سکردو کے مضافاتی گاؤں کواردو میں مقدس صلیب دریافت

    بلتستان نیونیورسٹی کی ریسرچ ٹیم نے کواردو میں ایک ہزار سال پرانی مقدس صلیب دریافت کرلی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان کی سربر اہی میں سہ رُکنی ٹیم جس میں ڈائریکٹر اکیڈمکس ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکرؔ اور ڈائریکٹر بین الاقوامی اُمور ڈاکٹر اشتیاق حسین شامل ہیں، نے متعلقہ مقام کا دورہ کیا۔جو دریائے سندھ کے اُس پارکواردو سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑی کی اونچائی میں ہے۔اس موقع پر کوہ پیماء اور مقامی لوگ بھی موجود تھے۔ صلیب سنگِ مرمرکے پتھر کو تراش کر بنائی گئی۔ جس کا وزن قریب تین سے چار ٹن ہے۔ لمبائی اور چوڑائی میں اس کا سائز چھ سے سات فٹ ہے۔ تحقیقی ٹیم کا خیال ہے کہ یہ مقدس صلیب آج سے ایک ہزار یا بارہ سو سال قبل اس مقام پر نصب کی گئی ہے۔ یہ ہمالیہ اور قراقرم کی وادیوں میں آثارِ قدیمہ کی زبردست دریافت ہے۔ تحقیقی ٹیم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صلیب بدھ ازم کے زوال اور اسلام کے آغاز کے درمیان موجود عرصہ کی نشاندہی کرتی ہے۔  وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے کہا کہ ایسالگتا ہے کہ قراقرم کی وادیوں میں یہ صلیب آسمانوں اور جنت سے لائی گئی ہے۔ شاید یہ بلتستان کی اوّلین تاریخ ہے۔جس میں مقدس آثارِ قدیمہ کی دریافت ہوئی ہے۔  ادیانِ عالم کی تاریخ میں مقدس صلیب کو ایمان کا قریبی حصہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ  بلتستان یونیورسٹی بہت جلد یورپ اور شمالی امریکہ کہ جامعات سے رابطہ کرے گی اور اُن کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے مل کراس صلیب کی سائنسی و تاریخی توجیہہ تلاش کرے گی۔ 
ریورنڈفادر منیڈس بونی نے آثارِقدیمہ کی اس نئی دریافت کے بارے میں کہا کہ یہ نئی دریافت پاکستان میں مسیحیت کی تاریخ پر نئی روشنی ڈالتی ہے۔ریورنڈ فادر گلشن برکت،تاریخِ کلیسیا کے پروفیسر نے کہا کہ یہ دریافت ناقابلِ انکار اہمیت کی حامل ہے۔ہمیں مزیدکھدائی کی ضرورت ہے۔انہوں نے حکومتِ پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ پاپائی یونیورسٹیوں سے تاریخ دان اور ماہرین ِآثارِ قدیمہ کو مدعو کیا جائے اور اس صلیب کی کاربن تاریخ کا سوراغ لگایا جائے۔صلیب کی تاریخ کا کھوج لگاتے ہوئے ریورنڈ فادر گلشن برکت نے کہا کہ چوتھی صدی میں جب سلطنتِ فارس میں رہنے والے مسیحی ایذارسانیوں کا شکار ہوئے تو انہوں نے بھاگ کر ہمالیہ اور قراقرم کی ان پْرامن وادیوں میں پناہ لی۔جس میں کواردو وادی بھی شامل ہے۔بعد ازاں یہ وادیاں بشارت اور مسیحی آباد کاری کا مرکز بن گئیں۔انہوں نے ایک اور تاریخی  حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تْرک منگول قبیلہ کے بادشاہ نے 1009میں مسیحیت کو قبول کر لیا تھا۔ کرویت قبیلہ اگلے 200سال تک مسیحی قبیلہ کی حیثیت سے جانا جاتارہا۔قراقرم کرویت کا دارالخلافہ تھا۔دریافت کی جانے والی یہ صلیب بتاتی ہے کہ عین ممکن ہے کہ کرویت قبیلہ کواردو وادی سے گزرا  یا اس وادی  میں رہنے والے لوگوں کو مسیحیت  سے متعارف کروایا۔ دیگر مورخین کا کہنا ہے کہ سکردو  کے اس قدیم علاقے سے صلیب کا دریافت کیا جانا اس خطے میں مسیحیت کی تاریخ کا منہ بولتا اور زندہ ثبوت ہے۔  

Comments

Praise the Lord God Amen

Add new comment

16 + 2 =