ریورنڈ فادر فرانسیس صابر کے والد محترم بابو صابر وکٹرخداوند میں ابدی نیند سو گئے۔

مورخہ21 ستمبر 2021 کو ریورنڈ فادر فرانسیس صابر کے والد محترم بابو صابر وکٹرخداوند میں ابدی نیند سو گئے۔ وہ گذشتہ کئی روز سے نجی ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ 
ان کی جنازے کی آخری رسومات 22 ستمبر کو سینٹ فرانسیس پیرش، کوٹ لکھپت، لاہور میں ادا کی گئی۔ دکھ کے اس مو قع پر یوخرستی عبادت گزرانی گئی جس کی قیادت فضیلت مآب آرچ بشپ سبیسٹئن فرانسیس شاء نے فرمائی، جبکہ ان کی معاونت ریورنڈ فادر فرانسیس صابر (پاکستان میں کیپوچن برادری کے سردار اعلی)، ریورنڈ فادر یونس شہزاد (پاکستان میں ڈومینیکن برادری کے سردار اعلی)، ریورنڈ فادر فرانسیس گلزار (وکر جنرل، لاہور)، اور ریورنڈ فادر خان پولوس (او۔ایم۔آئی برادری کے سردار اعلی) نے فرمائی۔
عبادت کے دوران اپنے پیغام میں بشپ جی نے کہا کے بابو صابر میرے بہت اچھے دوست تھے اور سچے مسیحی بھی تھے۔ ان کی زندگی کی بہت سی یادیں ہیں، جو نظر انداز نہیں کی جا سکتی ہیں۔
ریورنڈ فادر فرانسیس صابر نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اْن کی زندگی مکمل طور پر خدا کی تابعداری میں گزری اور انہوں نے اپنا ہر قدم کلیسیاء کی ترقی کے لیے اْٹھایا۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج ان کے خاندان سے دو کاہن یہاں پر موجود ہیں۔ انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو کہ ابھی تک شائع نہیں کی گئی جس کا عنوان انہوں نے رکھا تھا،
''اوور سے نارووال تک ''
وہ ایک دلیر، بے باک اور مضبوط ایمان کے حامل شخص تھے، ہم سب ان کی زندگی بھر کی محنت کے لئے، جو انہوں نے خاندان اور کلیسیاء کے لئے کی شکریہ ادا کرتے ہیں۔
عبادت کے فورًا بعد بشپ جی نے جنازے کی رسومات ادا کیں، اس موقع پر غمزدہ خاندان کے ساتھ غم میں شریک ہونے کے لیے کثیر تعداد میں کاہنانہ برادری، سسٹرز صاحبات، برادرز،مناد صاحبان اور مومنین نے شرکت فرمائی اور انہوں نے بابو صابر سے اپنی دِلی محبت کا اظہار اُن کو پھولوں کے گلدستے پیش کرکے کیا۔اِس موقع پر بہت سے مومنین نے چرچ میں رکھے گئے خصوصی رجسٹرز میں بابو صابر وکٹرکی شخصیت کے بارے میں اپنے تاثرات اور تجربات کا اندراج بھی کیا۔
بابو صابر کے جسد خاکی کو نارول کے علاقے لہلیاں میں سپردخاک کیا گیا۔
 

Add new comment

2 + 1 =