعہ کر چکے ہیں اور کیا ابھی بھی کتاب سے مطالعہ کرتی ہیں یا پھر ای لائبریری کا استعمال کرتی ہیں..؟
جواب:یہ بہت آپ نے اچھا سوال کیا ہے، میں اب تک تقریباً تین سو سے زائد کتابوں کا مطالعہ کر چکی ہوں۔ ان کتابوں میں ادبی و اسلامی موضوعات سے لے کر تحقیقی و رومانوی موضوعات پہ مبنی کتابیں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اخبار اور رسائل بہت پڑھے اور اب تک پڑھتی ہوں۔ ای بک سے ہمیشہ مجھے الجھن ہوتی ہے۔ کئی کتابیں پی ڈی ایف کی صورت میں میرے موبائل میں محفوظ ہیں جو دوست احباب بھیج دیتے ہیں تاہم آج تک ایک بھی ای بک نہیں پڑھی ۔ البتہ کسی ٹاپک پر تحقیق یا مواد اکھٹا کرنے کیلئے انٹرنیٹ کا استعمال ضرور کرتی ہوں۔جب سے ای بک کا رواج چل پڑا ہے اس وقت سے ہمارے نوجوان بھی کتابوں سے اپنا رشتہ توڑتے جا رہے ہیں۔
روح تک کو سیراب کر دینے والے جواب کے بعد پھر یہ سوال کیا کہ کیا آپ کی ذاتی لائبریری ہے؟ اور اس میں کتنی کتابیں ہیں؟
جواب:ایسا نہیں کہ میرے گھر میں بہت بڑی لائبریری ہے اور میں نے اس میں دنیا جہاں کی کتابیں اکھٹی کی ہوئی ہے ہاں میرے پاس دو تین سو کے قریب کتابیں ہیں جو ایک چھوٹی سی الماری میں قیمتی اثاثے کی مانند محفوظ ہیں۔ ان میں دینی ، ادبی رومانوی ، اور شاعری کی کتابیں شامل ہیں، گاہ بہ گاہ مطالعہ کرتی رہتی ہوں۔
ہم نے فوراً اگلا سوال یہ کر دیا کہ آپ مستقل کونسے اخبار میں لکھ رہی ہیں ، کیا آپ کو کبھی اخبار کے ایڈیٹر نے کچھ معاوضہ وغیرہ دے کر آپ کی حوصلہ افزائی کی ہے؟
جواب: مستقل طور پر جہان پاکستان سنڈے میگزین میں لکھ رہی ہوں اس سے قبل ، اوصاف، 92، دنیا اور خبریں میں بھی کافی عرصہ لکھا۔جس دن میرا سپورٹس اخبار میں پہلا آرٹیکل شائع ہوا تو میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی ایڈیٹر صاحب نے صاف بول دیا تھا کہ آپ یہ امید نہ رکھیے گا کہ آپ کو کسی قسم کا معاوضہ ملے گا۔ اس کے بعد جتنے بھی بڑے اخبارات میں لکھا وہاں سے یہی بات سامنے آئی کہ آپ کا نام ملک کے نامور اخبار میں چھپ رہا ہے یہی کافی ہے ۔ غرض کہ اپنی تحریر کا کسی اخبار سے کوئی معاوضہ آج تک نہیں لیا، اور آپ خود بھی ماشاء اﷲ اچھا لکھتے ہیں، ادیبوں کو کتنی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اس بات کا آپ کو بھی علم ہے، جی، جی بالکل...!
سوال:کبھی کسی اخبار کے ایڈیٹر نے آپ کو خود کال کر کے اپنے اخبار کے لئے لکھنے کی دعوت دی ہے..؟
جواب:جی ہاں مجھے کئی اخبارات کی طرف سے کہا گیا کہ آپ ہمارے لیے لکھیں لیکن لکھنے کیلئے بھی ایڈیٹر یا اخبار کے ساتھ مائنڈ سیٹ ہونا ضروری ہے۔ آپ کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ کون سا اخبار کیا لکھ رہا ہے، کس قسم کی خبر دے رہا ہے ؟ کیا اخبار کے ذریعے ایسا کام تو نہیں ہو رہا جو ملک دشمنی پر مبنی ہو؟ آپ کو بخوبی اندازہ ہو گا کہ کچھ اخبار ماضی میں ایسا مواد چھاپ چکے ہیں،جو ہمارے ملک و قوم کے حق میں سراسر غلط ہے۔ سو کسی اخبار میں لکھنے سے قبل یہ باتیں ضرور دیکھ لینی چاہیے۔
سوال: یہ تو ٹھیک ہے لیکن اس کے باوجود بھی کبھی آپ کا اس ادبی ذوق سے دل اچاٹ نہیں ہوااور اگر ہوا ہے تو پھر آپ نے اس مسئلہ کا حل کیسے تلاش کیا؟
جواب:دیکھیں جو شوق یا ہنر ہمیں پیدائشی ملا ہو اس سے کبھی دل اچاٹ نہیں ہوتا ہاں مگر زمانے کی بے اعتنائی ، حوصلہ شکنی کبھی کبھار اپنے ہی شوق سے باغی ضرور کر دیتی ہے، لیکن وہ شوق ختم نہیں ہوتا، میری پہچان میری طاقت میرا قلم ہے ، میرا دل اس سے کیسے اچاٹ ہو سکتا ہے۔ ہاں اگر کسی وجہ سے میں نہ لکھ پاؤں یا کسی کی وجہ سے مایوسی ہوئی ہو تو میں کچھ ہفتوں کیلئے لکھنا چھوڑ دیتی ہوں، لیکن اس کے بعد پھر سے لکھنا شروع ہو جاتی ہوں، کیونکہ میں سوچتی ہوں کہ اس معذوری کی حالت میں، میں مخلوق خدا کی خدمت کے لئے کچھ اور تو کر بھی نہیں سکتی، اگر لوگ میری قلمی خدمت سے سیراب ہو رہے ہیں تو میرے لیے یہی کافی ہے اور اسی پر اﷲ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی ہوں۔
نئے لکھاریوں کو یہی کہوں گی کہ منزل تک پہنچنے کیلئے ہمیشہ شارٹ کٹس کارگر ثابت نہیں ہوتے ۔ اگر آپ صحافت ، ادب یا کسی بھی فیلڈ میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اپنے اندر سب سے پہلے مستقل مزاجی پیدا کریں،

پھر ہم نے ان سے پوچھا یہ تو ٹھیک ہے لیکن آپ اس کے علاوہ کچھ اور کیوں نہیں کرلیتی ، آپ کی تحقیقاتی تحریروں سے میں اب تک یہی سمجھتا رہا ہوں کہ آپ نے کم از کم ایم اے اردو تو ضرور کیا ہوگا؟
جواب:دردمندانہ انداز میں کہتے ہوئے فرماتی کہ الحمدﷲ، اﷲ نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں ناظرہ قرآن مجید پڑھ لیتی ہوں اور اس پر مجھے فخر بھی ہے، جہاں تک عصری تعلیم کا سوال ہے تو یہ ایک بے حد لمبی کہانی ہے ۔ چونکہ میں معذور اور cerebral palsy کا شکار تھی چنانچہ میرے والد نے میری ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا ۔ میں بچپن سے والدہ کے ہمراہ نانا اور ماموں کے ساتھ رہی ۔ سکول کبھی نہ گئی گھر پہ ہی استاد کا بندوست تھا۔ لیکن معذوروں کے بارے میں ہمیشہ یہی خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے زیادہ پڑھ لکھ کے کیا کرنا ہے چنانچہ یہی بات میری والدہ کے ذہن میں ڈالی گئی میرے نانا مجھے پڑھانا چاہتے تھے لیکن ان کی وفات کے بعد تعلیمی سلسلہ رک گیا ۔ 2001ء میں نانا کی وفات ہوئی ان دنوں میں نویں جماعت میں تھی لیکن 2017ء میں، میں نے تعلیمی سلسلے کا پھر سے آغاز کیا اور گزشتہ برس اوپن یونیورسٹی سے میٹرک کیا اب ایف اے کا ایڈمیشن بھیج چکی ہوں ۔ اس کے علاوہ گرافک ڈیزائننگ بھی سیکھی میں نے ۔ تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کرنے میں ، میرے روحانی استاد محترم ندیم نظر صاحب کا بہت ہاتھ ہے۔ انہوں نے ہی مجھے اس کی ترغیب دی جس کیلئے میں ان کی شکر گزار ہوں۔
قیمتی وقت کو ضائع کیے بغیر ہم نے ان سے آخری سوال یہ کیا کہ کیا آپ کو شادی کرنے کا شوق نہیں، اگر نہیں تو کیوں اور اگر ہے تو پھر دیر کس بات کی؟
جواب :شادی کا شمار شوق میں نہیں ضرورت میں ہوتا ہے اور یہ ہر ہوش مند مرد و عورت کی ضرورت ہے لیکن معذوری کے ساتھ شادی کرنا خاص طور پہ لڑکی کیلئے پاکستانی معاشرے میں تو ناممکن سی بات ہے۔ ہمارے ہاں تو اچھی بھلی لڑکیوں کو نقص نکال کے چھوڑ دیا جاتا ہے تو پھر ایک ایسی لڑکی جو اپنے کاموں کیلئے دوسروں کی محتاج ہے ، اسے قبول کون کرے گا؟یہی وجہ ہے کہ میں اس بارے اب بالکل نہیں سوچتی۔
محترمہ آپ کا یہ جواب بالکل سو فیصد درست ہے،ہر شخص خودغرضی کے خول میں بند نظر آ تا ہے۔ ہر شخص اپنے بارے میں سوچتا ہے ۔ صبر ، شکر اور قناعت جیسے اوصاف ہمارے معاشرے میں کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔
اگرچہ پاکستان میں معذور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے خصوصی تعلیمی ادارے احسن طریقے سے کام کر رہے ہیں صوبہ پنجاب میں تقریبا 264 تعلیمی ادارے سماعت و بصارت سے محروم ذہنی پسماندگی و جسمانی معذوری کے شکار طلبا کو تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت سے آراستہ کر رہے ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا معذور بچوں کو صرف خصوصی تعلیمی اداروں میں محدود کرکے انہیں معاشرے کا مفید فعال شہری بنایا جا سکتا ہے؟
ہمارے ملک میں حکومت میں وفاقی وزیر اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کی طرف افراد کیلئے بھی نشستیں مختص کرنی چاہیے خصوصی تعلیمی اداروں میں معذور طلبا کی پیشہ وارانہ لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تمام ہم آہنگ ہونی چاہیے معذور طالبات کو آرٹ اینڈ گرافٹ، کھانا پکانے، ڈریس ڈیزائنگ اور بیو ٹیشن کی پیشہ وارانہ تربیت فوراً برسرِ روزگار بنا سکتی ہیں، جبکہ معذور طالب علموں کو کمپیوٹر، انفارمیشن ٹیکنالوجی موبائل ریپئرنگ اور آن لائن جاب کی پیشہ ورانہ تربیت بیروزگاری سے بچا سکتی ہیں۔
میں اپنی اس تحریر کے ذریعے حکومت پاکستان سے یہی اپیل کرتا ہوں کہ معاشرے میں بسنے والے معذور افراد کو ایک الگ قسم کی مخلوق سمجھنے کی بجائے انہیں ایک عام شہری کے طور پہ لیا جائے ۔ معذور افراد کیلئے ہمارے ملک میں سہولیات ناپید ہیں۔ جیسے وہیل چیئرز کیلئے ریمپس، پبلک ٹرانسپورٹ ، مناسب دفاتر و سکولز ، کالجز، اگر اس سلسلے میں کام کیا جائے تو معذور کی زندگی کافی بہتر ہو سکتی ہے۔

Add new comment

1 + 1 =