لاہور کی عدالت نے توہین مذہب کے الزامات میں مسیحی نوجوان کو موت کی سزا سنادی

فیکٹری ورکر آصف پرویز کو 2013 سے توہین رسالت کے غلط اور بے بنیاد الزامات کے باعث سزائے موت کا حکم سنایا گیا ہے۔گارمنٹس فیکٹری کے کارکن، آصف پرویز پر ان کے سپروائزر سید احمد کھوکھر نے الزام لگایا تھا کہ وہ ٹیکسٹ میسج کے ذریعہ پیغمبر اسلام کے بارے میں ہتک آمیز تبصرے بھیجتا تھا۔ آصف پرویز کا یہ بیان ہے کہ اس کی گم شدہ سم کارڈ کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ اور وہ بے گناہ ہے۔ ان کے وکیل سیف الملوک نے  بتایا کہ وہ اس فیصلے پر اپیل کریں گے کیونکہ یہ فیصلہ بغیر کسی ثبوت کے سنایا گیا ہے۔ اس امر پر پاکستانی مسیحی برادری اور عالمی میڈیا نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Add new comment

8 + 3 =