کیتھولک یوتھ سنٹر ایوبیہ میں قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات اور سیگنس پاکستان کی جانب سے چار روزہ میڈیا ٹر یننگ

  مورخہ 22 تا25جولائی 2022کو کیتھولک یوتھ سنٹر ایوبیہ میں قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات اور سیگنس پاکستان کی جانب سے چار روزہ میڈیا ٹر یننگ کا اہتمام کیا گیا۔جس میں پاکستان بھر سے نوجوانوں نے شرکت کی۔اس میڈیاٹر یننگ کا مقصد نوجوانوں کو جدید میڈیا سے ہم آہنگ کرنا اور پروڈکشن کے معیار کوبہتر  بنانا تھا تاکہ میڈیا کے ذریعے مسیحی ایمان کے فروغ کو مزید موئثر بنایا جا سکے۔ 
فضیلت مآب آرچ بشپ جوزف ارشد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کلیسیاء کا  اہم حصہ ہے اس لیے بائیبل مقدس کی تعلیمات اور پرچار کے لئے ہر کوئی میڈیا کا استعمال کرے۔نیز انہوں نے کلیسیائی قوانین اورتعلیمات کی روشنی میں بتایا کہ میڈیا کے ذریعے انجیلی بشارت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ بشپ جی نے میڈیا کے کام کو بلاہٹ گردانا اور کہا کہ میڈیا سے وابستہ ہوتے ہوئے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ سچائی کو بیان کریں اور اتحاد کو فروغ دیں اور ایسے مواد کو رد کریں جو معاشرے میں بگارڑ کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیتھولک میڈیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی تر بیت کرے۔اور آپ سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ کیتھولک پلٹ فارم سے سیکھیں اور دوسروں کو بھی سیکھائیں۔انہوں نے کہا کہ قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات ہر ڈایوسیس کی مدد اور راہنمائی کے لیے تیار ہے۔ فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے ریورنڈ فادر قیصر فیروز اور ساری ٹیم کو  ورکشاپ کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ مستقبل میں ہر ڈایوسیس میں ایسی  ورکشاپ کا اہتمام کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مومنین میڈیا کی اہمیت کو جان سکیں اور اس کے ذریعے کلام کے پرچارمیں اپنا اہم کردار ادا کر سکیں۔
اس ٹریننگ کے پہلے روز،جناب عمانوائیل نینو نے ”کیتھولک علم ِالہیات کی اصطلاحات“کے حوالے سے رہنمائی کی۔ انہوں نے کہا کہ الفاظ کے غلط اْتار چڑ ھاؤ سے بات کا اصل مفہوم کھو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ لوگوں تک سچائی نہیں پہنچتی۔مزید بتایا کہ ہمیں کیتھولک لطوریاکے مطابق منتخب الفاظ کااستعمال کرتے ہوئے اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہے۔
 ر یورنڈ فادر قیصر فیروز نے ”صحافت کے ضابطہء اخلاق“ کا تاریخی پس منظر بیا ن کیا۔انہوں نے بتایا کہ صحافت ایک خدمت اور ایک مشن ہے۔انہوں نے کہا کہ سچائی،اظہارِ رائے کی آزادی،جمہوریت اور امن و انصاف کا فروغ صحافت کی اقدار ہیں۔نیز انہوں نے ایک اچھے صحافی کی شخصی اور پیشہ وارانہ خوبیوں کو بھی تفصیل سے بیان کیا۔علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ ایک اچھا اور ماہرصحافی وہ ہے جو انسانی عظمت اور انسانی حقوق کو فروغ دیتا ہے۔ 
اس ٹریننگ کے دوسرے روز جناب ایاز گلزار نے ”خبر لکھنے اور حقائق کی جستجو“کے حوالے سے شرکاء کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ خبر ہماری زندگی پر بہت بڑا اثر ڈالتی ہے۔خبر معاشرے کی تشکیل کرتی ہے۔انہوں نے خبر لکھنے اور حقائق کی جستجو کرنے کے ْہنر کو موثر بنانے کیلئے رہنما اصولوں پر روشنی ڈالی۔
اپنے سیشن کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم میں سے ہر ایک کوعہد کرنا ہے کہ”میں کیتھولک مسیحی ہوں اور صحافت کی خدمت پوری وفاداری سے نبھاؤں گا“۔
جناب اسلم راؤ نے ”ٹی وی اور ریڈیو کیلئے فنِ خطابت اور صدا کاری“کے بارے میں نہایت تفصیل سے بتایا۔سب سے پہلے انہوں نے الفاظ کی اہمیت کے بارے میں بتایا کہ ہماری زبان سے بولے جانے والے چندجملے ہماری پہچان ہوتے ہیں۔اس کے بعد بتایا کہ اصلی Broadcasterوہ ہوتا ہے جو بولے کم کہے زیادہ۔وہ دوسروں کیلئے ایک عالم،ایک باپ،ایک گواہ اور ایک طرح کی دوا ہوتا ہے۔
اْس کی ذمہ داری والدین جیسی ہی ہوتا ہے۔وہ ایک اداکار بھی ہوتا ہے۔Broadcaster وہ ہے جو اپنے لفظوں کی عزت جانتا ہو۔انہوں نے بتایا کہ آواز،لفظ اور تلفظ کی ادائیگی مضبوط ہونی چاہیئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختلف سرگرمیوں کے ذریعے گلے اور آواز کی مشقیں کروائیں۔
ریورنڈ فادر انتھنی ابراز نے  ”گڈ نیوز ٹی وی“ کراچی کی کامیابی کی کہا نی بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس
 ٹی وی کا خواب ریورنڈ فادر آرتھر چارلس نے 2008میں دیکھااور بشپ ایورسٹ پینٹو (ایمیری تْس) نے اس کی تعبیر کی اجازت دی۔انہوں نے بتایا کہ اس ٹی وی کے قیام کا مقصد خدا کے کلام کو جدید میڈیا کے ذریعے انگریزی اور اْردو زبان میں فروغ دینا تھا۔یہ پہلا کرسچن ویب سائٹ ٹی وی تھا جسے بعد میں سیٹلائٹ پر منتقل کر دیا گیا۔نیز فادر موصوف نے گڈ نیوز ٹی وی کے جاری پروگراموں کے پروموں اور مستقبل کے منصوبوں کو پیش کیا۔
ٹریننگ کے تیسرے روز کا آغازجناب راج جلال کے سیشن سے ہوا۔جنہوں نے ”فوٹوگرافی اور ویڈیو گرافی“ میں تکنیکی رہنمائی کی۔انہوں نے کیمرہ کے جدید فیچرز،درست استعمال اور بہترین نتائج کے لئے لائٹس کی سمتوں کے بارے میں بتایا۔بعدازاں فوٹوگرافی اور ویڈیو گرافی کی مشقیں کروائیں اور تمام شرکاء کی بنائی ہوئی تصویروں کا تجزیہ کیا۔
 مسِ مہک آسکر نے ویڈیو گرافی اور فوٹوگرافی کیلئے میک اپ کی ضرورت اور اہمیت کو بیان کیا۔نیز عملی طور پر چہرے کے خدوخال کے مطابق میک اپ کرنے کی تربیت دی۔
ریورنڈ فادر قیصر فیروز نے یو ٹیوب کیلئے ویڈیو کی تیاری میں لازمی عناصر کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک اچھی ویڈیووہ ہوتی ہے جو ہمارے خواسِ خمسہ کو چھو جائے۔ نیز انہوں نے ویڈیو کی پری پروڈکشن،پروڈکشن  اور پوسٹ پروڈکشن کے مراحل کو بیان کیا۔
علاوہ ازیں کاپی رائٹس،میوزک  کے استعمال،بولنے کی مہارت یعنی (وائس اوور) اور معیاری کام کرنے کے حوالے سے تربیت دی۔
جناب جیسبر عاشق (ڈائریکٹر کیتھولک ٹی وی)نے کیتھولک ٹی وی کی کامیابی کی کہانی کو مختلف پروموں کے ذریعے بڑ ی خوبصورتی سے پیش کیا اور بتایاکہ اس ٹی وی کا آغاز ریورنڈ فادر مورس جلال کی کاوش سے 2009میں ہوا۔پہلے یہ ایک کیبل ٹی وی تھا۔2009سے 2012کے عرصہ کے دوران مقامی لوگوں کی معاونت سے یہ چینل خوب چلااور لوگوں کی ایمانی ضرورت کو پورا کرتا رہا۔لیکن 2012سے 2013کے درمیانی عرصہ میں چند وجوہات کی بنا پر یہ ٹی وی بند کرنا پڑا۔لیکن 14فروری2014کو سیکرڈ ہارٹ کیتھڈرل لاہور میں،فضیلت مآب آرچ بشپ سبیسٹین فرانسس شاء کے دستِ مبارک سے اس کا دوبارہ افتتاح ہوا۔اس کا مقصد کیتھولک عقیدے اور کیتھولک تعلیم کو فروغ دینااورنوجوانوں کی صلاحیتوں کو اْجاگر کرنا ہے۔
تربیتی ورکشاپ کے آخر روزریورنڈ فادر قیصر فیروز نے اپنے سیشن کا آغاز پوپ فرانس کی اس بات سے کیا کہ سوشل میڈیا خدا کا تحفہ ہے اس لئے ہمیں اس تحفہ کا بہترین استعمال سیکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا انجیلی بشارت کے موثر مواقع فراہم کرتا ہے۔نیز انہوں نےModel    VAD  کے ذریعے وائرل مواد پر روشنی ڈالی۔
جناب فریاد فرانسس نے آوے ماریہ کیتھولک ٹی وی کی کامیابی کی کہانی کو بیان کیا اور کہا کہ آوے ماریہ کا مطلب ہے سلام اے مریم اور یہ پاکستان کا واحد ایسا چینل ہے جو مقدسہ مریم کے نام سے منسوب ہے۔آوے ماریہ کیتھولک ٹی وی کا مقصد امن واْمید کو فروغ دینا اور انجیل کو دْنیا کے کونے کونے تک پہنچانا ہے۔
اس کا آغاز 2009میں ایک مائیک،ایک کیمرہ اورایک سٹینڈ سے ہوا۔جبکہ اس کا باقاعدہ آغازیکم نومبر2020میں ہوااور اب ایڈیٹنگ روم اور بہترین آلات ِریکارڈنگ سے مزئین سٹوڈیومیں اس کے پروگرامز ریکارڈ کئے جاتے ہیں۔
اس ٹر یننگ کی کامیابی پر فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشدنے شکرگزاری کی پاک ماس خدا کے حضور گزرانی۔ اورآخر میں بشپ جی نے تمام شرکا ء میں نے اپنے دستِ مبارک سے اسناد تقسیم کیں۔
 ریورنڈ فادر قیصر فیروز نے تمام بشپ صاحبان،ہر ڈایوسیس کے فیس بْک اور یوٹیوب چینلز کے ڈائریکٹرز،تمام ٹرینزرز اورشرکاء کا ان کے بھر پور تعاون کیلئے اْن کاشکریہ ادا کیا۔

Add new comment

7 + 9 =