احمد ندیم قاسمی

احمد ندیم قاسمی 20نومبر 1916ء کو وادی سون سکیسرکے ایک گاؤں ''انگہ'' میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کیمبل پور (جس کا نام بدل کر اٹک رکھ دیا گیا ہے)سے میٹرک کا امتحان پا س کیا۔بعد میں حصول ملازمت کی غرض سے بہاولپور چلے گئے جہاں آپکو محکمہ ایکسائزمیں اسسٹنٹ انسپکٹر کی ملازمت مل گئی۔ملازمت کے دوران ہی آپ نے بہاولپور کے ایس ای کالج سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔آپ کی شاعری کا ابتدائی حصہ بہاولپور میں ہی تخلیق ہوا۔کچھ عرصے بعد آپ لاہور تشریف لے آئے اور 1942ء میں دارالاشاعت پنجاب سے وابستہ ہو گئے۔لاہور کی علمی و ادبی فضا نے ان کی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔بہت کم عرصے میں وہ لاہور کے ادبی حلقوں میں مقبول ہو گئے۔1943سے 1945ء تک مشہور ادبی جریدے ''ادب لطیف ''کی ادارتی ذمہ داریا ں نبھائیں۔1946ء میں ریڈیو پاکستان پشاور سے سکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے منسلک ہوگئے۔قاسمی صاحب نے چند شمارے سویرا کے بھی مرتب کیے جب محمد طفیل نے'' نقوش '' ادبی رسالہ شروع کیا تو احمد ندیم قاسمی ''نقوش'' سے منسلک ہوگئے لیکن جلد ہی ''نقوش'' سے الگ ہو گئے۔1963ء میں حکیم حبیب اشعر کے ساتھ مل کر اپنا مشہور رسالہ'' فنون '' شروع کیا جس نے جلد ادبی حلقوں میں منفرد حیثیت اختیار کرلی۔قاسمی صاحب زندگی کی آخری سانس تک اپنے رسالے ''فنون ''سے وابستہ رہے۔ان کا صحافتی کیریئر خاصہ ہنگامہ خیز رہا۔اس میں شک نہیں کہ وہ بڑے افسانہ نگار اور صف اول کے شاعر تھے۔انہیں دونوں شعبوں میں کمال حاصل تھا۔ان کے شعری مجموعوں میں ''جلال و جمال ''،''محیط''،''دشت وفا''،''شعلہ گل ''اور رم جھم شامل ہیں۔جبکہ ان کی نظموں اور غزلوں کی کلیات الگ الگ شائع ہو چکی ہیں۔
احمد ندیم قاسمی اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں -:مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مدرسے جانے سے پہلے میرے وہ آنسو بڑی احتیاط سے پونچھے جاتے، جو اماں سے محض ایک پیسہ حاصل کرنے میں ناکامی کے دکھ میں میری آنکھوں سے بہہ نکلتے تھے۔ میرے لباس کی صفائی،میرے بستے کا ٹھاٹھ اور میری کتابوں کا ''گیٹ اپ''کسی سے کم نہیں تھا۔گھر سے باہر احساس برتری جاری رہتا لیکن گھر میں داخل ہوتے ہی وہ سارے آبگینے چکنا چور ہو جاتے جنہیں میرے بچپن کے خواب تراشتے تھے۔پیاز،سبز مرچ یا نمک مرچ کے مرکب سے روٹی کھاتے وقت زندگی بڑی ظالم محسوس ہوتی۔جب میں اپنے خاندان ہی کے بچوں میں کھیلنے جاتا تو آنکھوں میں خوف اور دل میں غصہ ہوتا۔ خاندان کے سبھی گھرانے کھاتے پیتے تھے۔میرے والد گرامی پیر تھے۔یاد الہی میں کچھ ایسی محویت کی کیفت طاری ہونے لگی کہ مجذوب ہو گئے جن عزیزوں نے ان کی گدی پر قبضہ جمایا انہوں نے انکی بیوی، دو بیٹوں اور خود ان کے لیے مبلغ ڈیڑھ روپیہ (نصف جس کے بارہ آنے ہوتے) ماہانہ وظیفہ مقرر کیا۔تین پیسے 

روزانہ کی آمدنی میں اماں مجھے روزانہ ایک پیسہ دینے کے بجائے میرے آنسو پونچھ لینا زیادہ آسان سمجھتی تھیں۔گھرانے کی اس عزت کے احساس نے مجھے وقت سے پہلے ہی حساس بنادیا۔لیکن عالم یہ تھا کہ جب ہم بہن بھائی اپنی اماں کا ہاتھ بٹاتے،وہ چرخہ کاتتیں اور ہم پونیاں بناتے۔وہ چکی پستیں تو ہم مل کر گیت گاتے،وہ کوٹھے کی لپائی کرتیں تو ہم سیڑھی سے چمٹے کھڑے رہتے۔ہمارے والد 1942ء میں انتقال فرماگئے۔جب ہم سب اکٹھے ہوتے اور بارش ہونے لگتی تو اماں دہلیز کے پاس بیٹھ جاتیں۔ہم دونوں ان کے آس پاس بیٹھ جاتے۔باہر آنگن میں بلبلے ان گنت گنبدوں کا فرش بچھاتے اورآنگن کی بیریوں کے پتے اڑکر ہمارے پاس آ جاتے۔باہر گلیوں میں ننگ دھڑنگ بچے بارش میں نہاتے اور چلاتے تو اماں ہمارے سر پر ہاتھ پھرتیں، اور بڑے دکھ سے کہتیں۔ بوند بوند کے ساتھ فرشتے زمین پر اتررہے ہیں۔اے پاک فرشتوں خدا کے دربار میں جا کر مجھ دکھیاری کی طرف سے عرض کرنا کہ میں نے تو جو دکھ بھگتے سو بھگتے میرے ان بچوں کو کوئی دکھ نہ دینا۔میں نے انہیں بڑ ی مشکل سے پالا پوسا ہے۔یہ پڑھیں لکھیں، نیک اور لائق بنیں اور دنیا میں نام پیدا کریں۔اے خداوند ان کی قسمتوں کے کاٹنے پھول بنا دینا اگر یہ نہ ہوسکے تو یہ کاٹنے میری قسمت میں لکھ دینا۔یہ بچے میراکل اثاثہ ہیں۔ بس اتنا کر دیناکہ میں ان کے دکھ نہ دیکھوں۔بوند بوند کو پکار رہی ہوں۔میری پھٹی ہوئی پوروں اور کٹی ہوئی ایڑیوں کی لاج تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ یا رب العلمین۔پھر ماں زیرلب کوئی آیت کریمہ پڑہتیں اور ہم تینوں پر ''چھو''ہوتے ہی زندگی کی ڈالیاں پھولوں سے لد جاتیں۔مہکاروں اور چہکاروں کا ایک طوفان امڈ آتااور ہم موسلا دھار بارش میں ناچتے کودتے اپنی بیریوں کے بیر چننے بھاگ جاتے۔اماں پکارتیں۔کیڑا ہے بیر میں۔میں اپنی بھد ی آواز میں گاتا۔کیڑا ہے بیرمیں۔دانہ ہے ڈھیر میں۔رتی ہے سیر میں......کھا جاؤ۔ بھائی جان مجھے کہتے تم اصل میں میراثی ہو۔تمہیں تو ہم نے رحم کھا کر اپنے گھر میں رکھ لیا ہے۔بھائی جان بیرکی گٹھلی تاک کر میری موٹی سی ناک پر مارتے اور میں ایک درد مند فریادی بن کر اماں کے حضور اپنی بے گناہی ثابت کرنے چلا جاتا۔ ماں کی محبت کا میں اس لیے سپاس گزار ہوں کہ اس محبت نے مجھے پتھر نہیں بننے دیا۔اگر میرے ادب میں Pathosکا کہیں وجود ہے تو یہ میری اماں کی دین ہے۔اگر میں انفرادی دکھ کے قلعے سے نکل آیا ہوں تو یہ بھی انہی کی دین ہے۔احمد ندیم قاسمی ایسے ہی شخص تھے،انہوں نے اپنی تمام زندگی استحصالی طبقوں اور آمریت کے خلاف معرکہ آرائی میں گزار دی۔شعرو ادب میں ان مٹ نقوش ثبت کئے۔صحافت میں ایسی مثالیں قائم کیں جو آنے والے نوجوان صحافیوں کے لیے نقش راہ ہیں، اس قدر متحرک زندگی گزارنے کے باوجود ان کی زندگی واقعتا کسی آیئنے کی طرح شفاف سور بے داغ رہی۔ علم و ادب کا یہ شاہکار انسان 10جولائی 2006ء کو 90سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی کو جا ملے۔

آٹیکل:
فرانسسِ زیوئیر

Add new comment

1 + 5 =