لا ہور کے دو تا ر یخی گر جا گھر و ں کو سٹیٹ آف دی آرٹ بنا نے کا منصو بہ تیار

حکو متِ پنجا ب کا مذ ہبی سیا حت کو فر وغ د ینے کے سلسلے میں لا ہور کے سیکرڈ ہا رٹ کیتھڈرل اور چرچ آف ر یز و ریکشن کی تزئین و آرائش کاتا ر یخی فیصلہ
 لا ہو ر کی خوبصورتی میں ایک اضافہ یہاں موجود تاریخی عمارتیں بھی کرتی ہیں۔ یہاں مغلیہ دورِ حکومت کی طرزِ تعمیر موجود ہیں تو برطانوی نو آبادیاتی نظام کی شاہکار عمارتیں بھی موجود ہیں۔ حکومت نے ایسے ہی شاندار انجینرنگ کے حامل دو گرجا گھروں کو سٹیٹ آف دی آرٹ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سیکرڈ ہارٹ کیتھڈرل اور کیتھیڈرل چرچ آف ر یز و ریکشن کی تزئین و آرائش کی جائے گی۔تاریخی کیتھیڈرل چرچ آف ر یز و ریکشن مال روڈ پر واقع ہے۔ اس کی تعمیر 1888 میں برطانوی ماہر تعمیرات مسٹر جے ا یلڈس اسکاٹ کی زیرنگرانی مکمل ہوئی۔ اس گرجا گھر کی عمارت کی بحالی کاکام دوسری بار کروایا جا رہا ہے۔لارنس روڈ پر واقعہ سیکرڈ ہارٹ کیتھڈرل کی تزئین و آرائش بھی کی جائے گی۔ بیلجیئم میں ایک ماہر تعمیرات ایم ڈبلیو ایئر نے اس عمارت کا نقشہ تیار کیا۔اس کیتھڈرل کی عمارت کی بنیاد 1902 میں رکھی گئی تھی۔دونوں تاریخی گرجا گھروں کی عمارت کی دیواروں کی بحالی کا کام ہوگا۔اس کے علاوہ یہاں پائپ لائن اور بجلی کی تاروں کو انڈرگراؤنڈ کیا جائے گا۔  اس منصوبے کا تخمینہ 5 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ تمام اخراجات محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور ادا کرے گا۔اس حوالے سے وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین نے بتایا کہ بحالی کا کام ورلڈ سٹی اتھارٹی کے ساتھ مل کر مکمل کریں گے۔ بشپ صاحبان نے حکومتی اقدام کو سراہا ہے۔ حکوم کا کہنا ہے کہ بحالی اور تزئین و آرائش کا کام ایک سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ دونوں کیتھڈر لز جہاں اپنی مذہبی اور ثقافتی حیثیت رکھتے ہیں وہیں اب ان کو سٹیٹ آف دی آرٹ کا بھی درجہ دینے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے۔

Add new comment

1 + 14 =